سرابِ خوف اور بے حیائی کا جال، ہم کہاں کھڑے ہیں؟
---روما محمود---
قرآنِ پاک کی سورۃ البقرہ کی ایک نہایت چشم کشا اور روح کو جھنجھوڑ دینے والی آیت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے: "شیطان تمہیں تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے اور بے حیائی کے کاموں کا حکم دیتا ہے، جبکہ اللہ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے" (البقرہ: 268)۔
جب ہم اس ایک آیت کے تناظر میں اپنے اردگرد کے معاشرے، اپنے رویوں اور اپنی روزمرہ کی زندگی کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں، تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ الفاظ آج کے دور کے ہر فرد، ہر گھرانے اور ہر معاشرے کی سب سے بڑی اور تلخ ترین حقیقت کو بے نقاب کر رہے ہیں۔
یہ محض ایک تنبیہ نہیں ہے، بلکہ انسانی نفسیات اور معاشرتی زوال کا ایک مکمل اور جامع تجزیہ ہے، جو بتاتا ہے کہ انسان کس طرح ایک موہوم خوف کا شکار ہو کر اپنی اعلیٰ ترین اقدار کا سودا کر لیتا ہے۔
ہمیں بچپن سے ہی ایک ان دیکھی دوڑ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ ایک ایسی دوڑ جس کا کوئی اختتام نہیں، جس کی کوئی منزل نہیں۔
شیطان کا سب سے پہلا اور کارگر ہتھیار یہی 'تنگ دستی کا خوف' (Scarcity Mindset) ہے۔ یہ خوف محض روٹی کے چھن جانے یا بھوکے مر جانے کا خوف نہیں ہے۔
آج کے جدید دور میں اس خوف نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ یہ خوف ہے اسٹیٹس کے گر جانے کا، یہ خوف ہے پڑوسی سے چھوٹی گاڑی رکھنے کا، یہ خوف ہے معاشرے کی کھوکھلی نگاہوں میں کم تر سمجھے جانے کا۔
جب انسان کے دل میں یہ خوف جڑ پکڑ لیتا ہے، تو اس کا سیدھا اثر اس کے ایمان، اس کے توکل اور اس کی اخلاقیات پر پڑتا ہے۔
وہ بھول جاتا ہے کہ رزق کا وعدہ اس رب نے کر رکھا ہے جو پتھر میں کیڑے کو بھی پالتا ہے۔ جب توکل کی جگہ خوف لے لیتا ہے، تو انسان شارٹ کٹ تلاش کرنے لگتا ہے، اور یہیں سے شیطان کا دوسرا وار، یعنی 'بے حیائی' (Fahsha) کا آغاز ہوتا ہے۔
بے حیائی سے مراد محض جسمانی یا ظاہری عریانیت نہیں ہے۔ درحقیقت، بے حیائی کی سب سے بدترین قسم اخلاقی بے حیائی ہے۔ کرپشن، رشوت خوری، ناپ تول میں کمی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، اور دوسروں کا حق مارنا۔
یہ سب اسی بے حیائی کی مختلف شکلیں ہیں جن کی جڑ میں تنگ دستی کا وہی خوف چھپا ہوتا ہے۔ ایک سرکاری افسر جب رشوت لیتا ہے، تو اسے یہ خوف ہوتا ہے کہ اس کی تنخواہ میں اس کے شاہانہ اخراجات پورے نہیں ہوں گے۔
ایک تاجر جب ملاوٹ کرتا ہے، تو اسے مارکیٹ میں پیچھے رہ جانے کا خوف کھا رہا ہوتا ہے۔ ہم نے اپنی خواہشات کو اپنی ضروریات بنا لیا ہے، اور ان مصنوعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہم ہر اخلاقی حد پار کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔
ہم بے شرمی سے ان تمام کاموں کو 'مجبوری' یا 'وقت کی ضرورت' کا نام دے کر خود کو تسلی دیتے ہیں، جبکہ درحقیقت ہم شیطانی وسوسوں کے آگے ہتھیار ڈال چکے ہوتے ہیں۔
اس خوف کا سب سے افسوسناک پہلو وہ ہے جو ہمارے خاندانی اور معاشرتی رشتوں پر مرتب ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا جب گھر کے دسترخوان پر برکت ہوتی تھی۔ دسترخوان محض کھانا کھانے کی جگہ نہیں تھا، بلکہ یہ وہ مکتب تھا جہاں بزرگوں کی صحبت میسر آتی تھی، جہاں روزمرہ کی گفتگو میں شعر و ادب کی چاشنی ہوتی تھی، اور جہاں ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹے جاتے تھے۔
لیکن آج تنگ دستی کے خوف اور مادی ہوس نے ہم سے ہمارا دسترخوان چھین لیا ہے۔ آج رشتوں کی بنیاد خلوص، محبت اور احترام پر نہیں، بلکہ مفاد پر رکھی جاتی ہے۔
ہم نے انسانی جذبوں اور رشتوں کو ٹشو پیپر کی طرح سمجھ لیا ہے۔ جب تک کوئی شخص ہمارے لیے معاشی یا سماجی طور پر فائدہ مند ہے، ہم اس کی خوشامد کرتے ہیں، اور جیسے ہی اس کا مصرف ختم ہوتا ہے، ہم اسے کوڑے دان کی نذر کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
رشتوں کی یہ بے توقیری اور مفاد پرستی بھی اسی بے حیائی کا حصہ ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے۔
اگر ہم اپنی سوسائٹی کا بحیثیت مجموعی جائزہ لیں، تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ ہم ایک 'کیکڑا ذہنیت' (Crab Mentality) کا شکار ہو چکے ہیں۔ جب سمندر کے کنارے ایک بالٹی میں بہت سے کیکڑے ڈالے جاتے ہیں، تو کوئی بھی کیکڑا باہر نہیں نکل پاتا۔ جیسے ہی ایک کیکڑا اوپر چڑھنے کی کوشش کرتا ہے، نیچے والے اسے کھینچ کر واپس گرا دیتے ہیں۔ یہ سب اسی خوف کی پیداوار ہے کہ "اگر یہ کامیاب ہو گیا تو میرا کیا بنے گا؟
" ہم اجتماعی ترقی اور ٹیم ورک (Teamwork) کا تصور بھول چکے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کو سہارا دینے کے بجائے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں۔
حسد، بغض اور کینہ ہماری رگوں میں زہر کی طرح سرایت کر چکا ہے۔ جب کسی معاشرے کے افراد ایک دوسرے کی کامیابی سے خوفزدہ ہونے لگیں، تو وہ معاشرہ اداروں کی تباہی کی طرف تیزی سے بڑھتا ہے۔
میرٹ کا قتل ہوتا ہے، اور نااہل لوگ صرف اس لیے آگے آ جاتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں کو گرانے کے فن میں ماہر ہوتے ہیں۔
ہم نے کامیابی کا معیار مکمل طور پر مادی کر دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو جتنا مالدار ہے، وہ اتنا ہی کامیاب اور معزز ہے۔ اسی کھوکھلے معیار نے ہمیں اندھا کر دیا ہے۔ لوگ راتوں رات امیر ہونے کے خواب دیکھتے ہیں ، سٹاک مارکیٹ، یا دیگر سرمایہ کاری کے پلیٹ فارمز پر بغیر سمجھے، محض لالچ اور شارٹ کٹ کی تلاش میں اپنی جمع پونجی لٹا بیٹھتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے طمع میں آکر اندھا دھند دوڑ لگائی، اسے منہ کی کھانی پڑی۔ نوے کی دہائی کے وہ سرمایہ کاری کے سکینڈل ہوں جہاں لوگوں نے لالچ میں آ کر اپنی عمر بھر کی کمائی لٹا دی، یا آج کے دور کے ڈیجیٹل فراڈ، ہر جگہ یہی اصول کارفرما نظر آتا ہے کہ خوف اور لالچ انسان سے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتے ہیں۔
شیطان کے اس جال کو توڑنے کا واحد راستہ اللہ کے اس وعدے پر یقینِ کامل ہے جو اس آیت کے دوسرے حصے میں بیان کیا گیا ہے۔
"جبکہ اللہ تم سے اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے"۔ اللہ کا فضل صرف دولت میں اضافے کا نام نہیں ہے۔
حقیقی فضل تو دل کا سکون، رشتوں کی مٹھاس، حلال رزق کی برکت اور رات کی پرسکون نیند ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ جو رزق اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے، وہ اسے ہر صورت مل کر رہے گا، تو وہ تنگ دستی کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔
اور جب یہ خوف ختم ہوتا ہے، تو انسان کبھی بے حیائی، کرپشن، رشوت اور دوسروں کی حق تلفی کی طرف مائل ہوتا ہے۔
ہمیں آج ایک انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے رویوں کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا ہوگا۔
کامیابی مال و دولت کے انبار لگانا نہیں، بلکہ ایک باکردار، دیانتدار اور سچا انسان بننا ہے۔
بزرگوں کا احترام، خاندانی روایات کی پاسداری اور ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک وہ قیمتی اثاثے ہیں جن کا کوئی مادی نعم البدل نہیں۔ ہمیں اس 'ٹشو پیپر کلچر' سے نکل کر تعلقات کو مضبوط اور پائیدار بنانا ہوگا۔
ہم شیطان کے پھیلائے ہوئے اس تنگ دستی کے خوف کا شکار نہیں ہوں گے۔ ہم رزق کی تلاش میں ان حدود کو پار نہیں کریں گے جو ہمارے رب نے مقرر کر دی ہیں۔ ہم اپنی زندگیوں کو بے حیائی، مفاد پرستی اور حرص سے پاک کریں گے۔ اور یہ ایک ایسا المیہ ہوگا جس کا تاوان ہم صدیوں تک ادا کرتے رہیں گے۔

Comments