انا (Ego) تعمیرِ شخصیت یا تخریبِ ذات؟
---روما محمود---
انسانی شخصیت کے پیچیدہ تانوں بانوں میں 'انا' ایک ایسا دھاگہ ہے جو اگر توازن میں رہے تو خودداری کہلاتا ہے، اور اگر حد سے بڑھ جائے تو تکبر کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
انا دراصل انسان کی وہ حس ہے جو اسے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے، لیکن جب یہ حس ایک 'دیوار' بن جائے تو انسان حقیقت کی دنیا سے کٹ کر اپنی بنائی ہوئی ایک خیالی جنت میں قید ہو جاتا ہے۔
انا کو ہم دو واضح حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
مثبت انا (خودداری)۔ یہ وہ قوت ہے جو انسان کو اپنے حقوق کے تحفظ پر اکساتی ہے۔ یہ اسے دوسروں کے سامنے بلاوجہ جھکنے سے روکتی ہے اور اپنی محنت و صلاحیت پر بھروسہ کرنا سکھاتی ہے۔
منفی انا (تکبر)۔ یہ وہ بیماری ہے جہاں انسان خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتا ہے۔ یہاں 'میں' کے سوا سب ہیچ نظر آتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان سیکھنے کا عمل روک دیتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔
انا اور معاشرتی بگاڑ
آج کے دور میں بیشتر رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ کے پیچھے کوئی بڑا مسئلہ نہیں، بلکہ صرف 'انا' ہوتی ہے۔ ہم معافی مانگنے کو اپنی توہین اور جھکنے کو اپنی شکست سمجھتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ
"درخت وہی سلامت رہتا ہے جس میں لچک ہوتی ہے، اکڑنے والے درخت تندوتیز ہواؤں میں جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں۔"
جب انا ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو انسان اپنے قریبی ساتھیوں، دوستوں اور یہاں تک کہ خاندان سے بھی دور ہو جاتا ہے۔ لوگ اس کے ساتھ رہنے کے بجائے اس سے کترانے لگتے ہیں، کیونکہ انا پرست شخص گفتگو نہیں کرتا بلکہ اپنی برتری ثابت کرنے کی جنگ لڑتا ہے۔
انا کا علاج کیا ہے؟
انا کا سب سے بہترین علاج عاجزی اور اعترافِ حقیقت ہے۔ یہ مان لینا کہ ہم انسان ہیں اور غلطی کر سکتے ہیں، انا کے بت کو توڑنے کا پہلا قدم ہے۔
سننے کی عادت ڈالیں۔ دوسروں کی بات کو رد کرنے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
معافی میں پہل کریں۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔
اپنی اوقات یاد رکھیں۔
کائنات کی وسعت میں انسان کی حیثیت ایک ذرے سے بھی کم ہے۔
انا ایک آگ کی طرح ہے، اگر یہ کنٹرول میں رہے تو آپ کی شخصیت کو جلا بخشتی ہے اور آپ کے وقار کو روشن رکھتی ہے، لیکن اگر یہ بے قابو ہو جائے تو سب سے پہلے آپ کے اپنے سکون اور پھر آپ کے رشتوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ سچی کامیابی 'میں' کو مار کر 'ہم' کو اپنانے میں ہے۔
انا پرست انسان اپنی ذات کے حصار میں قید ایک قیدی
انا پرست شخص بظاہر بہت مضبوط، پراعتماد اور خوددار نظر آتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کی شخصیت کے اندر ایک ایسی گہری کھائی ہوتی ہے جسے وہ دوسروں کو نیچا دکھا کر بھرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انا پرستی دراصل ایک نفسیاتی ڈھال ہے، جس کے پیچھے انسان اپنی محرومیوں اور احساسِ کمتری کو چھپاتا ہے۔
انا پرست انسان کی پہچان
ایک انا پرست انسان کو ان خصوصیات سے پہچانا جا سکتا ہے۔
اپنی غلطی تسلیم نہ کرنا۔ اس کے لغت میں "معذرت" یا "سوری" کا لفظ نہیں ہوتا۔ وہ اپنی ہر غلطی کا ملبہ حالات یا دوسرے لوگوں پر ڈالنے کا ماہر ہوتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ ہر محفل میں گفتگو کا رخ اس کی ذات، اس کی کامیابیوں اور اس کی پسند و ناپسند کی طرف رہے۔
وہ تعمیری تنقید کو بھی ذاتی حملہ تصور کرتا ہے اور فوراً دفاعی یا جارحانہ رویہ اختیار کر لیتا ہے۔
اسے لگتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ ذہین، زیادہ سمجھدار اور زیادہ حقدار ہے۔
انا پرستی کے نقصانات
انا پرست انسان بظاہر تو 'فاتح' نظر آتا ہے، لیکن اندرونی طور پر وہ بہت تنہا ہوتا ہے:
انا پرست شخص کے پاس رشتہ دار اور دوست تو ہو سکتے ہیں، لیکن مخلص ساتھی نہیں ہوتے۔ لوگ اس کے ساتھ رہنے کے بجائے اس کے رویے سے تنگ آ کر کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔
جب انسان یہ سمجھ لے کہ اسے سب پتا ہے، تو اس کے لیے علم اور بہتری کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں کوئی اس سے آگے نہ نکل جائے یا کوئی اسے نیچا نہ دکھا دے۔ یہ مسلسل مقابلہ اسے ذہنی سکون سے محروم کر دیتا ہے۔
انا پرست کے ساتھ کیسے رہا جائے؟
اگر آپ کا واسطہ کسی انا پرست انسان سے ہے، تو یہ طریقے کارگر ہو سکتے ہیں۔
انا پرست سے بحث جیتنا ناممکن ہے کیونکہ وہ منطق پر نہیں، انا پر فیصلہ کرتا ہے۔ خاموشی بہترین جواب ہے۔
اسے واضح کریں کہ آپ کی عزتِ نفس کہاں سے شروع ہوتی ہے، تاکہ وہ اپنی انا کی خاطر آپ کی تذلیل نہ کر سکے۔
اس کی تعریف صرف تب کریں جب وہ واقعی اس کا مستحق ہو، ورنہ بے جا خوشامد اس کی انا کو مزید بے لگام کر دیتی ہے۔
"انا ایک ایسی بیماری ہے جس کا مریض تو سکون سے رہتا ہے، لیکن اس کے آس پاس کے تمام لوگ بیمار ہو جاتے ہیں۔"
ہم سب کے اندر ایک چھوٹی سی انا چھپی ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقت رہتے یہ دیکھیں کہ کہیں ہماری 'میں' اتنی بڑی تو نہیں ہو گئی کہ ہمیں سامنے کھڑا جیتا جاگتا انسان چھوٹا نظر آنے لگے۔

Comments