میڈیا کا جھوٹا چمکتا چہرہ، لاکھوں کی تنخواہ، تیس سال پرانا فرنیچر

 






---روما محمود---




پاکستان کے ٹی وی چینلز پر جب کوئی سینئر اینکر رات کے پرائم ٹائم میں بیٹھ کر قوم کو نصیحت کرتا ہے، تو اس کے پیچھے ایک دلچسپ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ اس اینکر کی ماہانہ تنخواہ سات ہندسوں (7 digits) میں ہوتی ہے۔

یعنی کروڑوں روپے،جبکہ اسی سٹوڈیو کا فرنیچر تیس سال پرانا ہے۔ کرسیاں جن پر وہ بیٹھتے ہیں، وہ شاید جنرل ضیاء الحق کے دور کی ہوں، مائیک کے سٹینڈ جھکے ہوئے، لائٹس فلیکر کرتیں، اور وال پیپر اتنا پرانا کہ اس پر لکھا جا سکتا ہے "یہ بھی گزر جائے گا"۔



یہ تضاد صرف ایک اتفاق نہیں، بلکہ ہمارے میڈیا انڈسٹری کا طرزِعمل ہے۔

سینئر اینکرز جو قومی معاملات پر گھنٹوں بحث کرتے ہیں۔

ان کی تنخواہوں کا ذکر کرنا ہی شرم کا باعث بن جاتا ہے۔ ایک مشہور اینکر جو ہر شام "حقیقت" کھولتا ہے، اس کی تنخواہ 1.5 سے 3 کروڑ ماہانہ تک ہو سکتی ہے۔ کچھ تو بونس، کار، گھر اور غیر ملکی ٹورز سمیت پیکج لیتے ہیں۔

دوسری طرف پروڈکشن ٹیم کے نوجوان، جو رات بھر ایڈیٹنگ کرتے ہیں، کیمرہ مین جو گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں، اور سٹوڈیو سٹاف۔

ان کی تنخواہ دس سے بیس ہزار کے درمیان۔ سٹوڈیو کی حالت دیکھیں تو لگتا ہے جیسے 1990 کی دہائی سے کوئی مرمت نہیں ہوئی۔

فرنیچر ایسا کہ بیٹھتے ہی آواز نکلتی ہے، اے سی یا تو کام نہیں کرتے یا پھر اتنی آواز کرتے ہیں کہ اینکر کی آواز ڈوب جاتی ہے۔

یہ پیسہ کہاں جاتا ہے؟

ایک بڑے حصے کا جواب ہے "برانڈنگ اور سٹار پاور"۔ چینل مالکان کا ماننا ہے کہ بڑے اینکر ہی ریٹنگ لاتے ہیں، اس لیے انہیں رکھنا ضروری ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب سٹوڈیو کی بنیادی سہولیات ہی ناقص ہوں تو کتنی دیر تک یہ "سٹار" چمکتے رہیں گے؟

ایک اینکر جو لاکھوں روپے لیتا ہے، وہ اگر سٹوڈیو میں بیٹھ کر پسینہ بہاتا ہو یا پرانے مائیک میں بولتا ہو، تو اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ عوام کو لگتا ہے کہ یہ لوگ صرف ٹاک شو کرتے ہیں، حقیقت سے دور ہیں۔

یہ صورتحال صرف میڈیا تک محدود نہیں۔ یہ پاکستان کی مجموعی معاشی اور پیشہ ورانہ ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں چند لوگوں کو بے پناہ تنخواہ ملتی ہے جبکہ ادارے کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں۔ تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی طرح میڈیا بھی "شو" چلا رہا ہے۔

چمکدار سیٹ، گرافکس، اور اینکر کا مہنگا سوٹ۔

سب کچھ دکھاوا ہے۔ پیچھے وہی پرانا فرنیچر، وہی کم تنخواہ والے ورکرز، اور وہی بجٹ جو اینکرز کی جیب میں جا رہا ہے۔

اگر چینل مالکان واقعی پروفیشنلزم پر یقین رکھتے ہیں تو پہلے سٹوڈیوز کو جدید بنائیں۔

نئے فرنیچر، اچھی لائٹنگ، اچھا ساؤنڈ سسٹم، اور سٹاف کی مناسب تنخواہ۔ پھر دیکھیں کہ اینکرز کی کارکردگی میں کتنا فرق آتا ہے۔

ایک اچھا سٹوڈیو خود اینکر کی قدر بڑھا دیتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ یہ "سٹار سسٹم" ختم ہو۔ میڈیا کو لوگوں کی آواز بننا چاہیے، نہ کہ چند امیر اینکرز کا ذاتی بزنس۔ جب تک فرنیچر بدلے گا نہیں، قوم کو نصیحتیں دینے والوں کی بات بھی پرانی اور بے اثر ہی رہے گی۔

یہ تضاد دیکھ کر افسوس ہوتا ہے اور غصہ بھی آتا ہے۔

میڈیا والے قوم کو بدلنے کی بات کرتے ہیں، لیکن خود اپنے گھر (سٹوڈیو) کو بدلنے سے قاصر ہیں۔

اسی لیے  اگلا ٹاک شو "سٹوڈیو کی مرمت" پر ہونا چاہیے۔

پیمرا کا دس منٹوں کا معجزہ، سوشل میسیجز کہاں غائب ہیں؟

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے قواعد کے مطابق نجی ٹی وی چینلز کو سوشل میسیجز، پبلک انٹرسٹ پروگرامز اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق مواد کے لیے مخصوص وقت مختص کیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق یہ وقت کل براڈکاسٹ ٹائم کا دس فیصد تک ہو سکتا ہے ۔ یعنی چوبیس گھنٹوں میں تقریباً ڈھائی گھنٹہ۔ مگر عام طور پر لوگ اسے "دس منٹ" کہہ کر سمجھتے ہیں ۔

شاید اس لیے کہ عملی طور پر یہ وقت الگ الگ سلاٹس میں تقسیم کر کے نشر کیا جاتا ہے۔

خواجہ آصف صاحب نے حال ہی میں ٹویٹ کر کے پیمرا سے سوال کیا ہے کہ یہ دس منٹ کس طرح استعمال ہوتے ہیں؟

ایک اچھا سوال ہے۔ پیمرا کو واقعی اس پر غور کرنا چاہیے ۔

نہ صرف غور، بلکہ ایک مکمل آڈٹ کرنا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ بیشتر چینلز یہ "مختص وقت" پورا کرنے کے لیے ایسا مواد نشر کرتے ہیں جو نہ تو سوشل ہے اور نہ ہی میسیج۔

رات کے دو بجے، جب سامعین کی تعداد صفر کے قریب ہوتی ہے، ایک پرانی فائل سے نکالا گیا اینٹی سگریٹنگ کا پیغام، یا پھر "بچوں کو سکول بھیجیں" والا وہ کلچہ جو پچھلے دس سال سے چل رہا ہے۔

کبھی کبھی تو یہ صرف اسکرولنگ ٹیکسٹ ہوتا ہے ۔

سفید پس منظر پر سیاہ حروف، جیسے کوئی پرانا اخبار کا صفحہ ٹی وی پر چھپ رہا ہو۔

کوئی اینیمیشن نہیں، کوئی کہانی نہیں، کوئی اثر نہیں۔ یہ دس منٹ نہیں، بلکہ "کوٹہ پورا کرنے کا فارمولا" ہے۔

پیمرا کا مقصد کیا تھا؟

عوام کو صحت، تعلیم، ماحولیات، ٹریفک قوانین، خواتین کے حقوق، یا ڈینگی سے بچاؤ جیسے اہم مسائل پر آگاہ کرنا۔

مگر جب یہ پیغامات رات کے اندھیرے میں دب جاتے ہیں تو ان کا کیا فائدہ؟

ایک طرف حکومت اربوں روپے ٹی وی چینلز پر اشتہارات کے لیے خرچ کرتی ہے، دوسری طرف یہ "مفت" سلاٹس بالکل بے اثر ہو کر رہ جاتے ہیں۔

چینلز کی دلیل بھی سمجھ میں آتی ہے ۔ ان کے پاس پیسہ نہیں، سٹوڈیوز ٹوٹے پھوٹے ہیں (جیسا کہ خواجہ آصف نے بتایا)، ملازمین کی تنخواہیں نہیں ملتیں، تو پھر اعلیٰ کوالٹی سوشل میسیج بنانے کا کہاں سے وقت اور بجٹ نکلے؟

کوٹہ پورا، ذمہ داری پوری، مگر عوام کا نقصان۔

پیمرا اگر واقعی غور فرمائے تو چند سادہ مگر موثر اقدامات کر سکتا ہے۔

پہلا، یہ دس منٹ (یا دس فیصد) کا وقت پرائم ٹائم میں لازمی نشر کرنے کا حکم دے۔

رات دو بجے نہیں، شام سات سے دس بجے کے درمیان۔ 
دوسرا، میسیجز کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے ایک الگ کمیٹی بنائے ۔ جو دیکھے کہ پیغام نہ صرف درست ہو بلکہ دلکش بھی ہو۔ اینیمیشن، کہانی، مشہور شخصیات  جو بھی ہو، اثر پیدا کرے۔ 

تیسرا، چینلز سے ماہانہ رپورٹ مانگے کہ انہوں نے کون سے کون سے سوشل مسائل پر میسیجز نشر کیے۔ اگر ہر مہینے وہی پرانا "تمباکو نوشی نقصان دہ ہے" والا پیغام آ رہا ہو تو جرمانہ ہو۔ 

چوتھا، سوشل میسیجز کو صرف حکومتی پروپیگنڈا نہ بننے دیں۔ عوامی مسائل پر مبنی، غیر جانبدار اور مفید ہونے چاہییں۔

آج کے دور میں جب سوشل میڈیا ایک لمحے میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے، ٹی وی کا یہ "دس منٹ" اگر درست استعمال ہو تو کتنا بڑا انقلاب لا سکتا ہے۔ مگر ابھی یہ صرف ایک قانونی فارمولا ہے ۔
جیسے سکول میں حاضری لگانا، پڑھائی نہ کرنا۔

پیمرا صاحبو! خواجہ آصف کا سوال آپ کے لیے ایک موقع ہے۔ بس ایک بار غور فرمائیں کہ یہ دس منٹ واقعی سوشل ہیں یا صرف "میڈیا کوٹہ"؟

اگر یہ وقت عوام کی فلاح کے لیے نہیں تو پھر اس کا کیا جواز ہے؟ وقت آ گیا ہے کہ پیمرا محض نوٹس جاری کرنے سے آگے بڑھے اور میڈیا کو ذمہ دار بنائے ۔ نہ صرف لفظوں میں، بلکہ عمل میں بھی۔

تب ہی یہ دس منٹ "معجزہ" بن سکتے ہیں۔ ورنہ یہ صرف دس منٹ کا ضیاع رہیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔