فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران دورہ ، ثالثی کی سفارتکاری اور خطے کی سلامتی کا نیا باب
---روما محمود---
پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ ایران دورہ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ ایران دورہ۔
15 اپریل 2026 کو تہران پہنچنے والے پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نہ صرف پاک-ایران تعلقات کو مزید مستحکم کیا بلکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کو کم کرنے میں پاکستان کے اہم ثالثی کردار کو بھی اجاگر کیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں امریکی-ایرانی تناؤ عروج پر تھا، خاص طور پر امریکہ کی جانب سے ایران کے بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی اور ایران کی جانب سے اہم آبی گزرگاہوں جیسےآبنائے ہرمز کی میں تجارت روکنے کی دھمکی کے بعد۔
پاکستان نے حال ہی میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست بات چیت کی میزبانی کی تھی، جو تقریباً 21 گھنٹے جاری رہی لیکن کوئی ٹھوس معاہدہ نہ ہو سکا۔
اس ناکامی کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان پیغام رسانی پاکستان کے ذریعے جاری رہی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ دورہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شامل تھے، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف فوجی سطح کا نہیں بلکہ جامع سیاسی اور سیکیورٹی سطح کا دورہ تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ دورہ "جاری ثالثی کوششوں" کا حصہ ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے تہران ایئرپورٹ پر وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔
ایرانی میڈیا اور ذرائع کے مطابق، وفد کا مقصد امریکہ کا پیغام ایرانی قیادت تک پہنچانا، دونوں فریقین کے موقف کا جائزہ لینا اور مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری کرنا ہے، جو ممکنہ طور پر دوبارہ اسلام آباد میں ہو سکتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان ایک بار پھر ثابت کر رہا ہے کہ وہ خطے کا ذمہ دار اور متوازن کھلاڑی ہے۔ ماضی میں پاکستان نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ کم کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔
اب امریکہ-ایران تنازع میں ثالثی ایک بڑا قدم ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی فیلڈ مارشل منیر کی تعریف کی ہے اور انہیں "fantastic" قرار دیا، جبکہ مذاکرات کے مثبت نتیجے کی امید ظاہر کی۔
یہ دورہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر اپنا موقف واضح رکھا ہے — یورینیم کی افزودگی کا حق غیر متزلزل ہے، البتہ سطح پر لچک ممکن ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی طاقت بڑھا رکھی ہے، لیکن ٹرمپ کی جانب سے "جنگ جلد ختم ہو جائے گی" کی بات سے امید کی کرن نظر آ رہی ہے۔
8 اپریل کو طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ 22 اپریل کو ختم ہونے والا ہے، اس لیے یہ کوششیں وقت کی اہمیت رکھتی ہیں۔
فیلڈ مارشل منیر کا یہ دورہ صرف ثالثی تک محدود نہیں۔
پاک-ایران دفاعی تعاون، سرحدی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی اور علاقائی استحکام جیسے امور بھی زیر بحث آئے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی روابط ہیں، جو باوجود کچھ چیلنجز (جیسے سرحدی مسائل اور پانی کی تقسیم) کے مضبوط ہیں۔
فیلڈ مارشل منیر کی قیادت میں پاکستان کی فوج نے علاقائی سفارتکاری میں فعال کردار ادا کیا ہے۔
2025 کے انڈو-پاک تنازع کے بعد ان کی فیلڈ مارشل کی ترقی اور اب یہ دورہ ان کی اسٹریٹجک بصیرت کو اجاگر کرتا ہے۔
ایران بھی پاکستان کو ایک قابل اعتماد پارٹنر مانتا ہے جو مشرق وسطیٰ اور جنوب ایشیا کے درمیان پل کا کام کر سکتا ہے۔
یہ ثالثی آسان نہیں۔ امریکہ-ایران کے درمیان گہرے عدم اعتماد، اسرائیل کا عنصر، جوہری مسائل اور علاقائی پراکسی جنگیں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں پر ردعمل کی دھمکی دے چکا ہے، جو عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتا ہے۔
تاہم، پاکستان کے لیے یہ موقع بھی ہے۔ کامیاب ثالثی سے پاکستان کی عالمی اہمیت بڑھے گی، معاشی فوائد (جیسے ایران-پاکستان گیس پائپ لائن اور تجارت) حاصل ہوں گے اور خطے میں امن کا پیغام جائے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران دورہ پاکستان کی بالغ خارجہ پالیسی اور فوجی قیادت کی سفارتی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ دورہ صرف ملاقاتوں کا نہیں بلکہ امن کی کوششوں کا ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو یہ نہ صرف امریکہ-ایران تنازع حل کرے گا بلکہ پاکستان کو خطے کا کلیدی کھلاڑی بنا دے گا۔
پاکستان کی قوم فخر کر سکتی ہے کہ ہماری فوجی اور سیاسی قیادت جنگ کے بجائے امن کی راہ پر چل رہی ہے۔
امید ہے کہ یہ کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور خطہ امن و استحکام کی طرف بڑھے گا۔ فیلڈ مارشل منیر جیسے لیڈرز کی قیادت میں پاکستان "امن کا سفیر" بن کر ابھر رہا ہے۔


Comments