تاوانِ حیات ہم کس کس شے کی قیمت چکا رہے ہیں؟
---روما محمود---
بچپن کی کہانیوں میں اکثر پڑھا تھا کہ تاوان ہمیشہ ڈاکو یا اغوا کار وصول کرتے ہیں۔
کوئی قیمتی شے یا انسان چھین لیا جاتا اور پھر اس کی واپسی کے لیے ایک بھاری قیمت طلب کی جاتی۔ لیکن جوں جوں شعور کی دہلیز پر قدم رکھا، یہ تلخ حقیقت ایک افسانوی سی مگر کھردری سچائی بن کر سامنے آئی کہ زندگی بھی ایک بہت بڑی اغوا کار ہے۔
جب یہ ہمارے اصولوں، اخلاقیات اور اقدار کو اغوا کر لیتی ہے، تو ہمیں ہر روز، ہر قدم پر ایک نیا تاوان ادا کرنا پڑتا ہے۔
آج کے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو ہم سب خاموشی سے کسی نہ کسی تاوان کی ادائیگی میں مصروف ہیں۔ سب سے بھاری تاوان تو ہم اپنے رشتوں اور احساسات کی صورت میں دے رہے ہیں۔ ہم نے انسانی جذبوں اور تعلقات کو ٹشو پیپر کی طرح سمجھ لیا ہے۔
ضرورت پڑنے پر استعمال کیا اور پھر بے حسی سے کوڑے دان کی نذر کر دیا۔ اس رویے کی قیمت ہم تنہائی، ذہنی دباؤ اور بے سکونی کی صورت میں روزانہ چکا رہے ہیں۔
جب ہم اپنے بزرگوں کی عزت، خاندانی روایات اور تہذیب کو پسِ پشت ڈالتے ہیں، تو دراصل ہم اپنی ہی آنے والی نسلوں کے سکون کو گروی رکھ کر وقت کو تاوان دے رہے ہوتے ہیں۔
معاشرتی سطح پر ہمارا حال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے۔ ہم ایک ایسے ہجوم میں بدل چکے ہیں جہاں ہر شخص آگے بڑھنے کے لیے دوسرے کو پیچھے دھکیلنے میں مصروف ہے۔
ہماری وہ کیکڑے والی ذہنیت، جہاں ہم کسی کو کامیابی کی سیڑھی چڑھتے نہیں دیکھ سکتے اور فوراً اس کی ٹانگیں کھینچنا شروع کر دیتے ہیں، دراصل ہمارے اجتماعی زوال کا سبب ہے۔ اس حسد اور بغض کا تاوان ہماری سوسائٹی اداروں کی ناکامی، معاشی بحرانوں اور بے اعتباری کی صورت میں ادا کر رہی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جب معاشرے سے دیانتداری اور میرٹ اغوا ہو جائیں، تو پوری قوم کو اپنی ترقی اور خوشحالی تاوان میں دینی پڑتی ہے۔
ہماری ذاتی زندگیوں میں بھی لالچ اور شارٹ کٹ کی تلاش نے ہم سے ہمارا سکون چھین لیا ہے۔ ہم راتوں رات امیر ہونے کی خواہش میں وہ راستے اپناتے ہیں جو بظاہر چمکدار تو ہوتے ہیں، مگر اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔
جب کوئی ادارہ، کوئی نظام یا کوئی فرد ہماری ان اندھی خواہشات کا فائدہ اٹھا کر ہمیں لوٹتا ہے، تو وہ نقصان صرف سرمائے کا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ان غلط فیصلوں کا تاوان ہوتا ہے جو ہم نے لالچ کی پٹی آنکھوں پر باندھ کر کیے ہوتے ہیں۔
زندگی کا اصول بہت سیدھا ہے؛ یہاں ہر عمل کی ایک قیمت ہے، ایک تاوان ہے۔ اگر ہم محبت، خلوص اور اصولوں کا سودا کریں گے، تو بدلے میں ہمیں منافقت، بے حسی اور اضطراب کا تاوان بھرنا پڑے گا۔ ہم آج جو بو رہے ہیں، کل اس کی فصل کاٹنی ہی پڑے گی۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور خود سے سوال کریں۔
کیا ہم یونہی اپنی اقدار کو اغوا ہونے دیں گے؟
اور کیا ہم تاحیات اپنی غلطیوں، اپنی بے حسی اور اپنی انا کا یہ بھاری تاوان ادا کرنے کے لیے تیار ہیں؟
قبل اس کے کہ یہ تاوان ہماری روح کو ہی دیوالیہ کر دے، ہمیں اپنی اخلاقیات اور انسانیت کو بازیاب کروانا ہوگا۔

Comments