اپنی ہی ذات کے ساتھ نفسیاتی کشمکش اور پھر مصالحت ۔
---روما محمود---
الجھنا دن بھر خود سے، پھر خود کو منانا
انسانی زندگی کا سب سے طویل اور صبر آزما سفر وہ نہیں جو ہم میلوں کی مسافت طے کر کے پورا کرتے ہیں، بلکہ وہ سفر ہے جو ہم روزانہ اپنے ہی وجود کے اندر طے کرتے ہیں۔
ہم باہر کی دنیا سے تو حسبِ ضرورت سمجھوتہ کر لیتے ہیں، دوسروں کی تلخیاں سہہ جاتے ہیں اور زمانے کی دھوپ میں چھتری بن کر کھڑے رہتے ہیں، لیکن اصل معرکہ تو تب شروع ہوتا ہے جب شام ڈھلے ہم خود اپنے ہی سامنے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں۔
خود سے الجھنے کا کرب
دن بھر کی دوڑ بھاگ میں ہم کئی بار خود سے الجھتے ہیں۔
کبھی اپنی ناکامیوں پر، کبھی دوسروں کے سامنے کہی گئی کسی غیر ضروری بات پر، اور کبھی حالات کے جبر پر۔
یہ الجھن دراصل ہمارے "نفس" اور ہماری "انا" کے درمیان ایک خاموش جنگ ہے۔
جب ہم اپنی توقعات پر پورا نہیں اتر پاتے، یا جب ہمارا ضمیر ہمیں کسی فیصلے پر ٹوکتا ہے، تو اندر ایک بے نام سی بے چینی جنم لیتی ہے۔
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان ہجوم میں ہو کر بھی تنہا ہوتا ہے، کیونکہ اس کا اصل مقابلہ تو اپنے ہی خیالات سے ہوتا ہے۔
ہم عجیب ہیں ، بہت عجیب ہیں ۔
خود ہی مدعی بن جاتے ہیں اور خود ہی منصف۔
کبھی ہم اپنے اوپر ضرورت سے زیادہ سختی کرتے ہیں اور کبھی اپنی ہی کوتاہیوں کو جواز فراہم کرنے لگتے ہیں۔
یہ دن بھر کی تکرار دراصل خود آگاہی کا ایک حصہ ہے۔
جو شخص خود سے نہیں الجھتا، وہ کبھی اپنے اندر کی اصلاح نہیں کر پاتا۔
لیکن اس الجھن کی ایک حد ہونی چاہیے۔
اگر یہ الجھن خود اذیتی (Self-torture) میں بدل جائے، تو روح تھکنے لگتی ہے۔
اصل حسن خود کو "منانے" کے عمل میں ہے۔
رات کی تنہائی میں جب ضمیر کے سوالات تھک کر خاموش ہونے لگتے ہیں، تو ہمیں اپنے ہی کندھے پر ہاتھ رکھنا پڑتا ہے۔
خود کو منانا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اگر ہم نے خود کو معاف نہ کیا، تو ہم کل کے نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
خود کو منانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی غلطیوں پر پردہ ڈال دیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی انسانی جبلت کو تسلیم کریں۔
یہ کہنا کہ "ہاں، میں انسان ہوں، مجھ سے غلطی ہوئی، لیکن میں کل اسے بہتر کرنے کی کوشش کروں گا،" دراصل اپنی ذات سے صلح کا پہلا قدم ہے۔
دن بھر کی اس ذہنی تھکن کے بعد جب ہم خود کو منا کر بستر پر لیٹتے ہیں، تو وہ نیند کسی میڈل سے کم نہیں ہوتی۔
یہ خود سے الجھنا اور پھر
خود کو منانا ہی ہمیں جینا سکھاتا ہے۔
یہ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا چاہے ہم سے کتنی ہی ناراض کیوں نہ ہو، اگر ہم خود اپنے ساتھ کھڑے ہیں، تو ہم ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔
سب سے بہترین دوست وہ ہے جو آپ کے اندر بستا ہے۔ اس سے الجھیے ضرور تاکہ نکھار پیدا ہو، مگر اسے منائیے بھی ضرور تاکہ زندگی کا پہیہ چلتا رہے۔
اکثر اوقات ہم باہر کے شور سے بچنے کے لیے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، لیکن اس شور کا کیا کریں جو ہمارے اندر برپا ہوتا ہے؟
خود سے الجھنے کا عمل دراصل ایک "احتسابی عمل" ہے جسے ہم شعوری طور پر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ دن بھر کی گفتگو، ملاقاتیں، اور فیصلے جب رات کے سکون میں ہمارے سامنے دوبارہ فلم کی طرح چلتے ہیں، تو ہمیں اپنی کمزوریاں زیادہ واضح نظر آتی ہیں۔ یہ الجھن ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہمارے اندر کا انسان ابھی مرا نہیں ہے، وہ ابھی بھی بہتری کی تڑپ رکھتا ہے۔
نفسیات دان کہتے ہیں کہ "سیلف کمپیشن" (Self-Compassion) یعنی اپنی ذات کے ساتھ ہمدردی، ذہنی صحت کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ جسم کے لیے پانی۔
خود کو منانا اس لیے بھی لازم ہے کہ ہم دنیا کے سامنے ایک مضبوط چہرہ لے کر جا سکیں۔
اگر ہم اندر سے ہی ٹوٹے ہوئے ہوں گے اور خود سے ہی ناراض رہیں گے، تو ہماری کارکردگی اور رشتوں پر اس کا منفی اثر پڑے گا۔ خود کو منانا دراصل خود کو ایک اور موقع دینے کا نام ہے۔
ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ کمال صرف خالق کی صفت ہے، مخلوق تو بنی ہی تضادات اور کوتاہیوں کے لیے ہے۔ جب ہم خود سے الجھتے ہیں، تو ہم دراصل "کمال" کی تلاش میں ہوتے ہیں، اور جب ہم خود کو مناتے ہیں، تو ہم اپنی "بندگی" اور "انسانیت" کو تسلیم کر لیتے ہیں۔
یہ اعتراف کہ "میں ہر وقت صحیح نہیں ہو سکتا" ہمیں انا کے بوجھ سے آزاد کر دیتا ہے۔
جس طرح ایک بانسری کے اندر کی ہوا جب تک الجھتی نہیں، سر پیدا نہیں ہوتے، اسی طرح انسانی شخصیت کا نکھار بھی اس اندرونی تکرار کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن فنکاری یہ ہے کہ اس تکرار کو "تعمیری" رکھا جائے۔ خود کو منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ
اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کی تعریف کی جائے۔
اپنی غلطیوں کو سبق کے طور پر قبول کیا جائے۔
اور یہ یاد رکھا جائے کہ کل کا سورج ایک نیا آغاز لے کر آئے گا۔
دن بھر کی اس جنگ میں فاتح وہ نہیں جو خود کو ہرا دے، بلکہ فاتح وہ ہے جو خود کو گلے لگا کر یہ کہہ سکے کہ "آج جو ہوا سو ہوا، کل ہم مل کر پھر سے کوشش کریں گے۔" اپنی ذات سے یہ دوستی ہی وہ واحد سہارا ہے جو ہمیں زندگی کے تلاطم میں ڈوبنے سے بچاتی ہے۔

Comments