بیساکھ کی سنہری رنگت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی، بشرطیکہ نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو۔

 


---روما محمود---




بیساکھ محض ایک مہینے کا نام نہیں بلکہ یہ پنجاب کی ثقافت، ہمت اور خوشحالی کی علامت ہے۔ جب سورج کی تپش گندم کی بالیوں کو سنہرا رنگ بخشتی ہے، تو کسان کی آنکھوں میں امید کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔ بیساکھ کا آغاز ہوتے ہی پنجاب کی مٹی سے جڑی وہ قدیم روایات زندہ ہو جاتی ہیں جو ہمیں اپنی جڑوں سے جوڑتی ہیں۔



​بیساکھ کا سب سے خوبصورت منظر گندم کی کٹائی ہے۔ کسان، جو سارا سال خون پسینہ ایک کر کے زمین کی آبیاری کرتا ہے، اس مہینے میں اپنی محنت کو ٹھکانے لگتا دیکھتا ہے۔ یہ فصل صرف اناج نہیں بلکہ دیہاتی معیشت کی بنیاد ہے؛ اسی سے خوشیاں خریدی جاتی ہیں، اسی سے بچوں کی شادیاں طے پاتی ہیں اور اسی سے زندگی کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے۔


​بیساکھ کے ساتھ ہی پنجاب کے طول و عرض میں میلوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے جوان اور رنگ برنگے لباس پہنے بچے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تہوار جینے کی امنگ پیدا کرتا ہے۔ "میلہ بیساکھی" جہاں تفریح کا ذریعہ ہے، وہاں یہ ہماری علاقائی یکجہتی اور بھائی چارے کا بھی عکاس ہے۔


​آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زراعت کا نقشہ بدل دیا ہے، وہاں بیساکھ کی وہ روایتی گہما گہمی بھی کچھ متاثر ہوئی ہے۔ پہلے کٹائی کے وقت جو سماجی میل جول اور باہمی تعاون (ونگار) دیکھنے کو ملتا تھا، اب اس کی جگہ مشینوں نے لے لی ہے۔ تاہم، اس مہینے کی خوشبو اور اہمیت آج بھی برقرار ہے۔


​بیساکھ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر کٹھن وقت (سردی اور محنت) کے بعد خوشحالی کا دور ضرور آتا ہے۔ یہ  اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب تک کسان خوشحال ہے، ہمارا دسترخوان آباد ہے اور ہماری ثقافت زندہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ان زرعی اور ثقافتی روایات کو نہ صرف محفوظ رکھیں بلکہ نئی نسل کو بھی اس "سنہری ورثے" سے روشناس کرائیں۔

بیساکھ صرف کٹائی کا موسم نہیں، یہ زمین سے جڑے انسانوں کی فتح کا جشن ہے۔


بیساکھ کی تپتی دوپہروں میں جب درانتیاں گندم کی سنہری فصل سے ٹکراتی ہیں، تو وہ صرف ایک پودا نہیں کٹتا بلکہ کسان کے خوابوں کی تعبیر کا عمل شروع ہوتا ہے۔ 


​پنجاب کی روایت میں بیساکھ صرف ایک معاشی سرگرمی نہیں بلکہ ایک روحانی تجربہ بھی ہے۔ جب پہلا ڈھیر کھلیان میں لگتا ہے، تو کسان سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب زمین کی سخاوت اور انسان کی مشقت ایک دوسرے کے گلے ملتی ہیں۔ دیہاتوں میں آج بھی یہ رواج ہے کہ فصل کٹنے پر محتاجوں اور غریبوں کا حصہ سب سے پہلے نکالا جاتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ خوشحالی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔


​بیساکھ کی رت اور گندم کی کٹائی کا ذکر ہماری شاعری اور لوک گیتوں کے بغیر ادھورا ہے۔ مٹی کی مہک جب ہواؤں میں گھلتی ہے تو فضاؤں میں "ماہیے" اور "ٹپے" گونجنے لگتے ہیں۔

​"کنکاں دی کٹائی مکی، میلہ لگا یارو"


​جیسے اشعار اس جوش و جذبے کی عکاسی کرتے ہیں جو کسان کی تھکن کو مٹا کر اسے رقص کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب پنجاب کا اصل چہرہ—خالص، سادہ اور جفاکش—پوری دنیا کے سامنے نکھر کر آتا ہے۔


​اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو بیساکھ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی یعنی زراعت کی مضبوطی کا مہینہ ہے۔ منڈیوں میں ٹرالیوں کی قطاریں اور شہروں تک پہنچتا تازہ اناج ملکی معیشت میں نئی روح پھونک دیتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب دیہات سے لے کر شہر کے تاجر تک، ہر کوئی اس "سنہری لہر" سے مستفید ہوتا ہے۔ اگر بیساکھ کی فصل اچھی ہو، تو ملک کا پورا سال معاشی طور پر مستحکم گزرتا ہے۔


​ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بیساکھ کا کالم محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تہذیب کا نوحہ اور جشن دونوں ہے۔ جہاں ہم جدیدیت کی طرف بڑھ رہے ہیں، وہاں ہمیں اس "دھرتی پتر" (کسان) کی اہمیت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا جو تپتی دھوپ میں ہمارے لیے رزق سمیٹتا ہے۔ بیساکھ ہمیں اتحاد، ہمت اور قدرت پر بھروسے کا درس دیتا ہے۔

​یہ مہینہ ایک عہد ہے کہ ہم اپنی مٹی سے وفادار رہیں گے اور ان قدیم جذبوں کو مرنے نہیں دیں گے جو ہماری شناخت ہیں۔



Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔