حقِ باطل اور پہاڑوں جیسی چالیں ایک اٹل حقیقت

 

 

---روما محمود---



قران مجید حکمت سے بھرا کلام الہی ہے
اس کی ایک ایک آیت
ہر زمانے ، ہر دور کے لیے لکھی معلوم ہوتی ہے ۔

قرآنِ کریم کی ایک آیت کا مفہوم ہے کہ "ان کی چالیں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں"۔
یہ آیت کفار مکہ کی چالوں سے اگہی کے لیے اتری تھی۔

مگر یہ ہر دور ، ہر ذمانے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئی ہے۔

   اگر ہم انسانی تاریخ، سیاست اور موجودہ دور کے سماجی ڈھانچوں پر نظر ڈالیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ انسانی سازشیں اور منفی تدبیریں کتنی ہیبت ناک ہو سکتی ہیں۔


جب ہم "پہاڑوں کے ہلنے" کی بات کرتے ہیں، تو اس سے مراد کسی مادی پہاڑ کا سرکنا نہیں، بلکہ معاشرے کے ان استحکام والے ستونوں کا متزلزل ہونا ہے جن پر انسانیت کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے۔

آج کے دور میں پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ ایسی "چالیں" ہیں جو قوموں کے نظریات بدل دیتی ہیں۔ جب نظریات بدلتے ہیں، تو برسوں پرانی تہذیبیں (جو پہاڑوں کی طرح مضبوط ہوتی ہیں) لمحوں میں زمین بوس ہو جاتی ہیں۔

عالمی منظرنامے پر ایسی چالیں چلی جاتی ہیں کہ مستحکم ریاستیں عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ معیشتوں کو اس طرح کنٹرول کیا جاتا ہے کہ غریب قومیں ہمیشہ کے لیے غلامی کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں۔


تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حق کے سامنے باطل آیا، اس نے نہایت پیچیدہ اور خوفناک چالیں چلیں۔

ان چالوں کا مقصد صرف فتح حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ حق کے وجود کو جڑ سے اکھاڑنا ہوتا ہے۔


پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلانے کا استعارہ اس لیے استعمال کیا گیا تاکہ انسان کو خبردار کیا جا سکے کہ دشمن کو کمزور نہ سمجھو۔

اس کی چالیں اتنی منظم اور طاقتور ہو سکتی ہیں کہ وہ تمہارے پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیں۔

کیا یہ چالیں کامیاب ہوتی ہیں؟

اگرچہ ان چالوں میں پہاڑ ہلا دینے والی شدت ہوتی ہے، لیکن کائنات کا ایک اٹل قانون یہ بھی ہے کہ "مکرِ الہٰی" یعنی اللہ کی تدبیر سب سے بہتر ہوتی ہے۔

جو لوگ پہاڑ جیسی مضبوطی کے ساتھ سچائی پر قائم رہتے ہیں، ان کے لیے یہ چالیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔

باطل کی چالیں جتنی بھی گہری کیوں نہ ہوں، سچائی کی ایک کرن انہیں بے نقاب کر دیتی ہے۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر طرف "چالوں" کا جال بچھا ہے۔ سوشل میڈیا کی گمراہ کن معلومات سے لے کر عالمی سیاست کے پیچیدہ مہرے تک، ہر چیز انسانی ذہن کو مغلوب کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہے کہ اگرچہ یہ چالیں پہاڑوں کو ہلا دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن کردار کی مضبوطی  وہ ڈھال ہے جو کسی بھی سازش کو ناکام بنا سکتی ہے۔

پہاڑ تو اپنی جگہ سے ہل سکتے ہیں، لیکن سچائی پر مبنی ایمان اور عزمِ مصمم وہ چٹان ہے جس سے ٹکرا کر بڑی سے بڑی سازش پاش پاش ہو جاتی ہے۔

  ایک گہرا جائزہ
جب ہم ان چالوں کی سنگینی پر غور کرتے ہیں جو "پہاڑوں کو ہلا دینے" کی سکت رکھتی ہیں، تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ محض جسمانی قوت کا نہیں بلکہ ذہنی اور اعصابی حربوں کا تذکرہ ہے۔

انسانی تاریخ میں ایسے موڑ کئی بار آئے جہاں بظاہر مٹھی بھر لوگوں نے اپنے مکر و فریب سے پوری انسانیت کا رخ موڑنے کی کوشش کی۔

جدید دور کی "پہاڑ ہلا دینے والی" چالیں کون سی ہیں۔

آج کے دور میں یہ چالیں خاموش اور نظر نہ آنے والی (Invisible) ہو چکی ہیں۔ اب دشمن قلعوں پر حملہ نہیں کرتا، بلکہ وہ ذہنوں کو تسخیر کرتا ہے۔

سود اور قرض کے ایسے پیچیدہ جال بنے جاتے ہیں کہ آزاد ریاستیں اپنی خودمختاری کھو دیتی ہیں۔ یہ وہ معاشی چالیں ہیں جو کسی ملک کی جڑوں کو اس طرح کھوکھلا کرتی ہیں جیسے دیمک لکڑی کو۔

میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسی اخلاقی گراوٹ کو "آزادی" کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے کہ خاندانی نظام، جو معاشرے کا اصل پہاڑ ہے، لرزنے لگتا ہے۔

آج کا سب سے بڑا فتنہ 'پوسٹ ٹروتھ' (Post-truth) ہے۔ سچ میں اتنا جھوٹ ملا دیا جاتا ہے کہ عام آدمی حقائق کے پہاڑ کو پہچاننے سے قاصر ہو جاتا ہے۔

ان چالوں کا ایک بڑا مقصد خوف اور مایوسی پھیلانا ہوتا ہے۔

جب انسان کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ سامنے والا ناقابلِ شکست ہے اور اس کی چالیں پہاڑوں کو ہلا سکتی ہیں، تو انسان لڑے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیتا ہے۔

تاریخ کا سبق کیا بتاتا ہے ۔

فرعون، نمرود اور ابلیس کی چالیں بھی اپنے وقت میں "پہاڑ ہلا دینے والی" معلوم ہوتی تھیں، لیکن ان کا انجام مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور ثابت ہوا۔

اگر چالیں پہاڑ ہلا دینے والی ہیں، تو انسان کو اپنا عزم ان پہاڑوں سے بھی اونچا کرنا ہوگا۔ اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کے لیے تین چیزیں ناگزیر ہیں۔

  حالات کو ان کی اصل شکل میں دیکھنا اور سطحی پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہونا۔

بکھرے ہوئے کنکر تو ہوا سے اڑ جاتے ہیں، لیکن جب وہ مل کر پہاڑ بن جائیں تو انہیں ہلانا ناممکن ہو جاتا ہے۔

باطل ہمیشہ دھوکے پر بنیاد رکھتا ہے، جبکہ حق کی بنیاد سچ پر ہوتی ہے۔ سچائی کا وزن کائنات کی ہر چال پر بھاری رہتا ہے۔

ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جہاں اندھیرا اپنی پوری قوت کے ساتھ چھا جانے کی کوشش کرتا ہے، وہاں ایک ننھا سا چراغ بھی اپنی جگہ پر قائم رہ کر اندھیرے کی پوری بساط الٹ دیتا ہے۔ وہ چالیں جو پہاڑوں کو ہلا دیں، یقیناً خوفناک ہیں، لیکن وہ "ارادہِ انسانی" کو نہیں ہلا سکتیں اگر وہ ارادہ سچائی اور ربِ کائنات کی نصرت پر قائم ہو۔

دنیا کی بڑی سے بڑی سازش کا انجام بالآخر رسوائی ہے، بشرطیکہ ہم ان چالوں کو سمجھیں اور ان کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔