ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے. انسانی حسرتوں کا لامتناہی سفر
---روما محمود---
مرزا اسد اللہ خان غالب کا یہ
مصرع محض شاعری نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کی ایک ایسی گہری تشریح ہے جس نے صدیوں کے فلسفے کو ایک مصرعے میں سمو دیا ہے۔
غالب نے جب یہ کہا تھا کہ "ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے"، تو شاید ان کے پیشِ نظر وہ انسانی بے چینی تھی جو اسے کبھی ایک حال پر سکون نہیں لینے دیتی۔
انسان کی پوری زندگی خواہشوں کے گرد گھومتی ہے۔
بچپن میں کھلونوں کی تمنا، جوانی میں کامیابی کے خواب اور بڑھاپے میں بقا کی آرزو۔
یہ خواہشات ہی ہیں جو انسان کو متحرک رکھتی ہیں۔ اگر دل سے تمنا رخصت ہو جائے تو زندگی ایک ٹھہرے ہوئے بدبودار پانی کی مانند ہو جاتی ہے۔
یہ وہ تڑپ کی انتہا ہے جہاں خواہش خوشی کے بجائے ایک میٹھا کرب بن جاتی ہے۔
انسانی فطرت کا المیہ یہ ہے کہ وہ کبھی "کافی" (Enough) پر راضی نہیں ہوتا۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو اس کی کوکھ سے دس نئی خواہشیں جنم لیتی ہیں۔
ہم جسے منزل سمجھتے ہیں، وہ اکثر محض ایک سنگِ میل ثابت ہوتی ہے۔
"بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے"
یہ "کم نکلنے" کا احساس ہی وہ محرک ہے جو انسان کو مریخ پر کمند ڈالنے سے لے کر سمندروں کی تہوں کو چیرنے پر مجبور کرتا ہے۔
لیکن یہی احساس اسے حرص اور حسد کی دلدل میں بھی دھکیل دیتا ہے۔
جدید دور نے ہماری خواہشات کو "ہزاروں" سے بڑھا کر "لاکھوں" کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا کی رنگینیوں نے ہمیں ان چیزوں کا بھی تمنائی بنا دیا ہے جن کی ہمیں ضرورت ہی نہ تھی۔
آج کا انسان اپنی حاصل شدہ نعمتوں پر شکر گزار ہونے کے بجائے ان حسرتوں کا ماتم زیادہ کرتا ہے جو ابھی تشنہ ہیں۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان اپنی ہر آرزو میں اپنی پوری روح جھونک دیتا ہے۔
جب وہ خواہش پوری نہیں ہوتی تو ایک اخلاقی اور نفسیاتی موت کا تجربہ ہوتا ہے۔
لیکن شاید زندگی کا حسن ہی اس ادھورے پن میں ہے۔ اگر تمام خواہشیں پوری ہو جائیں تو تجسس ختم ہو جائے گا اور تجسس ختم ہو گیا تو زندگی میں دلچسپی فنا ہو جائے گی۔
ہم اپنی خواہشات کے قیدی ہیں۔
یہ خواہشیں ہمیں زندہ بھی رکھتی ہیں اور ہمیں تھکاتی بھی ہیں۔ دانش مندی یہ نہیں کہ خواہشات کو مار دیا جائے، بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ انسان یہ جان لے کہ کون سی خواہش "دم" نکالنے کے لائق ہے اور کون سی محض ایک سراب ہے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ جب تک سانس ہے، خواہش رہے گی، اور جب تک خواہش ہے، انسان کے دل کی دھڑکن بنی رہے گی۔
اسی فلسفے کو اگر ذرا اور گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ انفرادی خواہشات کا مرثیہ نہیں بلکہ انسانی ارتقا کی داستان بھی ہے۔
انسان کی فطرت میں جو "ناآسودگی" رکھی گئی ہے، وہی اسے غاروں سے نکال کر فلک بوس عمارتوں تک لے آئی ہے۔
خواہش اور سراب کا رشتہ
نفسیات دان کہتے ہیں کہ انسان جس چیز کی تمنا کرتا ہے، اس کی لذت اسے پانے کے تصور میں زیادہ ہوتی ہے بہ نسبت اسے حاصل کر لینے کے۔
جیسے ہی کوئی بڑی خواہش پوری ہوتی ہے، انسانی ذہن اسے "نارمل" تسلیم کر لیتا ہے اور اگلی منزل کی جستجو میں لگ جاتا ہے۔
یہ ایک ایسا سراب ہے جس کے پیچھے دوڑتے دوڑتے عمر تمام ہو جاتی ہے، مگر پیاس نہیں بجھتی۔
غالب نے اسی لیے کہا تھا:
بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے۔
یہ "کم نکلنے" کا ملال ہی وہ میٹھا زہر ہے جو انسان کو کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا۔
آج کے مادی دور میں "ہزاروں خواہشیں" اب محض ضرورت تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ "مقابلے" کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
دوسرے کے پاس بڑی گاڑی ہے، تو میری خواہش کا "دم" نکلنے لگتا ہے۔
کسی کا طرزِ زندگی مجھ سے بہتر ہے، تو میری اپنی نعمتیں مجھے ہیچ لگنے لگتی ہیں۔
ہم نے اپنی خوشیوں کو دوسروں کی تائید اور واہ واہ سے مشروط کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان وسائل کے ڈھیر پر بیٹھ کر بھی اندر سے خالی اور تشنہ محسوس کرتا ہے۔
صوفیا اور دانشوروں کے نزدیک خواہشات کو قابو میں کرنا ہی اصل زندگی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خواہشات تو وہ بوجھ ہیں جو مسافر کو تھکا دیتے ہیں۔ جتنا بوجھ کم ہوگا، سفر اتنا ہی آسان ہوگا۔
مگر ہمارا کمال یہ ہے کہ وہ خواہشات سے پیچھا چھڑانے کی بات نہیں کرتے، بلکہ ان کی شدت کا اعتراف کرتے ہیں۔
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہر خواہش کے پیچھے ایک پوری "زندگی" داؤ پر لگی ہوتی ہے۔
زندگی دراصل ان ادھوری خواہشوں ہی کا نام ہے۔ اگر سب کچھ مل جائے تو زندگی میں "تجسس" ختم ہو جائے گا، اور تجسس کے بغیر انسان محض ایک چلتی پھرتی مشین ہے۔
لوگوں کو زندگی میں سب کچھ مل جاتا ہے پھر بھی کہتے ہیں زندگی ادھوری رہ گئی زندگی میں کچھ کر نہیں سکے ۔
خواہش کرنا انسانی ہونے کی علامت ہے۔
ان خواہشوں میں تڑپنا زندہ ہونے کا ثبوت ہے۔
اور ان کا پورا نہ ہونا، کائنات کے اس نظامِ تسلسل کا حصہ ہے جو ہمیں ہمیشہ متحرک رکھتا ہے۔
شاید زندگی کا اصل حسن اسی تکرار میں ہے کہ ہم ہر صبح ایک نئی خواہش کے ساتھ جاگیں، چاہے شام تک اس کے پورے نہ ہونے پر ہمارا "دم" ہی کیوں نہ نکلتا رہے۔

Comments