دانتوں کی کہانی، روایت، ادب اور جدید طب
---روما محمود---
دانتوں کی اہمیت محض طبی نہیں بلکہ ثقافتی، سماجی اور ادبی بھی ہے۔
دانت انسانی وجود کا وہ حصہ ہیں جو نہ صرف خوراک کو جسم کا حصہ بناتے ہیں بلکہ انسانی تاریخ اور تہذیب میں بھی ان کا گہرا ذکر ملتا ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ گفتگو اور اردو ادب پر نظر ڈالیں تو دانتوں کا ذکر جابجا ملتا ہے۔
کبھی کسی کی حیرت کو بیان کرنے کے لیے "دانتوں تلے انگلی دبانا" کا محاورہ استعمال ہوتا ہے، تو کبھی دشمن کی شکست کے لیے "دانت کھٹے کرنا" کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دانت ہماری نفسیات اور اظہار کا کتنا اہم حصہ ہیں۔
برصغیر کی تاریخ میں دانتوں کی صفائی کے لیے 'مسواک' اور 'دانتن' کا استعمال صدیوں پرانی روایت ہے۔ پیلو، نیم اور کیکر کی ٹہنیوں سے دانت صاف کرنے کا رواج محض ایک ضرورت نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ تھا۔ آج کی جدید طب بھی اعتراف کرتی ہے کہ ان درختوں کے ریشوں میں موجود قدرتی اجزاء دانتوں کے لیے کسی بھی مہنگے ٹوتھ پیسٹ سے بہتر کام کرتے ہیں۔
مشہور مقولہ ہے کہ "معدے کا پہلا حصہ منہ میں ہوتا ہے۔"
اگر دانت خوراک کو درست طریقے سے پیسنے (Grinding) کے قابل نہ ہوں تو معدے پر بوجھ بڑھ جاتا ہے، جو آگے چل کر بے شمار بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔
جدید تحقیق تو یہاں تک کہتی ہے کہ مسوڑھوں کی بیماریاں دل کے امراض (Heart Diseases) اور ذیابیطس سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔ گویا منہ کی صفائی پورے جسم کی صفائی کی بنیاد ہے۔
ہمارے معاشرے میں دانتوں کے حوالے سے کچھ باتیں مشہور ہیں جو حقیقت پر مبنی نہیں۔
صفائی سے دانت کمزور ہوتے ہیں یہ ایک عام مغالطہ ہے۔ درحقیقت دانتوں پر جمی میل (Calculus) مسوڑھوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
مسوڑھوں سے خون آنا کسی بھی صورت نارمل نہیں، یہ انفیکشن کی پہلی علامت ہے جسے نظر انداز کرنا دانت گرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
سخت برش زیادہ صفائی کرتا ہے۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سخت برش دانتوں کی حفاظتی تہہ (Enamel) کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ہمیشہ 'نرم' (Soft) برش کا انتخاب کریں۔
نفسیاتی طور پر وہ لوگ زیادہ خود اعتماد (Confident) ہوتے ہیں جن کے دانت صاف اور صحت مند ہوتے ہیں۔ ایک بھرپور مسکراہٹ نہ صرف آپ کے تناؤ کو کم کرتی ہے بلکہ سامنے والے پر آپ کا مثبت اثر ڈالتی ہے۔
دانت وہ قیمتی زیور ہیں جن کی قدر کھونے کے بعد ہی ہوتی ہے۔ جس طرح ہم اپنے لباس اور چہرے کی چمک دمک کا خیال رکھتے ہیں، اسی طرح ان موتیوں کی آب و تاب برقرار رکھنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ یاد رکھیے، ہاضمے کا نظام اور گفتگو کا تمکنت، دونوں دانتوں کی سلامتی میں پوشیدہ ہیں۔
کہتے ہیں کہ "انسان کی خوبصورتی اس کی گفتگو میں ہے اور گفتگو کا حسن اس کی مسکراہٹ میں۔" لیکن اس مسکراہٹ کو چار چاند لگانے والے وہ بتیس موتی ہیں جنہیں ہم 'دانت' کہتے ہیں۔ ہم اپنے چہرے کی جلد، بالوں اور لباس پر تو ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں، مگر اکثر ان خاموش مجاہدوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو صبح سے رات تک ہمارے لیے چکی کا کام کرتے ہیں۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دانتوں کا کام صرف نوالہ توڑنا ہے، حالانکہ یہ ہماری شخصیت کے معمار ہیں۔ دانت نہ ہوں تو چہرہ پچک جاتا ہے اور انسان اپنی عمر سے دس سال بڑا نظر آنے لگتا ہے۔ صرف یہی نہیں، ہماری گفتگو میں 'س'، 'ز' اور 'ش' جیسے حروف کی درست ادائیگی انہی دانتوں مرہونِ منت ہے۔ کبھی کسی ایسے شخص سے بات کر کے دیکھیں جس کے سامنے کے دانت ٹوٹ چکے ہوں، آپ کو اندازہ ہوگا کہ دانت صرف کھانے کے لیے نہیں، بلکہ 'بات' کرنے کے لیے بھی کتنے ضروری ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ہمیں دانتوں کی یاد تب آتی ہے جب وہ 'درد' کی صورت میں احتجاج کرتے ہیں۔ دانت کا درد وہ واحد اذیت ہے جو انسان کو راتوں کی نیند اور دن کا سکون چھین لیتی ہے۔ ہم گاڑی کی سروس وقت پر کرواتے ہیں، موبائل کا سافٹ ویئر اپڈیٹ کرتے ہیں، مگر کیا کبھی چھ ماہ بعد ڈینٹسٹ کو اپنا چہرہ دکھانے کی زحمت کی؟
آج کل کی جنک فوڈ، کولڈ ڈرنکس اور حد سے زیادہ میٹھا ہمارے دانتوں کے لیے خاموش قاتل بن چکے ہیں۔ ہم دانتوں پر جمنے والی 'پلاک' (Plaque) کو معمولی سمجھتے ہیں، جو آہستہ آہستہ پتھر بن کر مسوڑھوں کو جکڑ لیتی ہے اور پھر وہی دانت جو پہاڑ جیسا اخروٹ توڑ سکتے تھے، ہلنا شروع کر دیتے ہیں۔
دانتوں کی حفاظت کوئی راکٹ سائنس نہیں، بس تھوڑی سی باقاعدگی مانگتی ہے۔
صبح ناشتے کے بعد اور رات سونے سے پہلے برش کرنا فرض عین سمجھیں۔ رات والا برش زیادہ اہم ہے کیونکہ رات بھر جراثیم کو آپ کے منہ میں 'پارٹی' کرنے کا موقع ملتا ہے۔
آرے کی طرح برش نہ رگڑیں، بلکہ نرمی سے اوپر نیچے اور گولائی میں صاف کریں۔ یاد رکھیں، آپ دانت صاف کر رہے ہیں، فرش نہیں۔
بدبو دار سانسوں کا بڑا سبب زبان پر جمی میل ہوتی ہے، اسے صاف کرنا نہ بھولیں۔
ہر کھانے کے بعد کلی کرنے کی عادت ڈالیں، یہ آدھے مسائل کا حل ہے۔
دانت قدرت کا وہ عطیہ ہیں جو دوبارہ نہیں ملتے۔ مصنوعی دانت (Denture) بھلے کتنے ہی مہنگے کیوں نہ ہوں، وہ قدرت کے دیے ہوئے 'اصلی موتیوں' کا نعم البدل نہیں ہو سکتے۔ اپنی مسکراہٹ کو برقرار رکھنے کے لیے دانتوں کی قدر کریں، اس سے پہلے کہ آپ کو مسکراتے ہوئے ہونٹوں پر ہاتھ رکھنا پڑے۔
تندرست دانت صرف اچھی صحت کی علامت نہیں، بلکہ ایک پراعتماد زندگی کی ضمانت بھی ہیں۔

Comments