توازن کا قتل ایک کو معتبر، دوسرے کو بے توقیر کرنا

 


---روما محمود---



کسی بھی معاشرے میں رویوں کا توازن ہی تعلقات کی بنیاد ہوتا ہے، لیکن جب یہ توازن بگڑتا ہے تو نفسیاتی اور سماجی بگاڑ جنم لیتا ہے۔ ایک ہی وقت میں ایک شخص کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا اور دوسرے کو یکسر نظر انداز کر دینا ایک ایسا تضاد ہے جو انسانی رویوں کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔



​انسانی تعلقات کی بنیاد 'قدر' پر ہوتی ہے، لیکن جب یہ قدر دانستہ طور پر بانٹی جائے تو یہ محبت نہیں بلکہ ایک سماجی ہتھیار بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر یہ رویہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک ہی محفل میں، ایک ہی چھت کے نیچے یا ایک ہی ادارے میں، ایک فرد کو پلکوں پر بٹھایا جاتا ہے جبکہ دوسرے کو اس طرح نظر انداز کیا جاتا ہے جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ یہ رویہ نہ صرف اخلاقی گراوٹ ہے بلکہ انسانی نفسیات پر گہرا زخم بھی ہے۔


​کسی کو اس کی اوقات اور ظرف سے زیادہ اہمیت دینا دراصل اس کے لیے تکبر کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ جب ہم کسی شخص کو غیر ضروری طور پر 'ناگزیر' بنا دیتے ہیں، تو وہ آہستہ آہستہ خود کو قانون اور ضابطوں سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ حد سے زیادہ پروٹوکول اور ہر بات پر 'جی حضوری' اس شخص کی اپنی شخصیت کو بھی مسخ کر دیتی ہے، کیونکہ اسے اپنی خامیوں میں بھی خوبیاں نظر آنے لگتی ہیں۔

​دوسری طرف، کسی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا (Ignoring) ایک ایسی خاموش سزا ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جب کسی کی موجودگی کو تسلیم نہ کیا جائے، اس کی رائے کو وزن نہ دیا جائے اور اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ 'غیر اہم' ہے، تو یہ اس کی خود اعتمادی پر کاری ضرب ہوتی ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق، کسی کو نظر انداز کرنا اسے جسمانی اذیت دینے سے زیادہ تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔

​اس دوغلے پن کے پیچھے عموماً مفاد پرستی، طبقاتی فرق یا ذاتی پسند و ناپسند چھپی ہوتی ہے۔ ہم اسے اہمیت دیتے ہیں جس سے ہمیں کوئی فائدہ پہنچنے کی امید ہو، اور اسے نظر انداز کر دیتے ہیں جس سے ہمارا کوئی مادی مفاد وابستہ نہ ہو۔ بعض اوقات یہ رویہ دوسروں کو نیچا دکھانے یا اپنی طاقت کا احساس دلانے کے لیے بھی اختیار کیا جاتا ہے۔

​جسے ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، وہ اکثر 'فرعون' بن جاتا ہے، اور جسے نظر انداز کیا جاتا ہے، وہ یا تو باغی ہو جاتا ہے یا پھر شدید احساسِ کمتری کا شکار ہو کر تنہائی کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔ ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ

  • توازن برقرار رکھا جائے: ہر انسان اپنی جگہ ایک اکائی ہے، اس کی عزتِ نفس کا احترام سب پر لازم ہے۔
  • معیارِ گفتگو یکساں ہو: گفتگو اور رویے میں کسی کے عہدے یا حیثیت کے بجائے انسانیت کو معیار بنایا جائے۔
  • خلوص کا فقدان دور کیا جائے: اگر آپ کسی کو پسند نہیں کرتے تو بھی اسے اخلاقی طور پر نظر انداز کرنے کے بجائے 'باہمی احترام' کا رشتہ برقرار رکھیں۔

 

​اس رویے کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ اہمیت دینے والا شخص اکثر خود بھی کسی نفسیاتی کشمکش کا شکار ہوتا ہے۔ جب ہم ایک کو معتبر اور دوسرے کو حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو دراصل ہم اپنی 'طاقت' کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ظاہر کرنا کہ "میرے پاس یہ اختیار ہے کہ میں جسے چاہوں نواز دوں اور جسے چاہوں محروم کر دوں" ایک بدترین قسم کی ذہنی عیاشی ہے۔ یہ رویہ اداروں کو تباہ کر دیتا ہے جہاں قابلیت کے بجائے 'پسندیدگی' معیار بن جاتی ہے۔


​خاندانی نظام میں جب والدین یا بڑے ایک بچے کو مثالی بنا کر پیش کرتے ہیں اور دوسرے کی صلاحیتوں کو نظر انداز کرتے ہیں، تو وہاں سے حسد اور نفرت کی وہ دیواریں کھڑی ہوتی ہیں جو نسلوں تک ختم نہیں ہوتیں۔ نظر انداز کیا جانے والا شخص صرف تنہا نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس 'اہم' شخص کا بھی دشمن بن جاتا ہے جسے بلاوجہ فوقیت دی جا رہی ہوتی ہے۔ یوں ایک شخص کو اہمیت دے کر ہم دراصل دو انسانوں کے درمیان خلیج پیدا کر دیتے ہیں۔

​آج کے دور میں یہ فرق اکثر 'مفاد' کی بنیاد پر رکھا جاتا ہے۔ جس کی جیب بھری ہے یا جس کا سماجی رتبہ بلند ہے، اس کی ہر غلط بات بھی حکمت معلوم ہوتی ہے، جبکہ ایک عام انسان کی سچی اور کھری بات کو بھی 'شور' سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ منافقت معاشرے میں مخلص لوگوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور خوشامد پسندوں کے گروہ پیدا کرتی ہے۔

​اس رویے سے چھٹکارا پانے کے لیے ہمیں 'عدل' کو اپنانا ہوگا۔ عدل کا مطلب صرف عدالتوں میں انصاف کرنا نہیں، بلکہ اپنے رویوں میں توازن لانا ہے۔

  • اعترافِ وجود: ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ اسے سنا جائے اور اسے دیکھا جائے۔ کسی کی بات کو غور سے سننا اسے زندگی کا احساس دلاتا ہے۔
  • تعریف میں میانہ روی: کسی کی تعریف ضرور کریں، لیکن اسے 'دیوتا' نہ بنائیں۔
  • تنقید میں شفقت: اگر کسی سے اختلاف ہے یا وہ آپ کی ترجیح میں شامل نہیں، تب بھی اسے اپنی محفل یا گفتگو سے بے دخل نہ کریں۔

 ہم کسی کو نظر انداز کر کے اس کا قد چھوٹا نہیں کرتے، بلکہ اپنی ظرف کی تنگی کا ثبوت دیتے ہیں۔ اہمیت اسے دیں جو اس کا اہل ہے، لیکن توجہ سے اسے بھی محروم نہ کریں جو آپ کے سامنے موجود ہے۔ یاد رکھیں، ضمیر کی عدالت میں 'توجہ کی چوری' بھی ایک بڑا جرم ہے۔​

 اہمیت اور نظر اندازی کے درمیان توازن ہی وہ پل ہے جس پر چل کر ہم ایک معتدل معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ کسی کو آسمان پر بٹھانا اور کسی کو مٹی میں ملا دینا، دونوں ہی انتہا پسندانہ رویے ہیں جو آخر کار رشتوں کی موت کا سبب بنتے ہیں۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہر انسان معتبر ہے، اور کسی کی توہین کرنا دراصل اپنی تربیت کی کمی کا اشتہار دینا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔