امریکی-ایرانی مذاکرات (اسلام آباد، اپریل 2026) کی تفصیلات۔
---روما محمود---
یہ مذاکرات 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہ راست اعلیٰ سطح کی پہلی ملاقات تھیں۔
پاکستان نے ثالثی کا اہم کردار ادا کیا۔ مذاکرات 11 اپریل 2026 کو شروع ہوئے اور 21 گھنٹے جاری رہے، مگر 12 اپریل 2026 کو کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔
2025-2026 کے تنازع کے بعد (اسرائیل-حماس/لبنان تنازع سے جڑا)، امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے جس کے نتیجے میں علاقائی جنگ چھڑ گئی (تقریباً 6 ہفتے)۔
پاکستان کی ثالثی سے عارضی دو ہفتوں کی ceasefire ہوئی، جس کے بعد بات چیت کے لیے اسلام آباد کو جگہ منتخب کیا گیا۔
امریکی وفد:
- نائب صدر JD Vance (لیڈر)
- خصوصی ایلچی Steve Witkoff
- صدر ٹرمپ کے دامادJared Kushner
ایرانی وفد
(70+ ارکان پر مشتمل):
- پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Qalibaf (Ghalibaf)
- وزیر خارجہAbbas Araghchi (عراقچی)
- پاکستانی کردار: وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ثالثی کی۔ مذاکرات سیرینا ہوٹل اسلام آباد میں ہوئے۔
مذاکرات کے اہم نکات اور ایجنڈا
- امریکی مطالبات (ریڈ لائنز):
- ایران کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر روکنا/ختم کرنا (core goal)۔
- علاقائی دہشت گردی (proxy groups) کا خاتمہ۔
- Strait of Hormuz میں تیل کی نقل و حرکت کی ضمانت۔
- ایرانی مطالبات:
- منجمد اثاثوں کی رہائی۔
- لبنان میں اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور جنگ بندی۔
- پابندیوں میں نرمی اور معاشی ریلیف۔
الگ الگ پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد براہ راست (face-to-face) اور trilateral (امریکہ-ایران-پاکستان) بات چیت۔ تحریری تجاویز کا تبادلہ بھی ہوا۔
نتیجہ (تازہ ترین — 12 اپریل 2026)
- کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ JD Vance نے کہا: "ایران نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں۔
ہم نے بہترین اور حتمی پیشکش کی تھی، مگر وہ نیوکلیئر ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔"
ان کے مطابق یہ ایران کے لیے زیادہ بری خبر ہے۔
ایرانی فریق نے کہا کہ بات چیت "intensive" تھی، مگر امریکہ "excessive demands" کر رہا تھا۔
پاکستان نے دونوں فریقوں سے ceasefire برقرار رکھنے کی اپیل کی اور ثالثی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
اثرات اور آگے کیا؟
عارضی ceasefire اب بھی قائم ہے، مگر نازک صورتحال ہے (لبنان اور Hormuz میں تناؤ)۔
عالمی مارکیٹس (تیل کی قیمتیں) متاثر ہو رہی ہیں۔
پاکستان کی سفارتی کامیابی اس نے عالمی توجہ حاصل کی اور ثالث کے طور پر کردار ادا کیا۔
صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

Comments