گول گپے ایک پیالی میں بند چٹخارے دار کائنات
---روما محمود---
اردو ادب میں شاید ہی کسی پکوان کو وہ مقام حاصل ہو جو سڑک کنارے کھڑے ہو کر کھائے جانے والے 'گول گپوں' کو حاصل ہے۔ یہ صرف ایک غذا نہیں، بلکہ ایک مکمل تجربہ ہے جو جذبات، یادوں اور ذائقوں سے لبریز ہے۔
ایک لقمہ، سو ذائقے۔
گول گپے کی سب سے بڑی خوبی اس کی ساخت میں چھپی ہے۔
ایک خستہ، سنہری اور کراری پوری، جس کے اندر ابلے ہوئے چنے، آلو اور بسا اوقات بوندیاں اپنا ڈیرہ ڈالتی ہیں۔ لیکن اصل جادو اس 'کھٹے پانی' میں ہے جو پودینے، املی، سونٹھ اور کالا نمک کے امتزاج سے بنتا ہے۔ جب یہ ٹھنڈا پانی پوری میں بھر کر سیدھا منہ میں جاتا ہے، تو ذائقوں کا ایک ایسا دھماکہ ہوتا ہے جو دماغ کی سوئی ہوئی رگوں کو جگا دیتا ہے۔
گول گپے کھانے کا بھی اپنا ایک پروٹوکول ہے۔ اسے پلیٹ میں رکھ کر چھری کانٹے سے کھانا اس کی توہین سمجھے جاتی ہے۔ اصل مزہ تو ریڑھی کے پاس کھڑے ہو کر، باری کا انتظار کرنے اور پھر دکاندار کے ہاتھ کی تیزی کو دیکھنے میں ہے۔
پہلا مرحلہ۔ پوری میں سوراخ کرنا۔
دوسرا مرحلہ۔ مصالحہ بھرنا۔
تیسرا مرحلہ۔ اسے پانی کے پیالے میں ڈبو کر فوراً گاہک کے حوالے کرنا۔
گاہک کے لیے چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ پوری ٹوٹنے سے پہلے اسے ایک ہی لقمے میں ٹھکانے لگائے۔ اس دوران ناک سے پانی بہنا اور آنکھوں میں سرور آ جانا اس بات کی دلیل ہے کہ گول گپے 'نمبر ون' ہیں۔
گول گپے امیر اور غریب کی تمیز مٹا دیتے ہیں۔ کسی پوش علاقے کی بڑی گاڑی ہو یا گلی محلے کا پیدل چلنے والا، گول گپے کی ریڑھی پر سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ یہ ہماری ثقافت کا وہ رنگ ہے جو خوشیوں، تفریح اور سستی عیاشی کی علامت ہے۔
کہا جاتا ہے کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔
ایک وہ جنہیں گول گپے پسند ہیں، اور دوسرے وہ جو جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ چھوٹی سی گول پوری ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی کی اصل خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں اور چٹخاروں میں چھپی ہے۔
اگر آج کا دن تھوڑا پھیکا گزر رہا ہے، تو کسی قریبی ریڑھی کا رخ کیجیے، کیونکہ "پہلا گول گپا" ہر دکھ کا مداوا ہے۔

Comments