معرفت کا سفر"میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں"۔

 




--- روما محمود---

کائنات کی وسعتوں پر غور کریں تو ذہن انسانی حیرت کی ان اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے جہاں منطق کے پر جلنے لگتے ہیں۔

ستاروں کی گردش، کہکشاؤں کی چکا چوند ، سمندروں کی طغیانی اور انسانی دل کی دھڑکنیں سب ایک ہی سوال کی بازگشت ہیں۔

"یہ سب کیوں ہے؟"



اس سوال کا جواب ایک مشہور حدیثِ قدسی (مشہور صوفیانہ روایت) میں ملتا ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے۔

"میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا، میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں، پس میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔"

یہ ایک جملہ کائنات کی تخلیق کا وہ فلسفہ بیان کرتا ہے جس کے گرد صدیوں سے دانشور، صوفیاء اور مفکرین گھوم رہے ہیں۔

تخلیقِ کائنات کا پہلا محرک "محبت" ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی صفات میں کامل تھی، لیکن ان صفات کے اظہار کے لیے ایک آئینے کی ضرورت تھی۔ ایک ایسا آئینہ جو اس کے جلال و جمال کا عکس پیش کر سکے۔ "پہچانا جانا" کوئی مادی ضرورت نہیں تھی، بلکہ یہ ربوبیت کا وہ کمال تھا جو چاہتا تھا کہ اس کی رحمت، اس کی بخشش اور اس کی قدرت کا مشاہدہ کرنے والا کوئی موجود ہو۔

خدا نے جب کائنات کی بساط بچھائی، تو ذرے ذرے میں اپنی نشانی رکھ دی۔ پھول کی خوشبو سے لے کر پہاڑوں کی ہیبت تک، ہر چیز اس "چھپے ہوئے خزانے" کی گواہی دینے لگی۔ لیکن ان سب میں سب سے منفرد آئینہ "انسان" کو بنایا گیا۔

فرشتے عبادت کے لیے تھے، کائنات اطاعت کے لیے تھی، لیکن "معرفت" (پہچان) کے لیے ایک ایسے وجود کی ضرورت تھی جس کے پاس انتخاب کا حق ہو۔ انسان کو وہ شعور دیا گیا کہ وہ کائنات کے ہجوم میں اپنے خالق کو تلاش کرے۔

جب ہم کہتے ہیں کہ اللہ نے چاہا کہ وہ پہچانا جائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اصل مقصدِ زندگی محض کھانا پینا یا دنیاوی آسائشیں نہیں، بلکہ اسے (بنانے والے) کو پہچاننا ہے جس نے اس عظیم فن پارے کو تخلیق کیا۔ اگر انسان کائنات کی رنگینیوں میں کھو کر خالق کو بھول جائے، تو وہ اس مقصدِ تخلیق ہی سے روگردانی کرتا ہے جس کے لیے اسے عدم سے وجود میں لایا گیا تھا۔

دنیا کا بننا دراصل ایک مکالمہ ہے۔ اللہ اپنی قدرت کے مظاہر دکھاتا ہے اور انسان سے اس کی پہچان کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ پہچان صرف تسبیح کے دانوں تک محدود نہیں، بلکہ کائنات کے سربستہ رازوں کو فاش کرنا، انسانیت کی خدمت کرنا اور اپنے اندر الہیٰ صفات (رحم، عدل، سخاوت) پیدا کرنا بھی معرفت کا حصہ ہے۔

تصوف کی زبان میں "خودی" کی پہچان دراصل "خدا" کی پہچان کا راستہ ہے۔ جب انسان اپنے نفس کے پیچ و خم کو سمجھ لیتا ہے، تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی روح کے نہاں خانوں میں وہی نور جھلک رہا ہے جس نے پوری کائنات کو منور کر رکھا ہے۔

آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مادہ پرستی نے ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔ ہم نے مشینوں کو تو پہچان لیا، ایٹم کے دل کو چیر کر توانائی تو نکال لی، لیکن اس "خزانے" کو بھول گئے جو ہمارے اندر چھپا ہوا ہے۔ ہم نے کائنات کو تو مسخر کر لیا، مگر اس کے خالق کی پہچان سے دور ہوتے گئے۔

"میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں" کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی دوڑ میں تھوڑی دیر کو ٹھہریں اور غور کریں کہ کیا ہم واقعی اس پہچان کا حق ادا کر رہے ہیں؟

کیا ہماری زندگی کا رخ اس رب کی طرف ہے جس نے ہمیں صرف اس لیے بنایا کہ ہم اس کی عظمت کے گواہ بن سکیں؟

کائنات کا ذرہ ذرہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ کوئی ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہے۔

اللہ کا "پہچانا جانا" کائنات کی بقا کا ضامن ہے۔ جس دن انسان نے اپنے خالق کو پہچاننا مکمل طور پر چھوڑ دیا، شاید اس دن اس بساط کی ضرورت بھی باقی نہ رہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے علم، اپنے مشاہدے اور اپنے احساس کے ذریعے اس "چھپے ہوئے خزانے" تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ زندگی کا اصل حسن اسی وقت آشکار ہوتا ہے جب بندہ اپنے معبود کی معرفت حاصل کر لیتا ہے اور پکار اٹھتا ہے۔
"اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا۔"

پروردگار نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں تو اس نے دنیا بنائی

"پروردگار نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں تو اس نے دنیا بنائی"۔ اس ایک جملے میں انسان کی تخلیق، کائنات کی وسعت، اور خالق و مخلوق کے رشتے کی پوری کہانی سمٹی ہوئی ہے۔

یہ محض ایک فقرہ نہیں، بلکہ ایک گہرا اعتراف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات اس لیے پیدا کی تاکہ انسان اسے پہچانے، اس کی شان دیکھے، اس کی قدرت کا ادراک کرے اور اس کی عبادت کرے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ" (میں نے جن اور انسان کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا)۔ لیکن عبادت سے مراد صرف نماز اور روزہ نہیں، بلکہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھ کر اسے پہچاننا بھی ہے۔

پہاڑ، سمندر، آسمان، ستارے، پھول، پرندے، انسانی چہرے کی ساخت — یہ سب اسی لیے ہیں کہ انسان سوچے، حیران ہو اور کہے: "یہ سب کس نے بنایا؟"

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ اسے عقل، شعور اور اختیار دیا۔ اگر وہ چاہتا تو فرشتوں کی طرح بے اختیار مخلوقات بناتا، مگر اس نے انسان چاہا جو آزادانہ طور پر اسے پہچانے۔ اسی لیے اس نے سورج کو چمکایا، چاند کو روشنی دی، زمین کو پھلدار بنایا، اور انسان کو ان سب کے درمیان کھڑا کیا۔

جس دن انسان کہتا ہے "سب کچھ اتفاقی طور پر بنا ہے"، اس دن وہ پروردگار کی اس خواہش کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

جب وہ کہتا ہے "میں خود کافی ہوں" تو وہ اس حقیقت سے منہ موڑ لیتا ہے کہ وہ اس دنیا میں تنہا نہیں آیا، بلکہ پہچانے جانے کے لیے آیا ہے۔

آج کی مادی دنیا میں ہم بھول چکے ہیں کہ دنیا کیوں بنی۔ ہم نے اپنی پہچان کو دولت، عہدوں،  تک محدود کر لیا ہے۔ لیکن جب رات کو تنہا آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو دل کہتا ہے۔
یہ سب میرے لیے نہیں، بلکہ مجھے میرے رب کی طرف لے جانے کے لیے ہے۔

حضرت بايزید بسطامی، حضرت مولانا روم، اور بابا فرید جیسے بزرگوں نے یہی تو کہا تھا کہ کائنات ایک آئینہ ہے جس میں اللہ کی جلالیں جھلکیں۔ انسان جب اس آئینے میں دیکھتا ہے تو خود کو نہیں، بلکہ اپنے خالق کو پہچانتا ہے۔

تم خود کو پہچانوانے میں لگے ہو، مگر جس نے تمہیں پہچانا چاہا تھا، اسے پہچانا؟

پروردگار نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں تو اس نے دنیا بنائی — یہ جملہ نہ صرف عقیدے کی بنیاد ہے بلکہ زندگی کا سب سے بڑا مقصد بھی ہے۔ جب تک انسان اپنے رب کو نہیں پہچانتا، اس کی زندگی ادھوری رہے گی۔ چاہے وہ کتنا ہی امیر، طاقتور یا مشہور ہو جائے، دل کے اندر خالی پن رہے گا۔

اس دنیا میں آنا کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک دعوت ہے۔ دعوتِ پہچان۔ دعوتِ شکر۔ دعوتِ عبادت۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم اس دعوت پر لبیک کہتے ہیں یا نہیں؟

ہر صبح جب آنکھ کھلے تو دل سے کہیں،
 
"اے پروردگار! تو نے مجھے پہچاننے کے لیے یہ دنیا بنائی ہے، آج میں تیری نشانیوں کو دیکھوں گا، تیری قدرت کا ادراک کروں گا اور تیری رضا کے مطابق جیا کروں گا۔"

یہی اس جملے کا اصل مطلب ہے۔ یہی اس کا سبق ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔