جو کچھ نہیں کرتا، وہ کمال کرتا ہے.

 




---روما محمود---




داغ دہلوی صاحب نے ایک بار بڑی بے رحمی سے فرمایا تھا۔

ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ 
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں 

اب یہ شعر صرف  غزل تک محدود نہیں رہا۔ یہ تو ہمارے پورے معاشرے کا آفیشل نعرہ بن چکا ہے۔ 



جو لوگ کچھ نہیں کرتے، وہ نہ صرف کمال کرتے ہیں بلکہ سپر کمال، میگا کمال اور کبھی کبھی گوگل کی سرچ میں ٹاپ آنے والا کمال بھی کر جاتے ہیں۔

آفس کی مثال لیجیے۔ آپ کا وہ ساتھی جو پورا دن صرف "میٹنگ میں شامل" ہونے کے لیے زوم پر آن لائن رہتا ہے۔

جب باس پوچھے "پروجیکٹ کا کیا ہوا؟

" تو وہ گہری آواز میں بولتا ہے، "سر، میں ہولسٹک اپروچ پر سوچ رہا تھا۔

" یعنی تین ماہ سے ایک ای میل بھی نہیں بھیجی، مگر "سوچ" تو بہت اچھی چل رہی ہے۔

نتیجہ؟ سالانہ ایوارڈ "Most Strategic Thinker" اسی کو ملتا ہے۔

دوسرا جو رات دن محنت کرتا ہے، وہ "ٹیم پلیئر" کا سرٹیفکیٹ لے کر خوش رہتا ہے۔ کیونکہ جو کچھ نہیں کرتا، وہ کمال کرتا ہے

  اور وہ کمال "پریزنٹیشن سکلز" کا ہوتا ہے۔

اب سیاستدانوں کا کمال تو الگ لیول کا ہے۔ پانچ سال تک کچھ نہیں کرتے، بس "ڈویلپمنٹ کا خواب" دیکھتے رہتے ہیں۔ جب الیکشن آتا ہے تو کہتے ہیں، "بھائی، ہم نے تو ویژن دیا تھا، عمل تم کر لو۔"

عوام پوچھے تو جواب: "ہم macro level پر کام کرتے ہیں، micro details کا بوجھ تم پر ہے۔" یعنی کچھ نہ کرنا بھی ایک قومی خدمت ہے۔

اور جیت بھی وہی جاتا ہے جو سب سے بڑا "کچھ نہ کرنے والا" ہوتا ہے۔

طلبہ کی دنیا میں تو یہ فن عروج پر ہے۔ امتحان سے پہلے دوست پوچھے، "پڑھ لیا؟" وہ جواب دیتا ہے، "یار، میں تو ڈیپ لرننگ کر رہا ہوں، رٹا سسٹم نہیں مانتا۔" پیپر میں 40 فیصد آتے ہیں تو والدین کو بتاتا ہے، "ٹیچر نے میرے creative آئیڈیاز کو سمجھا نہیں۔"

جبکہ وہ دوست جو رات بھر پڑھ کر 90 لائے، اسے کہتے ہیں "اوور سیریس ہے یار، لائف میں balance رکھنا چاہیے۔"

کچھ نہ کرنے والا طالب علم والدین کے دل میں آئیڈیل سن بن جاتا ہے۔

سماجی میڈیا پر تو کمال کی حد پار ہو جاتی ہے۔ لوگ پورا دن صرف "موتویٹنگ" پوسٹس شیئر کرتے رہتے ہیں۔

"اٹھو، محنت کرو، خواب پورے کرو" — مگر خود صبح 11 بجے اٹھتے ہیں اور "میں تو burnout سے گزر رہا ہوں" کا سٹیٹس لگاتے ہیں۔ لائکس، کمنٹس، شیئرز — سب مل کر انہیں انفلوئنسر بنا دیتے ہیں۔

جو کچھ نہیں کرتا، وہ ڈیجیٹل کمال کرتا ہے۔

زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے.

اگر آپ واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو کچھ نہ کریں۔

بس ایک سنجیدہ چہرہ بنا لیں، کبھی کبھار "اسٹریٹجک پلاننگ"، "ہولسٹک ویژن" اور "مائنڈفول لیڈرشپ" جیسے الفاظ استعمال کر دیں۔

لوگ خود بخود سمجھ جائیں گے کہ آپ کیا کمال کر رہے ہیں۔

  کمال۔کرنے کو  ہم نے اسے قومی پالیسی بنا لیا ہے۔ 
 

کام کیے بغیر کامیاب ہونے والوں کی جماعت میں خوش آمدید! 

دوسرا پہلو،

ہمارے معاشرے میں تحرک، دوڑ بھاگ اور ہمہ وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کو کامیابی کی واحد علامت سمجھ لیا گیا ہے۔

جو شخص ساکت ہے یا بظاہر "کچھ نہیں کر رہا"، اسے ناکارہ یا وقت ضائع کرنے والا تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن حکمت کی گہرائی میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات "کچھ نہ کرنا" ہی سب سے بڑا "کمال" ہوتا ہے۔

ایک ایسی دنیا میں جہاں ہر شخص اپنی آواز دوسروں تک پہنچانے کے لیے چیخ رہا ہے، وہاں خاموش رہ کر دوسروں کو سننا کچھ نہ کرنے کے مترادف لگتا ہے، مگر یہی وہ مقام ہے جہاں فہم و ادراک کے کمالات جنم لیتے ہیں۔

جب کوئی کچھ نہیں کر رہا ہوتا، تو دراصل وہ اپنے اندر کے شور کو ترتیب دے رہا ہوتا ہے۔

بڑے بڑے فلسفے، شاہکار تخلیقات اور دور اندیش فیصلے اسی "خالی وقت" کی پیداوار ہوتے ہیں جسے دنیا "کچھ نہ کرنا" کہتی ہے۔

زندگی کے بہت سے معاملات ایسے ہوتے ہیں جہاں ہماری مداخلت معاملے کو سلجھانے کے بجائے الجھا دیتی ہے۔

کسی بحث کو طول نہ دینا، کسی کی غلطی پر فوری ردِعمل نہ دینا، یا وقت کے بہاؤ کو اپنی مرضی سے موڑنے کی کوشش نہ کرنا۔

یہ بظاہر سستی نظر آتی ہے، لیکن دراصل یہ صبر اور ضبطِ نفس کی انتہا ہے۔ جو شخص اشتعال کے عالم میں "کچھ نہیں کرتا"، وہ دراصل ایک بہت بڑے فساد کو ٹالنے کا کمال کرتا ہے۔

دنیا کے عظیم مفکروں اور فنکاروں پر اکثر ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ مہینوں ساکت بیٹھے رہتے ہیں۔ بظاہر وہ وقت کا زیاں کر رہے ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں ان کا ذہن ایک ایسی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے جس کی بنیادیں نظر نہیں آتیں۔ جب وہ اس "کچھ نہ کرنے" کے حصار سے باہر نکلتے ہیں، تو ان کے ہاتھ میں کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جو دنیا کو حیران کر دیتی ہے۔ یہ "کچھ نہ کرنا" دراصل ایک لمبی جست کے لیے پیچھے ہٹنے جیسا عمل ہے۔

آج کا انسان ایک مشین بن چکا ہے جس کا مقصد صرف پروڈکٹیوٹی (Productivity) ہے۔ اس مشینی دور میں اگر کوئی شخص صرف قدرت کے نظارے کرنے، پرندوں کی چہچہاہٹ سننے یا محض اپنے وجود کو محسوس کرنے کے لیے وقت نکالتا ہے، تو وہ اس مادہ پرست نظام کے خلاف ایک خاموش بغاوت کرتا ہے۔

یہ کمال ہے کہ آپ اس تیز رفتار زندگی میں اپنی روح کو تھکنے نہ دیں اور تھوڑی دیر کے لیے "کچھ نہ کر کے" خود کو دوبارہ زندہ کر لیں۔

کچھ نہ کرنے کا مطلب کاہلی یا فرار نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا وقفہ ہے جو روح کی توانائی بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔

کمال صرف وہ نہیں جو نظر آئے، کمال وہ بھی ہے جو اندر ہی اندر شخصیت کو تراشتا رہے۔ کبھی کبھی زندگی کو اس کے حال پر چھوڑ دینا اور خود کو اس دوڑ سے الگ کر لینا ہی وہ سب سے بڑا کارنامہ ہوتا ہے جو ایک انسان اپنی ذات کے لیے انجام دے سکتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ جسے دنیا "بے عملی" سمجھتی ہے، وہ صاحبِ نظر کے لیے "بڑی عملیت" کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔