ادھورے خواب اور خاموش دعائیں۔

 



---روما محمود---




ماں کی جدائی کے بعد گھر کے آنگن میں جو دیوار سب سے پہلے سایہ بنتی ہے، وہ بڑی بہن ہے۔

ایک ایسی ہستی جو اپنی معصومیت اور خوابوں کو ایک طرف رکھ کر تپتی دھوپ میں اپنوں کے لیے سائبان بن جاتی ہے۔

ہماری بڑی بہن یاسمین ہی وہ ہستی ہے جو ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہیں۔



کہتے ہیں کہ ماں کے جانے سے گھر کا دروازہ کھلا رہ جاتا ہے، لیکن اگر اس گھر میں ایک بڑی بہن موجود ہو تو وہ اس ادھورے پن کو اپنے صبر اور قربانی سے بھرنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔ ماں کی وفات کے بعد وہ محض ایک بہن نہیں رہتی، بلکہ وہ اس بوڑھے باپ کا سہارا، چھوٹے بہن بھائیوں کی محافظ اور گھر کے بکھرے ہوئے تانے بانے کو جوڑنے والی ایک مضبوط کڑی بن جاتی ہے۔


بڑی بہن کی قربانی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنے آنسو پونچھ کر دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کا عہد کرتی ہے۔ وہ اپنی تعلیم، اپنی پسند اور بسا اوقات اپنی ازدواجی زندگی کی خوشیوں کو بھی اس لیے داؤ پر لگا دیتی ہے  ۔ 

وہ باورچی خانے کی تپش سے لے کر اپنوں کے بدلتے ہوئے لہجوں تک، سب کچھ خاموشی سے سہتی ہے تاکہ گھر کا بھرم قائم رہے۔


افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جہاں بڑی بہن اپنا سب کچھ وار دیتی ہے، وہیں معاشرے اور رشتہ داروں کا رویہ اکثر آزمائشی ہوتا ہے۔ ماں کے ہوتے ہوئے جو رشتہ دار دعاؤں کے ڈھیر لگاتے تھے، وہی اکثر ماں کے بعد "اصلاح" کے نام پر تنقید کے تیر برسانے لگتے ہیں۔

کوئی اس کے فیصلوں پر انگلی اٹھاتا ہے تو کوئی اس کی سختی کو بیجا قرار دیتا ہے۔ مشکل وقت میں ساتھ دینے کے بجائے، لوگ اکثر تماشائی بن کر دیکھتے ہیں کہ یہ لڑکی کب تھک کر ہار مانتی ہے۔

بڑی بہن کی شخصیت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ وہ وقت سے پہلے ہی "بڑی" ہو جاتی ہے۔ اس کے کندھوں پر پڑنے والا بوجھ اس کی معصومیت کو سنجیدگی میں بدل دیتا ہے۔

رشتوں کی سیاست اور صبر کا ایک کڑا امتحان شروع ہوتا ہے ۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ ماں کے بعد رشتہ داروں کا رویہ دو دھاری تلوار جیسا ہو جاتا ہے۔

وہ ہمدردی تو جتاتے ہیں لیکن عموماً گھر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے بڑی بہن کی عزت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کبھی اس کے کھانے بنانے کے سلیقے پر بحث ہوتی ہے تو کبھی اس کے گھر چلانے کے طریقے پر۔ لیکن وہ ان تمام تلخ رویوں کو پی جاتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ ٹوٹ گئی تو اس کا گھر بکھر جائے گا۔ وہ اپنوں کی تلخیوں کو محبت کے میٹھے پانی سے دھونا جانتی ہے۔

وہ جو کبھی خود ناز نخرے اٹھوانے کی عمر میں تھی، اب دوسروں کے نخرے اٹھانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتی ہے۔

اس کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہوتا ہے جب اس کے لیے تعریف کے فقرے بولے جایئں۔

سالگرہ کے لیے خاص الفاظ
باجی آپ کی زندگی کا ہر نیا دن آپ کے صبر اور ہمت کی گواہی دیتا ہے۔

  باری تعالیٰ آپ کی زندگی میں وہ سکون بھر دے جو آپ نے دوسروں کو بانٹا۔

اللہ کرے کہ آپ کا آنگن ہمیشہ خوشیوں سے مہکتا رہے اور آپ کی آنکھوں میں کبھی وہ تھکن نہ آئے جو قربانی کے سفر میں اکثر ساتھی بن جاتی ہے۔
آپ ہمارے گھر کا وہ چراغ ہیں جس نے خود کو جلا کر ہمیں روشنی دی۔ آپ کو آپ کا جنم دن دل کی گہرائیوں سے مبارک ہو! ہمیں فخر ہے کہ آپ جیسی عظیم بہن ہمارے پاس ہے۔
سلامت رہیں اور مسکراتی رہیں۔

آج اس عظیم ہستی کا یومِ پیدائش ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ اس عزم کا اعتراف ہے جو اس نے ہر طوفان کے سامنے دکھایا۔
سالگرہ کی مبارکباد
میری پیاری آپی، آپ کو زندگی کی یہ نئی بہار بہت بہت مبارک ہو۔
آپ نے جس طرح ماں کی کمی کو محسوس نہیں ہونے دیا اور اپنی ذات کو بھلا کر ہمارے لیے جئیں، اس کا قرض ہم کبھی نہیں اتار سکتے۔ اللہ پاک آپ کے سائے کو ہمیشہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے، آپ کی تمام دلی مرادیں پوری ہوں اور آپ کو وہ تمام خوشیاں ملیں جن کی آپ نے دوسروں کے لیے قربانی دی۔
جنم دن بہت بہت مبارک ہو!

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔