خربوزے کا مزہ گرمی کا توڑ اور مٹھاس کا خزانہ۔
---روما محمود---
گرمی کا موسم اپنے ساتھ جہاں چلچلاتی دھوپ اور پسینے سے شرابور دوپہریں لے کر آتا ہے، وہیں یہ قدرت کے چند انتہائی شاندار اور رسیلے پھلوں کی نوید بھی ہوتا ہے۔
آم کو بجا طور پر پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے، لیکن اگر گرمی کے اس دربار میں کوئی وزیرِ اعظم یا کم از کم وزیرِ داخلہ بننے کا حقدار ہے، تو وہ بلا شبہ 'خربوزہ' ہے۔
جب سورج تیز ہو اور لو چل رہی ہو تو ایک ٹکڑا خربوزہ کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔
خربوزہ (Muskmelon) نہ صرف مزے دار ہے بلکہ صحت کے لیے بھی خزانہ ہے۔ اس میں وٹامن اے، سی، پوٹاشیم اور فائبر کی بھرپور مقدار ہوتی ہے۔ گرمیوں میں جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، خربوزہ اس کمی کو پورا کرتا ہے اور جلد کو بھی خوبصورت بناتا ہے۔ قدیم زمانے سے طب یونانی میں اسے "طبیعت کو ٹھنڈا کرنے والا" پھل سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے بزرگوں کا کہنا ہے کہ رمضان کے بعد گرمیوں میں خربوزہ کھانا جسم کی گرمی دور کرتا ہے۔
خربوزہ خریدنا بھی ایک فن اور نفسیاتی امتحان ہے۔
خربوزہ خریدنا کوئی معمولی کام نہیں، یہ ایک باقاعدہ فن ہے جس میں مہارت حاصل کرنے کے لیے سالوں کا تجربہ درکار ہوتا ہے۔ ریڑھی یا پھلوں کی دکان پر کھڑے ہو کر درجنوں خربوزوں میں سے اس ایک کا انتخاب کرنا جو اندر سے شہد جیسا میٹھا نکلے، کسی مہم جوئی سے کم نہیں۔
کچھ لوگ اسے کان کے قریب لے جا کر بجا کر دیکھتے ہیں جیسے کوئی ساز چیک کر رہے ہوں۔
کچھ اس کے سرے کو ہلکا سا دبا کر اس کی نرمی کا اندازہ لگاتے ہیں۔
زیادہ تر افراد اسے سونگھ کر اس کی خوشبو سے مٹھاس کا سراغ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔
جب اس کڑی جانچ پڑتال کے بعد خربوزہ دسترخوان پر کٹتا ہے، تو سب کی نظریں اس کی رنگت پر جمی ہوتی ہیں۔ اگر وہ پھیکا نکل آئے تو خریدار کی ساری مہارت دھری کی دھری رہ جاتی ہے، اور اگر اندر سے گہرا پیلا اور میٹھا نکل آئے تو وہ ایسے سینہ تان کر بیٹھتا ہے جیسے کوئی بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔
پاکستان میں خربوزے کی کاشت سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ خاص طور پر ملتان، بہاولپور، خیرپور اور کوئٹہ کے خربوزے مشہور ہیں۔ کوئٹہ کا "دودھیا" خربوزہ تو اپنی مٹھاس اور سفیدی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ جب آپ ایک تازہ خربوزہ کاٹتے ہیں، اس کی خوشبو فضا میں پھیل جاتی ہے اور دل خوش ہو جاتا ہے۔
ہماری ثقافت اور زبان خربوزے کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ اردو کا مشہور ترین محاورہ،
"خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے"، محض ایک جملہ نہیں بلکہ ہماری معاشرتی نفسیات کا بہترین نچوڑ ہے۔
انسانوں کی ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی عادات اپنانے کی اس سے بہتر کوئی تشبیہ ہو ہی نہیں سکتی۔ دفتروں میں، محلوں میں، اور خاندانوں میں روزانہ کئی 'خربوزے' دوسرے 'خربوزوں' کو دیکھ کر رنگ پکڑتے نظر آتے ہیں۔
فیشن سے لے کر رویوں تک، یہ محاورہ ہر جگہ بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔
مئی جون کی تپتی دوپہروں میں، جب لو چل رہی ہو اور سورج آگ برسا رہا ہو، تو فریج سے نکلا ہوا ٹھنڈا، پیلا اور میٹھا خربوزہ کسی نعمت سے کم نہیں ہوتا۔ اس کی قاشیں کاٹ کر ان پر ہلکا سا کالا نمک چھڑک لیا جائے تو ذائقہ دو آتشہ ہو جاتا ہے۔
یہ صرف ذائقے میں ہی لاجواب نہیں بلکہ اس کے کئی فوائد بھی ہیں۔
پانی کی کمی پوری کرتا ہے۔
خربوزے میں پانی کی وافر مقدار ہوتی ہے جو شدید گرمی میں ڈی ہائیڈریشن سے بچاتی ہے۔
یہ معدے کو سکون بخشتا ہے اور گرمی کے اثرات کو زائل کرتا ہے۔
یہ وٹامن سی، وٹامن اے اور دیگر ضروری منرلز کا ایک سستا اور بہترین ذریعہ ہے۔
خربوزہ محض ایک پھل نہیں ہے، یہ گرمیوں کی ایک روایت ہے، دسترخوان کی رونق ہے اور دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر کھائے جانے والے لمحوں کی ایک خوبصورت یاد ہے۔
اگلی بار جب آپ خربوزہ خریدیں اور اسے کاٹیں، تو اس کی مٹھاس کے ساتھ ساتھ اس سادگی اور خوشی کو بھی محسوس کریں جو یہ ہمارے روزمرہ کے معمولات میں لے کر آتا ہے۔
بس دعا یہی کرنی چاہیے کہ محاورے کی طرح ہمارے اردگرد کے لوگ اچھے خربوزوں کو دیکھ کر اچھا رنگ پکڑیں، اور خربوزہ خود کاٹنے پر اندر سے بالکل کدو نہ نکلے۔
کچھ علاقوں میں خربوزے کے بیج خشک کرکے چبائے جاتے ہیں، جو مغز کے لیے مفید ہیں۔
پاکستان خربوزے کی برآمدات بھی کرتا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں۔ یہ کسانوں کے لیے اچھی آمدنی کا ذریعہ ہے۔
تاہم، آج کل مارکیٹ میں کیمیکل والے خربوزے بھی عام ہو گئے ہیں۔ کسان جلدی پکنے کے لیے غیر معمولی کھادیں استعمال کرتے ہیں تو مزہ بھی کم ہو جاتا ہے اور صحت کو نقصان بھی پہنچتا ہے۔ لہٰذا بہتر ہے کہ مقامی، موسم کے مطابق اور اچھی دکان سے خریدیں۔
شہروں کی تیز رفتار زندگی میں ہم ان چھوٹی خوشیوں کو کھو رہے ہیں۔
اس گرمی کے موسم میں جب آپ مارکیٹ جائیں تو ایک اچھا خربوزہ ضرور خریدیں۔ اسے ٹھنڈا کرکے کھائیں، خاندان کے ساتھ بیٹھیں اور زندگی کی سادگی کا مزہ لیں۔
خربوزہ کھاؤ، گرمی بھول جاؤ!

Comments