"اسی پتھر گلدے ویکھے



---روما محمود---


میں جب بھی گھر میں دال پکاتی ہوں تو بھائی کہتا ہے ۔

تیری دال نہیں گلنی ۔

میرا جواب ہوتا ہے  


"لوکی کہندے تیری دال نہیں گلنی

اسی پتھر گلدے ویکھے "۔




معاشرے کا ایک سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں آپ کی قابلیت اور منزل کا تعین آپ خود نہیں، بلکہ "لوگ" کرتے ہیں۔ 


آپ ابھی خواب دیکھنا شروع ہی کرتے ہیں کہ چاروں طرف سے مشوروں، نصیحتوں اور تنقید کی بوچھاڑ ہو جاتی ہے۔ 


ہر دوسرا شخص کسی ماہرِ نفسیات یا قسمت کے حال بتانے والے نجومی کی طرح پیش گوئی کر دیتا ہے کہ "چھوڑو میاں! یہاں تمہاری دال نہیں گلنے والی۔"


یہ "دال نہ گلنا" محض ایک محاورہ نہیں، بلکہ اس پست ذہنی رویے کی علامت ہے جو ہر نئے خیال، ہر نئی ہمت اور ہر غیر معمولی کوشش کو ناکامی کی مہر لگا کر دفن کر دینا چاہتا ہے۔


دنیا آپ کو آپ کے ماضی، آپ کے وسائل اور آپ کے حالات کی ترازو میں تولتی ہے، لیکن وہ یہ بھول جاتی ہے کہ کچھ ترازو ایسے بھی ہیں جن کا پلڑا "ارادے" اور "یقین" سے جھکتا ہے۔


جب لوگ کہتے ہیں کہ "تمہاری دال نہیں گلے گی"، تو دراصل وہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ آپ کے کندھوں پر ڈال رہے ہوتے ہیں۔

وہ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ جو راستہ وہ عبور نہ کر سکے، وہ کسی اور کے لیے بھی ناممکن ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب عزمِ صمیم کے ساتھ میدان میں قدم رکھا جائے، تو حالات کی سختی بھی دم توڑ دیتی ہے۔
بلھے شاہ نے کیا خوب کہا ہے۔

لوکی کہندے تیری دال نئی گلنی، اسی پتھر گلدے ویکھے۔


یہ شعر اس حقیقت کا اعلان ہے کہ جب انسان کے اندر کا جذبہ بیدار ہو جائے، تو وہ صرف دال نہیں گلاتا، بلکہ پہاڑوں کا سینہ چیر کر راستہ نکالتا ہے۔ ہم نے تاریخ کے اوراق میں اور اپنے اردگرد کے حالات میں ایسے کئی "پتھر" پگھلتے دیکھے ہیں جنہیں دنیا ناقابلِ تسخیر سمجھتی تھی۔

وہ کالی راتیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ اب کبھی سورج نہیں نکلے گا، وہ بھی انجامِ کار اجالوں میں بدلیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ "دال کا گلنا" یا "پتھر کا پگھلنا" کسی خارجی حالات کا محتاج نہیں ہوتا، یہ آپ کے اندر کی تپش پر منحصر ہے۔ اگر آپ کے ارادوں میں حرارت ہے اور آپ کا توکل مضبوط ہے، تو پھر لوہا ہو یا پتھر، اسے موم ہونا ہی پڑتا ہے۔

دنیا کی باتوں کو چھوڑیں، کیونکہ دنیا کا کام ہی یہی ہے کہ وہ آپ کی ہمت کی دیوار میں دراڑیں تلاش کرے۔ اپنی محنت جاری رکھیں، کیونکہ جہاں لوگ "دال" کے کچا رہ جانے کی دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں، وہاں قدرت آپ کے لیے "پتھروں" کو گلانے کا انتظام کر رہی ہوتی ہے۔ یاد رکھیں، کامیابی شور مچا کر نہیں، بلکہ خاموشی سے پتھر پگھلا کر اپنا راستہ بنانے کا نام ہے۔

آج کل ہر دوسرا شخص میری  طرف دیکھ کر سر ہلا کر کہتا ہے۔ 

"بہن، تیری دال نہیں گلتی!"

میں سوچتی ہوں، واہ جی واہ! دال تو گلتی ہی نہیں، مگر لوگوں کے منہ میں تڑکا ضرور لگ جاتا ہے۔

اس دال کا قصہ بہت پرانا ہے۔

جب کوئی کام نہ بنے، کاروبار ڈوب جائے، شادی نہ ہو، نوکری نہ ملے، یا محبت میں دھوکہ ہو جائے تو سب کا ایک ہی جملہ ہوتا ہے: "تیری دال نہیں گلنی!"

مگر اصل سوال یہ ہے کہ دال گلنی کیوں نہیں؟

کیونکہ کچھ لوگوں کے لیے ایک خاص پتھر بنایا گیا ہے، جہاں دال گلتی ہی نہیں۔ وہ پتھر "قسمت کا پتھر" ہے۔ اس پتھر پر بیٹھ کر آپ جتنی مرضی آگ بھڑکائیں، دال پھر بھی کچی رہ جاتی ہے۔ مگر وہی پتھر ہے جہاں دوسرے لوگ دال گلاتے نظر آتے ہیں، چاول چمکتے ہیں اور مزے سے کھاتے ہیں۔

ایک شخص اسی پتھر پر بیٹھ کر روتا ہے: "میری قسمت ہی خراب ہے!" 
دوسرا شخص اسی پتھر پر بیٹھ کر دال گلاتا ہے اور کہتا ہے: "واہ، میری قسمت کمال کی ہے!"

فرق صرف اتنا ہے کہ پہلا شخص صرف آگ جلاتا ہے، دوسرا آگ کے ساتھ ساتھ چمچہ بھی چلاتا ہے۔

لوگ کہتے ہیں "تیری دال نہیں گلتی"، مگر حقیقت یہ ہے کہ دال گلنے سے پہلے آپ کو خود گلنا پڑتا ہے۔ صبر، ہمت، حکمت اور تھوڑی سی چالاکی کا تڑکا لگانا پڑتا ہے۔

 
جس دن آپ اس پتھر پر بیٹھ کر یہ سوچنا چھوڑ دیں گے کہ "میری دال نہیں گلتی"، اُس دن دال گلنا شروع ہو جائے گی۔

کیونکہ اصل میں دال نہیں گلتی، سوچ گلتی ہے۔

وہ پتھر آپ کا دشمن نہیں، آپ کا استاد ہے۔ 
اس پر بیٹھیں، سبق سیکھیں، آگ بھڑکائیں، چمچہ ہلائیں، نمک چکھیں، اور پھر دیکھیں  دال نہیں، شاہی دال بن جائے گی۔

 
اگر کوئی آپ سے کہے "تیری دال نہیں گلتی" تو مسکراتے ہوئے جواب دیں۔

ہاں بلکل ٹھیک کہا ۔

عزم کا سفر، جب پتھر بھی پگھل جائے

پنجاب کی یہ مشہور کہاوت "لوگ کہتے ہیں تمہاری دال کبھی نہ پکے گی، ہم نے  پتھر بھی پگھلتے دیکھے ہیں۔

یہ محض الفاظ نہیں ہیں۔ یہ ہزاروں سالوں کی عزم اور ہمت کی کہانی ہے۔

زندگی میں جب کوئی بڑا خواب لے کر آگے بڑھتا ہے، تو منہ کے لوگ فوری ہی کہنے لگتے ہیں۔

"تم یہ نہ کر سکو گے"
"یہ تمہارے بس کی بات نہیں"
"ہزاروں نے کوشش کی، ناکام ہو گئے"

یہ گفتگو کتنی کس دل کو آزاردہ ہے! لیکن جو سچے عازم ہیں، وہ یہی سنتے ہیں اور مسکرا دیتے ہیں۔

پتھر سب سے سخت چیز ہے، مگر

پانی کا قطرہ سالوں میں پتھر کو خود ہی نرم کر دیتا ہے

موجیں ساحل کے پتھروں کو ریت میں تبدیل کر دیتی ہے

ہوا کا جھونکا وقت کے ساتھ پہاڑوں کو بھی توڑ دیتا ہے

تو پھر انسانی عزم و ارادہ کیا چیز ہے؟

جو شخص یہ کہاوت بولتا ہے، وہ دراصل کہہ رہا ہے۔

"مجھے تمہاری نکاری سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میری دال پکے یا نہ پکے، میں اپنا راستہ خود بناتا ہوں۔ آپ کا شک میری منزل نہیں بدل سکتا۔"

یہ خود اعتماد ہے۔ یہ استقامت ہے۔

کتنے لوگ اپنے خواب چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ کوئی کہہ گیا؟

کتنے لوگ آگے بڑھتے ہیں، چاہے پوری دنیا کہے؟

تاریخ انہی کے نام لکھتی ہے جو سنتے ہیں منہ، پھر بھی چھپتے نہیں۔

تو اگر کوئی آپ سے کہے کہ "یہ تمہاری دال نہیں گلے گی "، تو ہنسیے۔

اور خاموشی سے اپنی آگ جلائے رکھیے۔

کیونکہ صبر اور محنت انجام تک پہنچتے ہیں۔

اور ہاں، پتھر بھی پگھل جاتے ہیں۔

"عزم ہی سب کجھ ہے... بقیہ سب تو وقت کی بات ہے۔"

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔