میرا دل پھٹ گیا، جب الفاظ ماتم بن جائیں۔
---روما محمود---
انسانی جذبات کی وسعت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں، لیکن جب غم کی شدت بیان کرنی ہو تو اردو زبان میں ایک جملہ ایسا ہے جو لفظی معنوں سے کہیں زیادہ گہرا اور دردناک ہے۔
میرا دل پھٹ گیا۔‘ یہ محض ایک استعارہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس ذہنی اور جسمانی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے جب انسان پر غم کا پہاڑ ٹوٹتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے سینے کے اندر کچھ ٹوٹ کر بکھر گیا ہے۔
کسی ناگہانی آفت، پیارے کی موت یا کسی بڑی ناکامی کی جب کانوں سے ٹکراتی ہے، تو دماغ چند لمحوں کے لیے سن ہو جاتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب حقیقت اور خواب کے درمیان کی لکیر دھندلا جاتی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہو، ایک ڈراؤنا خواب ہو جس سے وہ بیدار ہو جائے۔ لیکن جب حقیقت اپنی پوری سنگینی کے ساتھ سامنے کھڑی ہوتی ہے، تو زبان سے بے اختیار نکلتا ہے، ’’میرا دل پھٹ گیا۔‘‘
یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب دکھ اتنا بڑا ہو کہ اسے جذب کرنے کی ہمت ختم ہو جائے۔ نفسیاتی طور پر اسے ’ایکیوٹ اسٹریس‘ (Acute Stress) کہا جاتا ہے، جہاں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے اور سینے میں ایک ایسا بوجھ محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بھاری پتھر رکھ دیا گیا ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ طبی سائنس بھی اس کیفیت کو تسلیم کرتی ہے۔ میڈیکل کی زبان میں اسے 'Takotsubo Cardiomyopathy' یا 'Broken Heart Syndrome' کہا جاتا ہے۔ جب انسان شدید جذباتی صدمے سے گزرتا ہے، تو جسم میں تناؤ کے ہارمونز (جیسے ایڈرینالین) کی اتنی زیادہ مقدار خارج ہوتی ہے کہ وہ عارضی طور پر دل کے پمپ کرنے کے عمل کو متاثر کر دیتی ہے۔ اس کیفیت میں مریض کو بالکل ویسا ہی درد محسوس ہوتا ہے جیسا کہ دل کے دورے (Heart Attack) میں ہوتا ہے۔
چنانچہ جب کوئی کہتا ہے کہ ’’میرا دل پھٹ گیا،‘‘ تو وہ دراصل اپنی اس جسمانی تکلیف کو بیان کر رہا ہوتا ہے جو اسے اس بری خبر کی وجہ سے لاحق ہوئی ہے۔
ہماری ثقافت میں جذبات کا اظہار اکثر بہت گہرا اور واشگاف ہوتا ہے۔ اردو ادب اور شاعری میں ’دل‘ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ میر تقی میر سے لے کر فیض احمد فیض تک، ہر شاعر نے دل کے ٹوٹنے اور بٹھنے کا تذکرہ کیا ہے۔
جب انسان اپنی زندگی کی سب سے قیمتی شے کھو دیتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ اس کے وجود کا مرکز (دل) اب کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔
یہ جملہ اس بے بسی کی انتہا جب انسان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچتا۔
ہر انسان کا بری خبر سننے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ کوئی دھاڑیں مار کر روتا ہے، کوئی بالکل خاموش ہو جاتا ہے، اور کوئی صدمے کی وجہ سے ساکت رہ جاتا ہے۔ لیکن ’’دل پھٹ جانا‘‘ اس خاموش ماتم کا نام ہے جو انسان کے اندر برپا ہوتا ہے۔
جب کوئی ماں اپنے جوان بیٹے کی میت دیکھتی ہے، یا کوئی شخص اپنی عمر بھر کی کمائی لٹتے دیکھتا ہے، تو اس وقت جو ٹوٹ پھوٹ اس کے اندر ہوتی ہے، اسے دنیا کا کوئی مرہم نہیں بھر سکتا۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے سانس لینے کی جگہ تنگ ہو گئی ہے اور سینے کی ہڈیوں کے نیچے چھپا وہ گوشت کا لوتھڑا اب بوجھ بن گیا ہے۔
اگرچہ ’’دل کا پھٹنا‘‘ ایک انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہے، لیکن انسانی فطرت میں لچک (Resilience) بھی رکھی گئی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، دل کے زخم بھرنے لگتے ہیں، لیکن ان کے نشانات ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ بری خبر کے بعد کا پہلا مرحلہ ’انکار‘ ہوتا ہے، پھر ’غصہ‘، اور آخر میں ’قبولیت‘۔
قبولیت کا یہ سفر بہت کٹھن ہے۔ اس دوران انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کبھی دوبارہ مسکرا نہیں سکے گا، لیکن زندگی کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔ وہ دل جو صدمے سے پھٹ چکا ہوتا ہے، آہستہ آہستہ دوبارہ دھڑکنا سیکھتا ہے، اگرچہ اس کی لے پہلے جیسی نہیں رہتی۔
’’میرا دل پھٹ گیا‘‘ کہنا دراصل روح کی وہ پکار ہے جو لفظوں کی صورت میں باہر آتی ہے۔ یہ اعتراف ہے اس بات کا کہ ہم انسان ہیں، ہم گوشت پوست کے بنے ہیں اور ہمارے اندر جذبات کا ایک سمندر موجزن ہے۔ بری خبریں زندگی کا حصہ ہیں، اور ان پر دل کا ٹوٹنا ہماری انسانیت کی دلیل ہے۔
ہمیں چاہیے کہ جب کوئی یہ کہے کہ اس کا دل پھٹ رہا ہے، تو ہم اسے تسلیاں دینے کے بجائے خاموشی سے اس کا دکھ بانٹیں۔ کیونکہ بعض اوقات، خاموشی ہی وہ واحد مرہم ہوتی ہے جو پھٹے ہوئے دلوں کو دوبارہ جوڑنے میں مدد دیتی ہے۔ زندگی کا سفر دکھ اور سکھ کی دھوپ چھاؤں سے عبارت ہے، اور یہی ٹوٹے ہوئے دل ایک دن دوبارہ جی اٹھنے کی طاقت بنتے ہیں۔

Comments