Skip to main content

میٹھی چھری کے وار پر وار

 



---روما محمود---



 آج کل کی دنیا میں سب سے خطرناک اور موثر ہتھیار تلوار، بندوق یا زہر نہیں بلکہ "میٹھی چھری" ہے۔

یہ وہ خاص چھری ہے جو مسکراہٹ کے ساتھ، میٹھے الفاظ میں، انتہائی نرمی سے گلے کے اندر اتار دی جاتی ہے۔ خون تو بہتا ہے، مگر زخم نظر نہیں آتا۔



جب زخم کھلتا ہے تو دیر ہو چکی

 ہوتی ہے۔ متاثرہ شخص خود کو قصوروار ٹھہراتا ہے اور کہتا ہے، "نہیں یار، وہ تو مجھ سے محبت کرتا ہے، بس انداز تھوڑا مختلف ہے۔"

میٹھی چھری کا فن قدیم ہے، مگر آج کل سوشل میڈیا، واٹس ایپ، فیملی گروپس اور آفس ماحول میں اس کی دھوم ہے۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک مکمل فن ہے۔ اسے استعمال کرنے والے لوگ ماہر نفسیات سے زیادہ ہوشیار ہوتے ہیں۔ وہ بالکل جانتے ہیں کہ کون سی جگہ پر، کس وقت اور کس لہجے میں وار کرنا ہے تاکہ نشانہ لگے مگر کوئی شکایت نہ ہو۔

گھر کی ممانیاں اس فن کی سب سے بڑی ماہر ہوتی ہیں۔

ہفتے کے آخر میں جب بیٹی یا بیٹے گھر آتے ہیں تو مامی جان مسکراتے ہوئے کہتی ہیں، "بیٹی، تم تو شادی کے بعد بھی کالج کی لڑکی لگ رہی ہو۔ بچے ہو گئے مگر جسم بالکل ویسے ہی ہے!"۔ بیٹی خوش ہو کر شکریہ کہتی ہے، مگر اندر سے سوچتی ہے کہ "یعنی اب میں ماں بن کر بھی لڑکی ہی لگتی ہوں؟ کیا مطلب ہے اس کا؟"۔ مامی صاحبہ کا کام مکمل۔ ایک تیر سے دو شکار — تعریف بھی کر دی اور خفیہ طعنہ بھی دے دیا۔

اسی طرح ساس کی میٹھی چھری الگ لیول کی ہوتی ہے۔ "بہو، تمہارا سالن تو بہت مزے کا ہے، بس نمک تھوڑا کم تھا۔ پچھلی بار تم نے جو بنایا تھا وہ تو یادگار تھا!"۔ بہو مسکرا کر سر ہلاتی ہے، مگر رات کو سوچتی رہتی ہے کہ "کیا میرا کھانا ہمیشہ ناقص ہی رہتا ہے؟"۔ یہ میٹھی چھری ہے جو کھانے کی میز پر لگتی ہے اور سالوں تک اثر کرتی رہتی ہے۔

شادی بیاہ کے سیزن میں تو میٹھی چھری والوں کا میلہ لگ جاتا ہے۔ رشتہ دیکھنے والے کہتے ہیں، "لڑکی تو بہت پیاری ہے، رنگ بھی صاف ہے، بس قد تھوڑا سا... مطلب بالکل مناسب ہے!"۔ یا "لڑکا تو ڈاکٹر ہے، اچھی نوکری ہے، بس فیملی تھوڑی سی... بہت اچھی ہے!"۔ والدین مسکرا کر "جی جی" کرتے رہتے ہیں، مگر دل پر وار ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ وار اتنا نرم ہوتا ہے کہ آپ خود کو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ شاید آپ ہی حساس ہیں۔

دفتر میں باس کی میٹھی چھری سب سے تباہ کن ہوتی ہے۔ پرفارمنس ریویو کے وقت وہ کہتے ہیں، "تمہارا کام بہت اچھا ہے، تخلیقی سوچ ہے، بس ٹیم ورک میں تھوڑا سا اور بہتر ہو سکتا ہے۔"۔ اب ٹیم ورک کا مطلب کیا؟ آپ رات بھر سوچتے رہتے ہیں۔ پروموشن کا وقت آتا ہے تو وہی باس مسکراتے ہوئے کہتے ہیں، "تم تو ہمارے فیملی ممبر ہو، فیملی سے تنخواہ کی بات کیسے ہو سکتی ہے بھائی؟"۔ یہ جملہ سن کر آپ کی تنخواہ تین سال کے لیے منجمد ہو جاتی ہے، مگر آپ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ باس آپ کو فیملی سمجھتا ہے۔

دوستوں کی میٹھی چھری الگ ہی انداز کی ہوتی ہے۔ واٹس ایپ پر فوٹو بھیجیں تو فوراً ریپلائی آتا ہے، "واہ یار، تم تو بالکل ویسے ہی لگ رہے ہو جیسے یونیورسٹی کے دن تھے۔ بالکل نہیں بدلے!"۔ اگر آپ یونیورسٹی میں پتلے تھے اور اب موٹے ہو گئے ہیں تو یہ تعریف ہے یا طعنہ؟ مگر ایموجی کے ساتھ دل والا نشان لگا کر بھیج دیا جائے تو آپ "شکریہ یار" لکھ دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ فن اپنے عروج پر ہے۔ کوئی لڑکی اپنی نئی سیلفی لگائے تو کمنٹ آتا ہے، "واہ، تم تو دن بہ دن خوبصورت ہوتی جا رہی ہو، فلٹر بھی بہت اچھا ہے!"۔ یا "بہت پیاری ہو، بس قدرتی خوبصورتی تھوڑی سی اور نکھار لو"۔ لڑکی دل ہی دل میں سوچتی ہے کہ "فلٹر والا طعنہ تھا یا تعریف؟"۔

میٹھی چھری صرف الفاظ تک محدود نہیں۔ یہ اشاروں، چہرے کے تاثرات اور خاموشی کے ذریعے بھی چلائی جاتی ہے۔ جب آپ کوئی اچھی خبر سنائیں تو سامنے والا مسکراتے ہوئے کہتا ہے، "واہ، بہت اچھی بات ہے۔ اللہ کرے کامیاب ہو جاؤ۔" مگر اس کے چہرے پر وہ مسکراہٹ ہوتی ہے جو کہتی ہے "اب دیکھو، یہ بھی کامیاب ہو جائے گا"۔ یہ خاموش میٹھی چھری ہے جو سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ میٹھی چھری کیوں استعمال کرتے ہیں؟

اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ حسد ہے۔

دوسرے کی کامیابی، خوبصورتی، خوشحالی یا رشتہ دیکھ کر اندر سے جلن ہوتی ہے، مگر سیدھا کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ لہٰذا میٹھی چھری کا سہارا لیا جاتا ہے۔

دوسری وجہ طاقت کا مظاہرہ ہے۔ میٹھی چھری چلانے والا خود کو برتر سمجھتا ہے۔

وہ جانتا ہے کہ وہ آپ کو تکلیف دے سکتا ہے مگر آپ اسے کچھ نہیں کہہ سکتے۔

تیسری وجہ عادت ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ فن اتنا راس آ جاتا ہے کہ بغیر اس کے بات ہی نہیں کر سکتے۔ ان کے منہ سے سیدھی تعریف نکل ہی نہیں سکتی۔

نفسیاتی طور پر میٹھی چھری زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ اعتماد کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ بار بار اس کا شکار بننے والا شخص خود پر شک کرنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ شاید وہ واقعی اتنا اچھا نہیں ہے۔

وہ دوسروں کی تعریف پر شک کرنے لگتا ہے۔

رشتے کمزور پڑتے جاتے ہیں۔ فیملی میں بے اعتمادی بڑھتی ہے۔ آفس میں پروفیشنل نمو رک جاتی ہے۔

اب بات کرتے ہیں اس سے بچاؤ کی

۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ میٹھی چھری کو پہچانیں۔

جب کوئی تعریف کرے تو فوراً سوچیں کہ اس میں پوشیدہ طعنہ تو نہیں؟ اگر شک ہو تو سیدھا پوچھ لیں، "بھائی، آپ کا مطلب کیا ہے؟ سیدھا بتائیں نا"۔ یہ سادہ جملہ میٹھی چھری والے کو بے نقاب کر دیتا ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود میٹھی چھری نہ چلائیں۔ سیدھی بات کریں۔ تعریف کرنی ہے تو خالص تعریف کریں۔ تنقید کرنی ہے تو نرم مگر واضح الفاظ میں کریں۔ "تمہارا کام اچھا ہے مگر اس میں یہ بہتری لا سکتے ہو"۔ یہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ "تمہارا کام تو بہت اچھا ہے، بس..."۔

تیسرا، خود اعتمادی کو مضبوط کریں۔ جب آپ خود کو جانتے ہوں کہ آپ کیا ہیں، کیا کر سکتے ہیں، تو دوسروں کی میٹھی چھری آپ کو متاثر نہیں کر سکتی۔ یاد رکھیں، میٹھی چھری صرف ان لوگوں پر اثر کرتی ہے جو دوسروں کی رائے پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

میٹھی چھری کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ کبھی کبھی "مشورے" کے روپ میں آتی ہے۔ "بھائی، تمہاری بیوی تو بہت اچھی ہے، بس گھر سنبھالنے میں تھوڑا سا اور محنت کر لے تو بہتر ہو جائے گا"۔

یا "تمہارا بچہ بہت ذہین ہے، بس پڑھائی پر توجہ دے تو ٹاپ کر جائے گا"۔ یہ مشورہ نہیں، بلکہ طعنہ ہے۔

شادی شدہ جوڑوں میں یہ بہت عام ہے۔ بیوی شوہر سے کہتی ہے، "تم تو اب بھی اتنے ہینڈسم لگتے ہو، بس پیٹ تھوڑا سا نکل آیا ہے"۔ شوہر مسکرا کر جواب دیتا ہے، "تم بھی تو بالکل ویسی ہی ہو جیسے شادی کے دن تھیں، بس بال تھوڑے سفید ہو گئے ہیں"۔ دونوں مسکراتے ہیں مگر اندر سے زخم ہوتا ہے۔

بچوں پر بھی میٹھی چھری چلائی جاتی ہے۔ "بیٹا، تم تو بہت اچھے ہو، بس ریاضی میں تھوڑا سا کمزور ہو"۔ بچہ ساری زندگی ریاضی سے ڈرتا رہتا ہے۔

سماجی طور پر ہمارا معاشرہ میٹھی چھری کو فروغ دیتا ہے۔ سیدھی بات کرنے والے کو "کھرا"، "بدتمیز" کہا جاتا ہے۔ جبکہ میٹھی چھری چلانے والے کو "شیریں بیان"، "نفیس" کہا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس فن کو سیکھتے ہیں۔

آخر میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میٹھی چھری سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم خود ایماندار بنیں۔ تعریف کریں تو دل سے، تنقید کریں تو واضح طور پر۔ رشتوں میں کھل کر بات کریں۔ جھوٹی میٹھاس سے بچیں۔ یاد رکھیں، ایک سیدھا زخم شفا پا لیتا ہے، مگر میٹھی چھری کا زخم سالوں تک پیپ بھرتا رہتا ہے۔

اگر آپ خود میٹھی چھری چلاتے ہیں تو ایک بار آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر سوچیں کہ کیا آپ دوسروں کو وہی تکلیف دینا چاہتے ہیں جو آپ خود برداشت نہیں کر سکتے؟

میٹھی چھری والو، اب بس بھی کرو۔ ہم سب تھک چکے ہیں۔ اب سیدھی بات کرو، یا بالکل خاموش رہو۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔ کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔   اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔  2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔   کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔ اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔ اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔  وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔ جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم...

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔

 ہلدی (Turmeric) ایک مشہور مصالحہ ہے جو صدیوں سے کھانوں اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں کرکومن (Curcumin) نامی جز پایا جاتا ہے جو اس کے زیادہ تر فوائد کا سبب ہے۔ ہلدی کے اہم فوائد: 1. سوزش کم کرتی ہے جوڑوں کے درد، گٹھیا اور سوجن میں مفید ہے۔ 2. مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ 3. اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بڑھاپے کی رفتار کم کرتی ہے اور خلیات کو نقصان سے بچاتی ہے۔ 4. ہاضمے میں مددگار بدہضمی، گیس اور پیٹ کی تکالیف کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔ 5. دل کی صحت کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ 6. ذہنی صحت دماغی کمزوری (الزائمر وغیرہ) سے بچاؤ میں معاون مانی جاتی ہے۔ 7. زخم اور انفیکشن جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے زخموں پر لگانے سے شفا میں مدد ملتی ہے۔ 8. جلد کے لیے فائدہ مند دانوں، جھائیوں اور رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتی ہے۔ 🔸 البتہ، ہلدی کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ ،تحریر  ،روما محمود  ۔اسلام آباد 

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

  ---روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ ​تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے ...