رویوں کے تضاد ستائش سے دھتکار تک کا سفر
---روما محمود---
انسانی معاشرت کا سب سے بڑا حسن اور سب سے بڑی الجھن "رویے" ہیں۔ کائنات کے تمام رنگ ایک طرف، لیکن انسانی رویوں کے رنگ اتنے زیادہ ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
ایک ہی شخصیت ہے، ایک ہی کردار ہے، لیکن دیکھنے والوں کی نظر مختلف ہے۔
کسی کے لیے وہ شخص فرشتہ صفت ہے تو کسی کی نظر میں اس کا وجود ہی بوجھ ہے۔
کوئی اس کی شان میں تعریف کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتا، تو کوئی اسے ایک نظر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خرابی اس شخص میں ہے یا دیکھنے والے کے ظرف اور اس کے اپنے نفسیاتی پس منظر میں؟
ہر انسان کی پرورش، اس کے حالات، اس کی تعلیم اور اس کے تجربات دوسرے سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب دو مختلف انسان کسی تیسرے فرد کو دیکھتے ہیں، تو ان کا ردعمل ایک جیسا نہیں ہوتا۔ نفسیات کی زبان میں اسے "Subjective Perception" یا موضوعی ادراک کہا جاتا ہے۔
اکثر اوقات تعریف یا دھتکار کا تعلق انسانی مفاد سے ہوتا ہے۔ جب تک آپ کسی کے کام آ رہے ہیں، آپ کی خامیاں بھی خوبیوں میں شمار ہوتی ہیں۔
جس دن آپ نے اپنے حق کے لیے آواز اٹھائی یا کسی کے غلط مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، وہی زبان جو قصیدے پڑھتی تھی، زہر اگلنے لگتی ہے۔
جس انسان کا اپنا ظرف بڑا ہوتا ہے، وہ دوسروں کی معمولی خوبی کو بھی سراہتا ہے۔ اس کے برعکس، تنگ نظر انسان سورج کے وجود سے تو انکار نہیں کر سکتا لیکن اس کے دھبوں پر تبصرہ ضرور کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں تعریف کے دو پہلو ہیں۔ ایک وہ جو سچی تعریف ہے، جو کسی کے ہنر، اخلاق یا محنت کو دیکھ کر بے ساختہ دل سے نکلتی ہے۔ ایسی ستائش انسان کے لیے مہمیز کا کام کرتی ہے اور اسے مزید بہتر کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
لیکن اس کا دوسرا رخ "خوشامد" ہے، جو خاص طور پر طاقتور حلقوں اور پیشہ ورانہ زندگی میں عروج پر ہے۔
جب کوئی شخص کسی کے مرتبے یا دولت سے مرعوب ہو کر قصیدے پڑھتا ہے، تو وہ دراصل اس شخصیت کی نہیں بلکہ اس کے منصب کی تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی وہ منصب چھن جاتا ہے، قصیدہ گو لوگ سب سے پہلے اسے دھتکارنے والوں کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
دھتکارے جانے کا عمل انسان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔
جب کوئی شخص اپنی محنت سے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں دوسرے نہیں پہنچ پاتے، تو معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ اسے دھتکارنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ دھتکار دراصل ان کی اپنی نااہلی کا اعتراف ہوتی ہے جسے وہ غصے اور نفرت کی شکل میں ظاہر کرتے ہیں۔
ضروری نہیں کہ آپ کو دھتکارنے والا برا ہی ہو۔ بسا اوقات آپ کے نظریات یا کام کرنے کا طریقہ کسی دوسرے کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔
روزمرہ زندگی کی مثالیں
اپنے اردگرد نظر دوڑائیں، ایک ملازم جو دفتر میں بہت محنتی ہے، اس کا باس اس کی تعریفوں کے پل باندھتا ہے، لیکن وہی ملازم شاید اپنے گھر والوں کی نظر میں "وقت نہ دینے والا" ہونے کی وجہ سے ناپسندیدہ قرار پائے۔
ایک مصنف جس کی تحریر لاکھوں لوگوں کے دل جیت لیتی ہے، ممکن ہے کہ نقادوں کے ایک گروہ کے نزدیک وہ صرف کاغذ سیاہ کر رہا ہو۔
یہ تضاد ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم کبھی بھی "سب کو خوش" نہیں کر سکتے۔ اگر ہم اپنی زندگی کا مقصد دوسروں سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا بنا لیں، تو ہم کبھی سکون کی سانس نہیں لے سکیں گے۔
رویوں کے اس تضاد سے کیسے نمٹا جائے؟
جب آپ کو معلوم ہو کہ لوگ آپ کے بارے میں متضاد رائے رکھتے ہیں، تو بہترین راستہ "میانہ روی" کا ہے۔
اگر کوئی آپ کی تعریف کے قصیدے پڑھے، تو اسے اپنے سر پر سوار نہ ہونے دیں کہ آپ تکبر کا شکار ہو جائیں۔ یاد رکھیں کہ تعریف کرنے والے کا اپنا ایک نکتہ نظر ہے۔
اگر کوئی آپ کو مسترد کر دے یا آپ کی تذلیل کرے، تو اسے اپنی ذات کی ناکامی نہ سمجھیں۔ یہ ممکن ہے کہ وہاپنے آپ کو آپ سے بہت برتر سمجھتا ہو۔
ہمیشہ اپنی سمت درست رکھیں۔ اگر آپ کا ضمیر مطمئن ہے کہ آپ سچائی اور دیانتداری پر ہیں، تو لوگوں کے قصیدے اور ان کی دھتکار، دونوں کی اہمیت ثانوی رہ جاتی ہے۔
انسانی رویوں کا یہ تنوع دراصل دنیا کا میلہ ہے۔ اگر ہر کوئی صرف تعریف ہی کرتا تو اصلاح کا پہلو ختم ہو جاتا، اور اگر ہر طرف سے صرف دھتکار ہی ملتی تو انسانیت مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب جاتی۔
ہم ہر انسان کے لیے "اچھے" نہیں ہو سکتے اور نہ ہی ہر انسان ہمارے لیے "مثالی" ہو سکتا ہے۔
عقل مندی اسی میں ہے کہ ہم دوسروں کے رویوں کے اسیر ہونے کے بجائے اپنی شخصیت کی تعمیر پر توجہ دیں، تاکہ جب تاریخ لکھی جائے تو ہمارے عمل کی گواہی لوگوں کے قصیدوں یا دھتکار سے زیادہ معتبر ہو۔
آخر کار، انسان کا اپنا کردار ہی وہ مستقل حوالہ ہے جو وقت کی گرد میں بھی اپنی چمک برقرار رکھتا ہے۔

Comments