سورج کائنات کا روشن ستون اور حیات کا ضامن
---روما محمود---
کوئی مجھ سے پوچھے تو میں اسے بتاوں کہ سونے کا تھال ہے سورج۔
کائنات کے لامحدود اندھیروں میں اگر کوئی شے زندگی کی نوید بن کر چمک رہی ہے، تو وہ ہمارا سورج ہے۔
یہ محض گیسوں کا ایک مجموعہ یا آگ کا گولہ نہیں، بلکہ نظامِ شمسی کا وہ محور ہے جس کے گرد ہماری زمین اور دیگر سیارے ایک تسبیح کے دانوں کی طرح پروئے ہوئے ہیں۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں نے اسے کبھی دیوتا مانا، کبھی طاقت کا سرچشمہ اور کبھی امید کا استعارہ۔
تخلیق اور سائنسی حقیقت
سائنس کی نظر میں سورج ایک عظیم ایٹمی ری ایکٹر ہے جہاں ہائیڈروجن اور ہیلیم کے ملاپ (Nuclear Fusion) سے وہ توانائی پیدا ہوتی ہے جس کا تصور بھی انسانی عقل سے باہر ہے۔
زمین سے تقریباً 150 ملین کلومیٹر دور ہونے کے باوجود اس کی روشنی محض 8 منٹ اور 20 سیکنڈ میں ہم تک پہنچ کر کائنات کو منور کر دیتی ہے۔
اس کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 5,500°C ہے، لیکن اس کے مرکز (Core) کی تپش کروڑوں ڈگری تک جا پہنچتی ہے، جو کائنات کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
حیات کا واحد سرچشمہ
زمین پر زندگی کی پوری بساط سورج ہی کے دم سے بچھی ہوئی ہے۔ اگر آج سورج اپنی روشنی روک لے، تو چند ہی دنوں میں یہ ہرا بھرا کرہِ ارض ایک منجمد قبرستان بن جائے گا۔
پودوں میں خوراک بنانے کا عمل (Photosynthesis) سورج کے بغیر ناممکن ہے۔
وٹامن ڈی کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ سورج کی کرنیں ہیں جو ہڈیوں اور مدافعت کے لیے ناگزیر ہیں۔
سمندروں سے بھاپ کا اٹھنا، بادلوں کا بننا اور پھر بارش کا برسنا۔
یہ سب سورج کے فراہم کردہ حرارتی انجن کے مرہونِ منت ہے۔
سورج ہمیں کائنات کے سب سے بڑے نظم و ضبط کا درس دیتا ہے۔ اس کا ہر روز اپنے مقررہ وقت پر طلوع ہونا اور شام کو افق کی لالی میں ڈوب جانا ایک ایسی پابندیِ وقت ہے جس میں کبھی ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عروج کے بعد زوال یقینی ہے، لیکن ہر زوال کے بعد ایک نئی صبح کا جنم بھی اٹل ہے۔
جیسا کہ کسی دانا نے کہا تھا:
"سورج ہر روز اس لیے نکلتا ہے تاکہ ہمیں یہ بتا سکے کہ اندھیرا کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، روشنی کی ایک کرن اسے مٹانے کے لیے کافی ہے۔"
آج کی جدید دنیا میں جب ایندھن کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں، سورج ہی 'سولر انرجی' کی صورت میں ہمیں مفت اور لامحدود توانائی فراہم کر رہا ہے۔ یہ مستقبل کا وہ ایندھن ہے جو آلودگی سے پاک ہے اور جس کی رسد کبھی ختم نہیں ہوگی۔
آفتاب، خورشید، مہر یا نیرِ اعظم۔
آپ اسے جس بھی نام سے پکاریں، یہ کائنات کا وہ محسن ہے جو خود جل کر ہمیں زندگی کی تپش اور روشنی دے رہا ہے۔ یہ خالقِ کائنات کی عظمت کا وہ نشان ہے جو ہر صبح ہمارے آنگن میں دستک دے کر ہمیں عمل اور حرکت کی دعوت دیتا ہے۔ جس دن انسان نے سورج کی اہمیت کو حقیقی معنوں میں سمجھ لیا، وہ توانائی کے بحران سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جائے گا۔
سورج کو اس کی اہمیت، تپش اور روشنی کی وجہ سے مختلف زبانوں اور تہذیبوں میں کئی ناموں سے پکارا گیا ہے۔
اردو اور فارسی ادب میں تو اس کے لیے نہایت خوبصورت اور استعاراتی الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
سورج کے چند مشہور نام یہ ہیں۔
اردو اور فارسی نام
آفتاب: (سب سے عام اور مقبول نام)
خورشید: (فارسی سے ماخوذ، ادب میں بکثرت استعمال ہوتا ہے)
مہر: (محبت اور روشنی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے)
نیرِ اعظم: (سب سے بڑا روشن ستارہ یا بڑا چراغ)
شمس: (عربی لفظ، جو اردو میں بھی رائج ہے)
سراج: (روشن چراغ)
ذکا: (نہایت روشن)
عربی نام
عربی زبان میں سورج کی مختلف حالتوں کے لحاظ سے کئی نام ہیں:م۔
بیضاء: (سفید اور چمکتا ہوا سورج)
غزالی: (طلوع ہوتا ہوا سورج)
جون: (سخت گرم سورج)
ہندی اور سنسکرت نام
ہندوستانی اساطیر اور زبان میں سورج کے درجنوں نام ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں۔
سوریا: (سب سے معروف نام)
بھاسکر: (روشنی پھیلانے والا)
روی: (اتوار کا دن بھی اسی نام سے منسوب ہے)
آدتیہ: (دیوتاؤں کی اولاد یا ازلی روشنی)
دینکر: (دن نکالنے والا)
دیگر زبانوں میں
Sun: (انگریزی
Helios: (یونانی - ہیلیوس)
Sol: (لاطینی - سول)
غرض یہ کہ سورج ہر طرح سے ہمیشہ سے تھا اور قیامت کے دن تک رہے گا ۔
سورج پر گرہن بھی لگتا ہے ۔
پر اگلے چند لمہوں میں سورج اپنی اسی آب و تاب سے چمکتا ہے ۔
یہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ پریشانیاں اور مصیبتیں وقتی ہوتی ہیں ۔اصل نقطہ آپ کا آپنا کردار اور وجود ہوتا ہے ۔

Comments