اسلام آباد مذاکرات: عالمی امن کا نیا مرکز
یہ دستاویز پاکستان کی خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کےحوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔
---روما محمود---
مورخہ 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد سے جاری ہونے والا اعلامیہ محض ایک سرکاری بیان نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری میں پاکستان کے بدلتے ہوئے اور بااثر کردار کی ایک واضح تصویر ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد میں ہونے والے کامیاب مذاکرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اب صرف خطے کا ہی نہیں، بلکہ عالمی امن کا ایک اہم ستون بن کر ابھر رہا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے ریمارکس اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ان مذاکرات کے پیچھے ایک طویل اور سنجیدہ کوشش کارفرما تھی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وانس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی موجودگی میں ہونے والے یہ مذاکرات اس لحاظ سے غیر معمولی ہیں کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں انتہائی شدید اور تعمیری بات چیت کے بعد "فوری جنگ بندی" (Ceasefire) پر اتفاق کیا گیا ہے۔
اس کامیابی میں جہاں سیاسی بصیرت شامل ہے، وہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دفاعی افواج کے سربراہان کا کردار بھی کلیدی رہا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف ایک ہی صفحے پر ہیں، جس نے عالمی قوتوں کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان مذاکرات کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم پلیٹ فارم مہیا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ صرف ایک آغاز ہے۔ "پائیدار امن اور خوشحالی" کا ہدف حاصل کرنے کے لیے فریقین کو اپنے وعدوں پر قائم رہنا ہوگا۔ پاکستان نے یہ عزم دہرایا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مکالمے اور روابط کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
اسلام آباد ٹاکس کی کامیابی پاکستان کی اس اسٹریٹجک سوچ کو ظاہر کرتی ہے جہاں ہم اب کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے "امن ساز" (Peace Maker) کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ موجودہ عالمی صورتحال میں، جہاں مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی خطے میں معاشی استحکام اور تجارتی راہداریوں کی بحالی کے لیے بھی راہ ہموار کرے گی۔
اسلام آباد مذاکرات نے ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا توازن صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ میز پر بیٹھ کر بات چیت کرنے اور دوسرے کے موقف کو سمجھنے سے قائم ہوتا ہے۔ پاکستان نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے، اب گیند عالمی برادری کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس امن کو کتنی پائیداری بخشتے ہیں۔

Comments