چسکے دار گفتگو اور کھوکھلی پارسائی، ایک معاشرتی منافقت۔

 



--- روما محمود---

یہ ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جو ہمارے سماجی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنا اور ان کے گھر کے بھیدوں کو محفلوں کی زینت بنانا ایک ذہنی مشغلہ بن چکا ہے۔



ہمارے معاشرے میں ایک عجیب و غریب نفسیاتی گرہ لگ چکی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی کی تلخیاں چھپانے کے لیے دوسروں کے گھروں سے اٹھنے والے دھوئیں کی ضرورت پڑتی ہے۔

کسی کے بچے کی ناکامی ہو، کسی کے گھر کا جھگڑا ہو یا کسی کی نجی زندگی کا کوئی حساس معاملہ۔

ہمیں اس وقت تک سکون نہیں ملتا جب تک ہم اسے نمک مرچ لگا کر چار لوگوں کے سامنے بیان نہ کر لیں۔ المیہ یہ نہیں کہ لوگ باتیں کرتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وہ یہ سب کچھ "چسکے" لے کر کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ دعا بھی مانگتے ہیں کہ "یا اللہ! میرے معاملات درست رہیں"۔

آج کل کی محفلوں کا احوال دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گفتگو کے لیے اب کوئی تعمیری موضوع باقی نہیں رہا۔

جب دو یا چار لوگ اکٹھے بیٹھتے ہیں، تو غیبت اور تجسس کا ایک ایسا بازار گرم ہوتا ہے جس میں دوسروں کے بچوں کی عادات، ان کی تعلیم، ان کی شادیاں اور ان کے گھروں کے اندرونی معاملات کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ جس طرح ہمارے گھر کی چار دیواری کا ایک تقدس ہے، ویسے ہی دوسروں کی زندگی بھی سر بستہ رازوں کی امین ہے۔

کسی کے بچے کی چھوٹی سی لغزش ہمارے لیے "بریکنگ نیوز" بن جاتی ہے۔ ہم اس پر تبصرے کرتے ہیں، اس کے والدین کی تربیت پر سوال اٹھاتے ہیں اور اسے زمانے بھر میں ذلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ یہ لفظی تیر جب کسی کے دل پر لگتے ہیں تو کیا گزرتی ہے؟

اس پوری صورتحال کا سب سے بھیانک پہلو وہ دوغلا پن ہے جسے ہم پارسائی کا لبادہ پہنا دیتے ہیں۔ ہم دوسروں کے عیب اچھالنے کے بعد فوراً ہاتھ اٹھا کر اپنے گھر کی عافیت مانگنے لگتے ہیں۔ یہ کیسی منطق ہے کہ ہم دوسروں کے گھروں میں آگ لگا کر اپنے لیے گلستان کی دعا کریں؟

یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کسی کی بیٹی کے نصیب پر طنز کریں اور آپ کی اپنی اولاد محفوظ رہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کسی کے گھر کے جھگڑے کو چوراہے پر بیان کریں اور آپ کے اپنے گھر میں سکون کی بانسری بجتی رہے۔

جب ہم دوسروں کے پردے چاک کرتے ہیں، تو ہم دراصل قدرت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ہمارے اپنے عیبوں سے بھی پردہ ہٹا دے۔

دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانا اور ان کی نجی باتوں کو پبلک کرنا دراصل ایک اخلاقی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری اپنی زندگی اتنی بنجر اور بے مقصد ہو چکی ہے کہ ہمیں جینے کے لیے دوسروں کے قصوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔ ہم دوسروں کے بچوں کی خامیوں کو اس لیے اچھالتے ہیں تاکہ اپنی اولاد کی نالائقیوں پر پردہ ڈال سکیں، یا شاید اس لیے کہ ہمیں دوسروں کو گرتا دیکھ کر ایک شیطانی خوشی محسوس ہوتی ہے۔

عافیت اس میں نہیں ہے کہ ہم دوسروں کی زندگی کے جج بن کر بیٹھ جائیں۔ عافیت اس میں ہے کہ ہم اپنے عیبوں پر نظر رکھیں اور دوسروں کے لیے وہی چاہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔

اگر کسی کا بچہ غلط راستے پر ہے، تو اسے زمانے بھر میں رسوا کرنے کے بجائے اس کے لیے دعا کریں۔

اگر کسی کے گھر میں ناچاقی ہے، تو اسے تماشہ بنانے کے بجائے صلح کی کوشش کریں یا کم از کم اپنی زبان کو لگام دیں۔
یاد رکھیے! زبان سے نکلا ہوا ایک جملہ کسی کی زندگی برباد کر سکتا ہے۔

اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارے معاملات درست رہیں، ہماری اولادیں نیک بنیں اور ہمارے گھروں میں برکت رہے، تو ہمیں دوسروں کے گھروں سے اپنی نظریں ہٹانی ہوں گی۔

ہمیں "چسکے" لینے کی عادت کو خیرباد کہنا ہوگا۔ جس دن ہم نے دوسروں کے عیبوں کو چھپانا شروع کر دیا، اس دن قدرت ہمارے عیبوں پر بھی پردہ ڈال دے گی۔

اپنے گھر کی دیواریں اونچی کرنے سے عافیت نہیں ملتی، بلکہ دوسروں کی دیواروں کا احترام کرنے سے گھر محفوظ ہوتے ہیں۔

دعا تب ہی قبول ہوتی ہے جب دل میں دوسروں کے لیے میل نہ ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔