سفید پھولوں کی داستان قدیم غاروں سے برصغیر کی گلیوں تک

 



--- روما محمود---


میرے سامنے دیگچی میں پاپ کارن اچھل رہے تھے کچھ تو دیگچی سے باہر ہی نکل کر نیچے گر گے تھے۔

تو ذہن میں
پاپ کارن کی تاریخ، عالمی سفر اور برصغیر کی گلیوں سے جڑی یادوں پر مبنی ایک فلم سی چلنی شروع ہو گئی۔،



جو اس ننھے سے دانے کے ارتقاء اور انسانی جبلت کے باہمی تعلق کو بیان کرتی ہے۔

کبھی کبھی زندگی کی سب سے بڑی سچائیاں سب سے چھوٹی چیزوں میں چھپی ہوتی ہیں۔ ایک خشک، سخت اور بظاہر بے جان مکئی کا دانہ جب تپتی ہوئی آگ کی آغوش میں جاتا ہے، تو ایک لمحے کے لیے رکتا ہے، جیسے اپنی ہستی پر غور کر رہا ہو، اور پھر اچانک ایک دھماکے کے ساتھ اپنے اندر چھپا سارا سفید نور باہر بکھیر دیتا ہے۔ یہ پاپ کارن ہے

—انسانی تاریخ کا وہ قدیم ترین "اسنیک" جو محض غذا نہیں، بلکہ صبر، تپش اور نمو کی ایک استعاراتی کہانی ہے۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاپ کارن کا سفر کسی سنسنی خیز فلم سے کم نہیں۔ ہزاروں سال پہلے، جب انسان نے ابھی تہذیب کی لکیریں کھینچنا شروع ہی کی تھیں، میکسیکو کی پراسرار غاروں میں مکئی کے یہ ننھے دانے تپتی ریت پر اپنا رقص دکھا رہے تھے۔

آثار قدیمہ کے ماہرین کو چار ہزار سال پرانے پاپ کارن کے نمونے ملے ہیں، جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ قدیم انسان نے شاید ستاروں کو دیکھنے سے بھی پہلے ان سفید پھولوں کو چکھ لیا تھا۔

قدیم مقامی امریکی قبائل کے لیے پاپ کارن محض خوراک نہیں بلکہ ایک ماورائی قوت کا مظہر تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر دانے کے اندر ایک چھوٹا سا دیوتا یا روح قید ہے جو خاموشی سے زندگی گزارتی ہے، لیکن جب اسے حرارت کی اذیت دی جاتی ہے، تو وہ غصے میں آ کر اپنے خول کو توڑتی ہے اور ایک سفید بادل کی صورت میں باہر نکل آتی ہے۔

یہ تصور کتنا دلچسپ ہے کہ ایک ننھی سی شے کے پیچھے پوری ایک دیومالائی داستان چھپی ہوئی تھی۔ وہ اسے کھاتے بھی تھے، اس سے اپنے گلے کے ہار بھی بناتے تھے اور اپنے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے اسے نذرانہ بھی پیش کرتے تھے۔

لیکن پاپ کارن کا جدید دنیا میں عروج ایک معاشی معجزے کی مانند تھا۔ 1930 کی دہائی میں جب امریکہ "گریٹ ڈپریشن" کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا اور لوگوں کے پاس پیٹ بھرنے کے پیسے نہیں تھے، تب پاپ کارن وہ سستا سہارا بن کر ابھرا جس نے بھوکے انسانوں کو تفریح کے چند لمحات فراہم کیے۔

یہی وہ دور تھا جب سنیما اور پاپ کارن کا وہ لازوال نکاح ہوا جو آج تک قائم ہے۔ شروع میں سنیما کے مالکان اس "شور مچانے والی غذا" سے بیزار تھے، انہیں ڈر تھا کہ ان کے قالین خراب ہوں گے اور فلم کا سنجیدہ ماحول متاثر ہوگا۔ مگر جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ فلم کے ٹکٹ سے زیادہ پاپ کارن پر پیسے خرچ کر رہے ہیں، تو انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ آج ملٹی پلیکس سینماؤں کی چمچماتی اسکرینیں ادھوری ہیں اگر آپ کے ہاتھ میں مکھن سے لتھڑا ہوا پاپ کارن کا ٹب موجود نہ ہو۔

اب ذرا عالمی نقشے سے نظریں ہٹا کر اپنے برصغیر کی مٹی کی سوندھی خوشبو کی طرف آئیں۔

یہاں پاپ کارن کا سفر ایک الگ ہی رنگ و روپ میں نظر آتا ہے۔ برصغیر میں مکئی کی آمد پرتگالیوں کے ذریعے ہوئی، لیکن یہاں کے باسیوں نے اسے اپنا ایسا رنگ دیا کہ یہ ہماری ثقافت کا حصہ بن گئی۔ یہاں اسے "پاپ کارن" کہنے سے پہلے "پھلیاں"، "پھول" یا "بھنی ہوئی مکئی" کہا گیا۔

میرے بچپن کی یادوں میں پاپ کارن کا مطلب وہ رنگین پیکٹ نہیں تھا جو آج کے مالز میں ملتا ہے، بلکہ وہ "بھٹی والا" تھا جو شام ڈھلے گلی کے نکڑ پر اپنی انگیٹھی دہکاتا تھا۔ برصغیر کی روایتی بھٹی میں ریت کا استعمال ایک سائنسی شاہکار تھا۔ کڑاہی میں کالی ریت جب کوئلوں کی آنچ پر تپ کر سرخ ہو جاتی، تو اس میں مکئی کے پیلے دانے ڈالے جاتے۔ پھر ایک بڑی سی آہنی چمچ سے اس ریت کو ہلایا جاتا۔ چند ثانیوں کی خاموشی کے بعد "پھڑ پھڑ" کی وہ مخصوص موسیقی شروع ہوتی جو کسی بھی آرکسٹرا سے زیادہ مسحور کن تھی۔ ریت کی تپش دانوں کے خول کو توڑتی اور دیکھتے ہی دیکھتے کڑاہی سفید پھولوں سے بھر جاتی۔

وہ پاپ کارن جو ریت میں بھنے جاتے تھے، ان میں مٹی کی ایک خاص مہک ہوتی تھی۔
وہ "سوندھا پن" جو آج کے الیکٹرک پاپرز کبھی پیدا نہیں کر سکتے۔ برصغیر کے دیہاتوں میں یہ محض وقت گزاری کا ذریعہ نہیں تھا، بلکہ سماجی میل ملاپ کا بہانہ تھا۔

سردیوں کی طویل راتوں میں جب الاؤ جلتے، تو گھر کی بڑی بوڑھیاں کڑھائی چولہے پر رکھتیں اور بچے اردگرد بیٹھ کر دانوں کے پھٹنے کا انتظار کرتے۔ ان دانوں کو اکثر گڑ (جگری) کے ساتھ کھایا جاتا تھا، جو ایک بہترین انرجی بوسٹر کا کام دیتے تھے۔

پاکستانی معاشرے میں پاپ کارن کا ارتقاء ایک عجیب تضاد کا شکار رہا ہے۔ ایک طرف وہ سڑک کنارے کھڑا ریڑھی والا ہے جو چند روپوں میں کاغذ کے تھیلے میں بھر کر نمکین پاپ کارن دیتا ہے، جس کی لذت اس کی سادگی میں ہے۔ دوسری طرف وہ جدید سینما گھر ہیں جہاں پاپ کارن کی قیمت شاید فلم کے ٹکٹ سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ وہاں اب کیریمل، پنیر، چاکلیٹ اور پیپریکا جیسے غیر ملکی ذائقوں نے جگہ لے لی ہے۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ پاپ کارن کی روح آج بھی وہی قدیم ہے۔

پاپ کارن ہمیں ایک اہم سبق بھی دیتا ہے۔ ایک دانہ جو دوسرے دانوں کے ساتھ ایک ہی کڑاہی میں ہوتا ہے، ایک ہی جتنی تپش جھیلتا ہے، لیکن ہر دانہ اپنے وقت پر پھولتا ہے۔ کچھ جلدی پھٹ جاتے ہیں اور کچھ دیر لگاتے ہیں۔ یہ انسانی صلاحیتوں اور وقت کی مانند ہے۔ ہم سب ایک ہی زندگی کی کڑھائی میں ہیں، حالات کی تپش سب پر ہے، لیکن ہر انسان کے کھلنے کا اپنا ایک موسم ہوتا ہے۔

آج جب میں کسی جدید مال میں پاپ کارن کی مصنوعی خوشبو سونگھتی ہوں، تو مجھے وہ قدیم میکسیکن غاریں، وہ امریکی کسان اور برصغیر کی وہ ریت والی بھٹی یاد آتی ہے۔ یہ سفر جو چار ہزار سال پہلے شروع ہوا تھا، آج بھی جاری ہے۔ یہ سفید پھول گواہ ہیں کہ انسان نے ہمیشہ مشکل اور تپش میں سے خوبصورتی کشید کرنے کا ہنر جانا ہے۔

پاپ کارن کی تاریخ دراصل انسانی ذوق کی تاریخ ہے۔ یہ ایک ایسی غذا ہے جس نے طبقاتی فرق مٹا دیے۔ یہ بادشاہوں کے درباروں میں بھی پہنچا اور مفلس کی جھونپڑی میں بھی۔ یہ فلم کی سنسنی میں بھی ساتھ دیتا ہے اور بارش کی خاموشی میں بھی۔

مکئی کا وہ چھوٹا سا دانہ جب پھٹتا ہے، تو وہ صرف سفید فوم نہیں بنتا، وہ اپنے ساتھ وابستہ ہزاروں سال کی داستانوں کو بھی آزاد کر دیتا ہے۔

اگلی بار جب آپ پاپ کارن کا ایک دانہ اپنے منہ میں رکھیں، تو تھوڑی دیر کے لیے رکیں۔ اس کے کرارے پن میں ان کوئلوں کی تپش محسوس کریں، اس کے سفید رنگ میں تاریخ کی سچائی دیکھیں اور اس کی سادگی میں اس قدیم انسانی تہذیب کو ڈھونڈیں جس نے سب سے پہلے ایک سخت دانے کے اندر چھپے اس سفید معجزے کو دریافت کیا تھا۔

پاپ کارن صرف ایک "اسنیک" نہیں ہے—یہ وقت کے دھارے پر تیرتا ہوا ایک ایسا پھول ہے جو کبھی مرجھاتا نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔