ٹائیوں کا جادو شخصیت کا سب سے طاقتور بیان.

 







---روما محمود---



ٹائی۔ بس ایک لمبا، تنگ کپڑے کا ٹکڑا جو گردن کے گرد لپیٹ کر مرد (اور آج کل خواتین بھی) کو ایک لمحے میں الگ پہچان دیتا ہے۔ یہ کوئی عام لباس نہیں، بلکہ ایک زبان ہے۔

ایک خاموش پیغام جو بغیر الفاظ کے کہتا ہے "میں تیار ہوں، میں سنجیدہ ہوں، میں اعتماد سے بھرا ہوں۔



سوٹ، شرٹ اور پتلون کے ساتھ جب ٹائی لگ جائے تو پوری شخصیت تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ وہ واحد چیز ہے جو آپ کے کپڑوں کو لباس سے شخصیت میں بدل دیتی ہے۔



ٹائی کی دلچسپ تاریخ

ٹائی کی ابتدا 17ویں صدی میں کرواٹیا (Croatia) کے فوجیوں سے ہوئی۔ یہ فوجی لڑائی کے دوران گردن پر اسکارف باندھتے تھے تاکہ گردن گرم رہے اور زخم سے بچاؤ ہو۔ فرانسیسی بادشاہ لوئی XIV نے ان کرواٹ فوجیوں کو دیکھا تو متاثر ہوئے۔ انہوں نے اسے دربار میں فیشن بنا دیا۔ "کریوٹ" (Cravat) سے یہ "ٹائی" بن گئی۔ انگریزی میں Tie کا مطلب "باندھنا" ہے۔

18ویں اور 19ویں صدی میں برطانیہ اور فرانس میں ٹائی اشرافیہ کی علامت بن گئی۔ "فور ان ہینڈ نٹ" (Four-in-Hand) جو آج سب سے عام ہے، اس کا نام لندن کے ایک کوچنگ کلب سے آیا جہاں گھوڑوں کی گاڑیوں کے ڈرائیور اسے باندھتے تھے۔ 20ویں صدی میں کارپوریٹ کلچر کے ساتھ ٹائی عالمی سطح پر پھیل گئی۔ آج یہ یورپ، امریکہ، جاپان، چین اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں پروفیشنلزم کی علامت ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹائی نے نئی شکل اختیار کی۔

1960-70 کی دہائی میں بڑی چوڑی ٹائیاں فیشن تھیں، 80 کی دہائی میں تنگ اور لمبی، جبکہ 90 کی دہائی میں رنگ برنگے پیٹرن والے ٹرینڈ آئے۔ اب 2020 کی دہائی میں مکس ہونے لگا ہے ۔
کبھی کلاسک، کبھی بولڈ۔

●فور ان ہینڈ ٹائی 
   سب سے عام، آسان اور روزمرہ استعمال کے لیے بہترین۔ لمبی، تنگ، اور قدرتی طور پر قدرے ڈھیلا سا لُک دیتی ہے۔ کاروباری میٹنگز، آفس، انٹرویوز اور عدالتی پیشی کے لیے آئیڈیل۔

●ونڈسر نٹ (Windsor Knot) 
   بڑا، ہموار اور مثلث نما۔ شاہی لُک دیتا ہے۔ موٹی ٹائی کے لیے بہترین۔ برطانوی بادشاہوں اور اعلیٰ سطح کے ڈپلومیٹس کا پسندیدہ۔

●ہاف ونڈسر۔ 
   درمیانی سائز، زیادہ تر لوگوں کے لیے موزوں۔

باؤ ٹائی (Bow Tie) 
   تیتلی کی شکل والی۔ شادیوں، گیلامہ تقریبوں، میوزک، فنون لطیفہ اور ان لوگوں کے لیے جو قاعدے توڑنا چاہتے ہیں۔ یہ بولڈ اور شرارتی شخصیت کی علامت ہے۔

اسکارف ٹائی / کریوٹ 
   قدیم طرز، اب پارٹی لُک میں استعمال ہوتا ہے۔

سلِم ٹائی 
   جدید، تنگ اور لمبی۔ نوجوان پروفیشنلز اور فیشن ایبل لوگوں کا انتخاب۔

رنگوں کا اپنا نفسیاتی اثر ہے۔

●سرخ ،جرات، طاقت، قیادت۔ سیاستدانوں کا پسندیدہ۔

●نیلا، اعتماد، سکون، ذہانت۔ محفوظ انتخاب۔

●سبز، ترقی، امید، پیسہ۔

●پیلا/سنہری، تخلیقی، خوش مزاج۔

●کالا، رسمی، شاندار، شادیوں کے لیے۔
●پٹرن والا (ڈاٹس، سٹرپس، پائنز) فنکارانہ، ذاتی ذوق ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان میں ٹائی کا تعلق انگریزی دور سے ہے۔ انڈین سول سروس، فوج اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے نے اسے اپنایا۔ آج بھی سرکاری تقریبوں، فوج، بینکوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں، وکلاء اور ڈاکٹروں میں ٹائی لازمی ہے۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے کارپوریٹ سیکٹر میں نوجوان روز ٹائی باندھتے ہیں۔ گرمیوں میں مشکل ضرور ہے، مگر ایئر کنڈیشنڈ آفسز اور ہوٹلوں میں یہ کلاس کا نشان ہے۔ شادیوں میں گروم، بہترین دوست اور خاندان کے مرد باؤ ٹائی یا لمبی ٹائی باندھتے ہیں۔

بعض لوگ اسے "انگریزی" کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹائی اعتماد بڑھاتی ہے۔ ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ جب وہ پہلی نوکری کے انٹرویو کے لیے ٹائی باندھ کر گیا تو انٹرویو لینے والے نے کہا: "آپ تیار لگ رہے ہیں۔"

اچھی ٹائی ریشم، سوتی یا پولی ایسٹر کی ہوتی ہے۔ ریشم والی مہنگی مگر خوبصورت۔ خریدتے وقت

- سیون مضبوط ہو۔
- لننگ اچھی ہو۔
- چوڑائی 7-9 سینٹی میٹر ہو (کلاسک) یا 5-6 سینٹی میٹر (سلِم)۔

استعمال کے بعد ہمیشہ کھول کر لٹکا دیں۔
نان آئرن ٹائیاں نہ دھوئیں، ڈرائی کلین کروائیں۔
ٹائی ریک پر لٹکائیں تاکہ crease نہ پڑے۔

آج کی دنیا میں کیشول فرض والے کاموں میں ٹائی کم ہو رہی ہے، مگر جب بھی پروفیشنل لُک چاہیے تو ٹائی واپس آ جاتی ہے۔ خواتین اب پاور سوٹ کے ساتھ ٹائی استعمال کر رہی ہیں جو بہت با اعتماد لگتا ہے۔ زوم میٹنگز میں بھی لوگ ٹائی باندھ کر آ رہے ہیں۔

ٹائی سکھاتی ہے کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بڑا فرق پڑتا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ آپ کتنے منظم، ذمہ دار اور خود اعتمادی والے ہیں۔

اگر آپ ابھی تک ٹائی نہیں باندھتے تو آج ہی آزمائیں۔ ایک سادہ نیلی ٹائی خریدیں، آئینے کے سامنے کھڑے ہوں اور مشق کریں۔ پہلی بار ٹیڑھی بنے گی، دوسری بار بہتر، تیسری بار پرفیکٹ۔

ٹائی صرف کپڑا نہیں، یہ آپ کی کہانی ہے۔


ٹائی۔ بس ایک لمبا کپڑے کا ٹکڑا، جو گردن کے گرد لپیٹا جاتا ہے۔ لیکن یہ سادہ سی چیز مرد کی شخصیت، پیشہ، موڈ اور یہاں تک کہ اس کی کہانی بھی بیان کر دیتی ہے۔ سوٹ کے بغیر ٹائی ادھوری، اور ٹائی کے بغیر سوٹ بے جان۔ یہ وہ واحد لباس ہے جو مرد کو ایک لمحے میں پروفیشنل، سجیلا یا پھر بے باک بنا سکتا ہے۔

گرمیوں میں تو ٹائی باندھنا سزا لگتی ہے، مگر ایئر کنڈیشنڈ آفسز میں یہ اب بھی کلاس کا نشان ہے۔

ٹائی نہ صرف مردوں کی ہے۔ آج کل خواتین بھی پاور سوٹ کے ساتھ ٹائی استعمال کر رہی ہیں اور بہت خوبصورت لگتی ہیں۔

آخر میں یہ کہنا چاہوں گی کہ ٹائی ایک چھوٹی سی چیز ہے جو بڑی بات کہتی ہے۔ جب آپ ٹائی باندھتے ہیں تو بس اتنا کہہ رہے ہوتے ہیں "میں تیار ہوں۔"

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔