آئے ہو تو کیا لے کر آئے ہو، جاؤ گے تو کیا دے کر جاؤ گے
---روما محمود---
ایک خوبصورت پنجابی محاورہ ہے جو زندگی کی حقیقت کو بالکل سیدھا اور کھول کر بیان کر دیتا ہے۔
"آئے ہو تو کیا لے کر آئے ہو، جاؤ گے تو کیا دے کر جاؤ گے"۔
یہ صرف دو لائنوں کا جملہ نہیں، بلکہ ایک مکمل فلسفہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان اس دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ درمیان کے وقت میں اس نے کیا لیا اور کیا چھوڑا؟
کیا وہ لوگوں کے دلوں میں یادگار بن کر گیا، یا صرف اپنا نام لے کر گیا؟
آج کی تیز رفتار دنیا میں یہ محاورہ خاص طور پر اہم ہو گیا ہے۔ سیاستدان، تاجر، سرکاری افسران، فنکار، استاد، والدین ۔
سب کے لیے یہ ایک آئینہ ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ کتنی بڑی گاڑی، کتنا بڑا بنگلہ، کتنا اکاؤنٹ… مگر یہ محاورہ پوچھتا ہے: تم نے کیا دیا؟
کتنے لوگوں کی زندگی بدلی؟
کتنے لوگوں کو امید دی؟
کتنا علم، اخلاق، اور محبت چھوڑ کر جا رہے ہو؟
اگر ہم موجودہ سیاست کی طرف دیکھیں تو یہ محاورہ بہت کچھ کہتا ہے۔ کتنے ہی لیڈر آتے ہیں، بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں، لوگوں سے ووٹ لیتے ہیں، اقتدار حاصل کرتے ہیں، مگر جاتے وقت صرف خالی جیب اور خالی وعدے چھوڑ جاتے ہیں۔
کچھ لوگ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو آتے وقت تو کچھ بھی نہیں لاتے، مگر جاتے وقت قومی خزانہ، اداروں کی ساکھ اور عوام کا اعتماد لے کر چلے جاتے ہیں۔
اس کے برعکس، اگر کوئی لیڈر واقعی کچھ لے کر آئے ۔
ویژن، ایمانداری، اور عوام کی خدمت کا جذبہ اور جاتے وقت تعلیم، صحت، امن اور ترقی کی بنیاد چھوڑ جائے تو اس کا نام تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔ قائد اعظم، علامہ اقبال، اور عبدالستار ایدھی جیسے لوگوں نے یہی کیا۔ وہ خالی ہاتھ آئے، مگر جاتے وقت لاکھوں دلوں میں جگہ چھوڑ گئے۔
گھروں میں بھی یہی حال ہے۔
بہت سے والدین اولاد کو صرف دولت اور جائیداد دینے کی فکر میں لگے رہتے ہیں، مگر یہ محاورہ پوچھتا ہے۔
تم نے انہیں کردار، اخلاق، اور ذمہ داری کا سبق دیا؟ جب تم جاؤ گے تو کیا چھوڑ کر جاؤ گے صرف پراپرٹی، یا ایک اچھا انسان؟
اساتذہ، ڈاکٹر، انجینئر ہر پیشے والے کے لیے یہ محاورہ چیلنج ہے۔ استاد جو طلبہ کے ذہن روشن کر جائے، ڈاکٹر جو صرف علاج نہ کرے بلکہ امید بھی دے جائے، وہ سب "کچھ دے کر" جا رہے ہوتے ہیں۔
زندگی ایک عارضی مہمان نوازی ہے۔ ہم سب یہاں چند دن، چند سال، یا چند دہائیوں کے لیے آئے ہیں۔ آتے وقت تو سب خالی ہاتھ آتے ہیں، مگر جاتے وقت ہر ایک کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ ضرور ہونا چاہیے ۔
چاہے وہ علم ہو، محبت ہو، خدمت ہو، یا اچھی یادوں کا خزانہ۔
اس محاورے کو اپنا بنا لیں۔ ہر صبح اٹھ کر خود سے پوچھیں۔
آج میں کیا لے کر آیا ہوں اور آج میں کیا دے کر جانا چاہتا ہوں؟
اگر ہم سب یہ سوال روزانہ پوچھیں تو معاشرہ بدل سکتا ہے۔ سیاست صاف ہو سکتی ہے۔ گھر خوشگوار ہو سکتے ہیں۔ اور جب ہم آخر کار اس دنیا سے جائیں تو پیچھے کچھ اچھا چھوڑ کر جائیں ۔
نہ کہ خالی ہاتھ اور خالی نام۔
یہ پنجابی محاورہ نہ صرف زبان کا جوہر ہے، بلکہ زندگی کا سبق بھی۔ اسے سن کر گزر جانے کے بجائے، اس پر عمل کرنے والا بن جائیں۔ تب جا کر زندگی کا اصل حساب درست ہو گا۔
پنجاب کی مٹی کی یہ خاصیت رہی ہے کہ یہاں کی بولی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ زندگی کا پورا ایک نصاب ہے۔ یہاں کے دیہاتوں، چوپالوں اور بوڑھے برگد کے پیڑوں تلے جو دانش جنم لیتی ہے، وہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے فلسفے پر بھاری پڑتی ہے۔
انہی دانائی کے موتیوں میں سے ایک یہ جملہ ہے۔
"آئے ہو تو کیا لائے ہو؟ جاؤ گے تو کیا دے کر جاؤ گے؟"
بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی تہوں کو کریدا جائے تو یہ انسانی نفسیات، سماجی تعلقات اور زندگی کے مقصد کا ایک مکمل آئینہ دار ہے۔
آج کے دور میں جب ہم اس جملے کو سنتے ہیں، تو پہلی سوچ اکثر مادی اشیاء کی طرف جاتی ہے۔ "آئے ہو تو کیا لائے ہو؟" کا مطلب اب اکثر یہ لیا جاتا ہے کہ مہمان ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ لایا ہے یا کوئی قیمتی تحفہ؟ اور "جاؤ گے تو کیا دے کر جاؤ گے؟" سے مراد یہ لی جاتی ہے کہ رخصت ہوتے وقت وہ میزبان کی جیب یا انا کو کتنا تسکین دے کر گیا۔
لیکن پنجابی ثقافت میں اس کا مطلب کبھی بھی محض "لینا دینا" نہیں تھا۔ یہ سوال دراصل "خلوص" اور "تاثر" کا تھا۔ جب کوئی کسی کے گھر آتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ اپنی شخصیت کی خوشبو، اپنی گفتگو کا سلیقہ اور اپنے اخلاق کا ذخیرہ لے کر آتا ہے۔
قدیم روایت یہ تھی کہ مہمان کا آنا برکت کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ وہ اپنے ساتھ محبت کے چند بول لاتا تھا، جو میزبان کی تھکن اتار دیتے تھے
۔
قدیم بزرگ کہتے تھے کہ اصل تحفہ وہ نہیں جو کاغذ میں لپٹا ہو، بلکہ وہ ہے جو دل سے نکلے۔ "آئے ہو تو کیا لائے ہو؟" سے مراد یہ ہے کہ کیا تم اپنے ساتھ وہ سکون لائے ہو جس کی اس گھر کو ضرورت تھی؟
کیا تم اپنی باتوں سے کسی کا دکھ بانٹنے آئے ہو؟
آج کے نفسا نفسی کے عالم میں، ہم اکثر دوسروں کے گھر جاتے ہیں تو ہمارا ذہن اس بات میں الجھا ہوتا ہے کہ ہم نے کتنا وقت ضائع کیا یا ہمیں وہاں سے کیا فائدہ ملے گا۔ ہم "خالی ہاتھ" نہیں بلکہ "خالی روح" کے ساتھ جاتے ہیں۔ ہم مٹھائی کا مہنگا ڈبہ تو لے جاتے ہیں، لیکن ہماری آنکھوں میں وہ چمک اور دل میں وہ دعا نہیں ہوتی جو پہلے وقتوں کے سادہ لوگوں کا خاصہ تھی۔
جملے کا دوسرا حصہ "جاؤ گے تو کیا دے کر جاؤ گے؟" زیادہ گہرا ہے۔ یہ رخصتی کے وقت کے تاثر (Impression) کی بات کرتا ہے۔ ایک مہمان جب کسی کے گھر سے جاتا ہے، تو وہ پیچھے یا تو ایک خلا چھوڑ جاتا ہے جسے محبت سے پر کیا جاتا ہے، یا پھر ایک بوجھ چھوڑ جاتا ہے جسے میزبان شکر کر کے اتارتا ہے۔
کیا آپ جاتے ہوئے میزبان کے چہرے پر ایک سچی مسکراہٹ دے کر گئے؟ کیا آپ نے اسے یہ احساس دلایا کہ اس کا وقت اور اس کی خدمت آپ کے لیے قیمتی تھی؟
یا پھر آپ اپنی تلخ باتوں، تنقید اور شکووں کی ایک فہرست چھوڑ گئے؟ پنجابی محاورہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی آمد سے نہیں، بلکہ اس کی رخصتی سے ہوتی ہے۔
یہ محاورہ محض گھریلو مہمان نوازی تک محدود نہیں، بلکہ یہ معاشرت کا ایک سنہرا اصول بھی ہے۔ معاشرے میں ہمارا رویہ ایسا ہونا چاہیے کہ جب ہم کسی ادارے، کسی محفل یا کسی کی زندگی میں داخل ہوں، تو کچھ مثبت اضافہ کریں۔
کیا آپ اپنے دوست کی زندگی میں امید لائے ہیں؟
بطور انسان کیا آپ زمین پر بوجھ ہیں یا شجرِ سایہ دار؟
اگر ہم دنیا سے رخصت ہوتے وقت پیچھے صرف مال و دولت چھوڑ کر جا رہے ہیں، تو ہم نے اس محاورے کے اصل مفہوم کو نہیں سمجھا۔ اصل "دے کر جانا" وہ نیک نامی، وہ علم اور وہ اخلاق ہے جو آپ کے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔
ہمیں اپنی روایتوں کی طرف لوٹنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی "لینے" کا نہیں، بلکہ "دینے" کا نام ہے۔ "آئے ہو تو کیا لائے ہو؟" کا جواب ہمارے اخلاق میں ہونا چاہیے، اور "جاؤ گے تو کیا دے کر جاؤ گے؟" کا جواب ہماری یادوں میں۔
پنجاب کی یہ دانش ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ رشتوں کی بنیاد مٹی کے برتنوں یا نوٹوں کی گڈیوں پر نہیں، بلکہ ان لمحات پر رکھیں جو کسی کے دل کو سکون پہنچا سکیں۔
کوشش کریں کہ جب بھی کہیں جائیں، تو محبت لے کر جائیں، اور جب وہاں سے نکلیں، تو ایک ایسی دعا دے کر جائیں جو عرش تک آپ کا نام روشن کر دے۔
یہی اس پنجابی محاورے کا جوہر ہے اور یہی زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ۔

Comments