مصروفیت ایک سچا سوال یا محض سماجی نقاب؟
---روما محمود---
ایک ایسا سوال جو آج کل ہر ملاقات کا پہلا حصہ بن چکا ہے۔
آج کل جب بھی کسی دوست، رشتہ دار یا واقف کار سے ملاقات ہوتی ہے، تو سلامِ مسنون کے فوراً بعد جو سوال گونجتا ہے وہ ہے"اور سنائیں، کیا مصروفیت ہے؟"
یہ سوال بظاہر بہت سادہ اور خیریت دریافت کرنے جیسا لگتا ہے، لیکن اگر اس کی تہہ میں اتر کر دیکھا جائے تو یہ ہمارے دور کی سب سے بڑی نفسیاتی اور سماجی الجھن کی عکاسی کرتا ہے۔ کیا واقعی ہم سب اتنے ہی "مصروف" ہیں جتنا ہم ظاہر کرتے ہیں، یا پھر یہ مصروفیت دراصل ایک ایسی ڈھال ہے جس کے پیچھے ہم اپنی تنہائی، اپنی بے چینی اور اپنی غیر تسلی بخش زندگی کو چھپاتے ہیں؟
مصروفیت بطورِ حیثیت
آج کے دور میں "مصروف ہونا" ایک ایسی علامت بن چکا ہے جسے کامیابی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
جس کے پاس وقت نہیں، وہ اہم ہے۔ جس کا کلینڈر بھرا ہوا ہے، وہ کامیاب ہے۔
چنانچہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی میں بلاوجہ کے کاموں کو جگہ دیتے ہیں تاکہ جب کوئی پوچھے تو ہم فخریہ کہہ سکیں کہ "بہت کام ہے، فرصت ہی نہیں ملتی۔" یہ مصروفیت اکثر اوقات اصل مقصد کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کی نظر میں خود کو اہم ثابت کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
بھاگتی ہوئی زندگی کا بھوت
حقیقت یہ ہے کہ ہم مصروف نہیں، بلکہ منتشر ہیں۔ ہمارے پاس کام تو بہت ہوتے ہیں، مگر ان میں "اطمینان" کی کمی ہوتی ہے۔ ہم ایک کام کرتے ہوئے دوسرے کا سوچ رہے ہوتے ہیں، اور دوسرے کے دوران تیسرے کی منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب کوئی ہم سے پوچھتا ہے کہ "مصروفیت کیا ہے؟" تو ہم خود بھی جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ہم دن بھر تھکتے تو ہیں، لیکن شام کو جب حساب لگاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ہم نے کوئی ایسی چیز حاصل نہیں کی جو ہمیں اندرونی سکون دے سکے۔
کیا واقعی کوئی مصروفیت ہے؟
اگر ہم دیانتداری سے اپنے آپ سے پوچھیں کہ ہماری اصل مصروفیت کیا ہے، تو اکثر کا جواب ہوگا۔ "وقت گزارنا۔
" ہم وقت گزارنے کے لیے سوشل میڈیا کی سکرولنگ میں مصروف ہیں، دوسروں کی زندگیوں کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں، اور اپنے آپ کو مسلسل کسی نہ کسی ہلچل میں رکھنے کے لیے مصروف ہیں۔
یہ مصروفیت ہمیں اس خوف سے بچاتی ہے کہ کہیں ہمیں تنہائی میں اپنے آپ سے سامنا نہ کرنا پڑ جائے۔ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے رک گئے، تو کہیں وہ سوالات سر نہ اٹھا لیں جن کے جواب ہمارے پاس نہیں ہیں۔
اصل مصروفیت کیا ہے؟
اصل مصروفیت تو وہ ہے جو آپ کو نکھارے۔ جو آپ کے ہنر کو بڑھائے، جو آپ کے علم میں اضافہ کرے، یا جو کسی اور کے کام آئے۔ اگر آپ کی تمام تر مصروفیت کے بعد بھی آپ کا دل خالی ہے، تو یقین جانیے آپ مصروف نہیں، بلکہ "مشغولیت کے جال" میں پھنسے ہوئے ہیں۔
آئندہ جب کوئی آپ سے پوچھے کہ "مصروفیت کیا ہے؟" تو ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے گا کہ کیا واقعی آپ کچھ ایسا کر رہے ہیں جو آپ کی روح کو سکون دیتا ہو؟ اگر جواب "نہیں" ہے، تو تھوڑا وقت نکال کر خود سے دوبارہ جڑیں۔
یاد رکھیے، دنیا کی دوڑ میں جیت جانا کمال نہیں ہے، کمال یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کے مالک خود بنیں، نہ کہ اپنی ہی مصروفیت کے غلام۔
کبھی کبھی سب سے بڑی مصروفیت یہ ہونی چاہیے کہ آپ اپنی زندگی کو اس دوڑ سے نکال کر اس کے اصل مقصد کی طرف موڑ سکیں۔ آخر کار، ہم یہاں وقت گزارنے نہیں، وقت کو "کمانے" آئے ہیں۔
"مجھے فرصت ہی کہاں ہے" یہ محض ایک جملہ نہیں، بلکہ جدید دور کے انسان کا نوحہ ہے۔
"مجھے فرصت ہی کہاں ہے": ایک حسرت یا ایک بہانہ؟
ہم اکثر ایک دوسرے سے کہتے پائے جاتے ہیں کہ "جی بس کیا بتائیں، سانس لینے کی فرصت نہیں ملتی۔" لیکن کبھی ٹھنڈے دل سے سوچا ہے کہ یہ فرصت گئی کہاں؟ کیا دن کے چوبیس گھنٹے چھوٹے ہو گئے ہیں یا ہماری خواہشات کے پاؤں پھیل گئے ہیں؟
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے خود فرصت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ ماضی میں جب سورج ڈھلتا تھا تو کام تھم جاتے تھے اور انسان اپنے پیاروں کے لیے، اپنی ذات کے لیے "فارغ" ہوتا تھا۔ آج سورج ڈھلنے کے بعد ہماری ڈیجیٹل دنیا کا سورج طلوع ہوتا ہے۔ ہم بستر پر لیٹ کر بھی دنیا بھر کی خبروں، دوسروں کی تصویروں اور لایعنی ویڈیوز میں مصروف رہتے ہیں۔ جس وقت کو ہم "مصروفیت" کا نام دیتے ہیں، اس کا ایک بڑا حصہ دراصل سکرین کی نذر ہو جاتا ہے۔
ہمیں اپنوں سے بات کرنے کی فرصت نہیں، مگر اجنبیوں کی پوسٹس پر تبصرہ کرنے کا بھرپور وقت ہے۔
"فرصت نہ ہونا" دراصل ایک ذہنی کیفیت کا نام بھی ہے۔
جب ہم ذہنی طور پر بکھرے ہوئے ہوتے ہیں، تو ہمیں چھوٹے چھوٹے کام بھی پہاڑ لگتے ہیں۔
ہم ہر وقت ایک انجانے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں۔ یہ "فرصت کی کمی" دراصل ترجیحات کی کمی ہے۔ ہم نے ان کاموں کو زندگی بنا لیا ہے جو ضروری نہیں تھے، اور جو ضروری تھے (جیسے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھنا، والدین کی باتیں سننا، یا کسی اچھی کتاب کا مطالعہ) انہیں ہم نے "فرصت ملے گی تو کریں گے" کی فہرست میں ڈال دیا ہے۔
فرصت کا مطلب کاہلی نہیں ہوتا۔ فرصت وہ وقفہ ہے جس میں روح سانس لیتی ہے۔ جس طرح موسیقی میں دو سروں کے درمیان کا "وقفہ" ہی اس میں حسن پیدا کرتا ہے، اسی طرح زندگی کے کاموں کے درمیان فرصت کے لمحات ہی زندگی کو بامعنی بناتے ہیں۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسے فرصت نہیں، وہ دراصل یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ایک ایسی مشین بن چکا ہے جس کا بٹن زمانے کے ہاتھ میں ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ جس دن ہماری آنکھیں بند ہوں گی، یہ دنیا، یہ کام اور یہ ساری "مصروفیت" وہیں کی وہیں رہ جائے گی۔ دفتر کے کام کسی اور کے ذمے لگ جائیں گے، گھر کے سودا سلف کی فکر کوئی اور کر لے گا، لیکن وہ لمحات جو ہم نے "فرصت نہ ہونے" کے بہانے گنوا دیے، وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ ہم نے دوسروں کو متاثر کرنے کی مصروفیت میں اپنی ذات کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
"فرصت نہیں ہے" کہنا دراصل ایک ایسی دیوار کھڑی کرنا ہے جس کے پیچھے ہم اپنی محرومیوں کو چھپاتے ہیں۔ فرصت ملتی نہیں، فرصت نکالنی پڑتی ہے۔ یہ اپنے نفس پر قابو پانے کا نام ہے کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے دنیا کو "پوز" (Pause) کریں اور اپنی زندگی کے حقیقی حسن کو محسوس کریں۔
سکون کام ختم ہونے میں نہیں، بلکہ کام کے دوران تھوڑی دیر کے لیے رک کر خود کو یہ یاد دلانے میں ہے کہ "میں ایک انسان ہوں، مشین نہیں۔"

Comments