آئی ایم ایف پروگرام اور موجودہ حالات حاضرہ۔
---روما محمود---
پاکستانکا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام (IMF Program) کا جائزہ لیتے ہوئے، یہ بات واضح ہے کہ ملک 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (EFF) کے تحت ہے جو ستمبر 2024 میں منظور ہوا تھا۔
اس کے علاوہ ریزلائنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلیٹی (RSF) بھی چل رہی ہے۔
پروگرام کی کل مالیت تقریباً 7 ارب ڈالر (EFF) + 1.1 سے 1.4 ارب ڈالر (RSF) ہے۔
تازہ ترین صورتحال (مارچ 2026 تک)
دوسرا جائزہ (Second Review): دسمبر 2025 میں مکمل ہوا۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے اسے منظور کیا اور پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر (EFF) + 200 ملین ڈالر (RSF) جاری کیے گئے۔
کل اب تک تقریباً 3.3 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔
تیسرا جائزہ (Third Review under EFF) اور دوسرا جائزہ (Second Review under RSF): فروری 2025 کے آخر سے شروع ہوا (25 فروری 2026 سے مشن پاکستان پہنچا)۔
یہ جائزہ 11 مارچ 2026 تک جاری رہا۔ مذاکرات کراچی (اسٹیٹ بینک) اور اسلام آباد میں ہوئے، لیکن علاقائی سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے کچھ حصہ ورچوئل (آن لائن) ہو گیا۔
مذاکرات جاری ہیں یا حال ہی میں ختم ہوئے۔ اگر کامیاب ہوئے تو پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر (EFF) + 200 ملین ڈالر (RSF) کی اگلی قسط مل سکتی ہے۔
مثبت پہلو (IMF کی طرف سے تسلیم شدہ)
معیشت میں استحکام آیا ہے۔
پرائمری فسکَل سرپلس FY25 میں 1.3% GDP رہا (ٹارگٹ کے مطابق)۔
افراط زر کنٹرول میں ہے (موسمی اثرات کے باوجود)۔
کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 14 سال بعد آیا۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری (FY25 کے آخر میں 14.5 ارب ڈالر)۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
سیلاب اور دیگر بحرانوں کے باوجود پالیسیوں پر عمل جاری رکھا۔
چیلنجز اور خدشات (IMF اور ذرائع کے مطابق)
ٹیکس ریونیو میں کمی (FBR کا shortfall) یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
SOEs اصلاحات میں تاخیر (اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز)۔
سٹیچوٹری باڈیز (جیسے NAB، SECP، CCP) کی تقرریوں میں میرٹ اور گورننس کے مسائل۔
خارجی فنانسنگ پلان پر عملدرآمد۔
زرمبادلہ ذخائر کا ہدف (30 جون 2026 تک 17.8 ارب ڈالر)۔
ٹیکس چھوٹ اور دیگر پالیسیوں میں نرمی کی کوششیں (جیسے شوگر، فرٹیلائزر پر)۔
علاقائی تناؤ (مشرق وسطیٰ) اور عالمی دباؤ کی وجہ سے اضافی چیلنجز۔
پاکستان کی کوششیں
حکومت سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کو 10 سالہ سہولت میں تبدیل کرنے، آئل کریڈٹ بڑھانے اور دیگر مدد کی درخواست کر رہی ہے تاکہ IMF کے ساتھ فنانسنگ گیپ پورا ہو۔
NAB چیئرمین کی تقرری اور اثاثہ جات کی ڈیکلریشن پر ایکشن پلان بھی IMF کو دیا گیا ہے۔
یہ پروگرام پاکستان کے لیے وقت خرید رہا ہے ۔
معیشت مستحکم ہو رہی ہے، مگر پائیدار ترقی کے لیے ٹیکس بیس بڑھانا، SOEs کو بہتر کرنا، کرپشن کنٹرول اور توانائی سیکٹر کی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
اگر تیسرے جائزے میں اچھا نتیجہ نکلا تو اگلی قسط مل جائے گی اور پروگرام ٹریک پر رہے گا۔
لیکن اگر ریونیو اور اصلاحات میں تاخیر رہی تو نئی شرائط یا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
عوام کے لیے یہ پروگرام مہنگائی کنٹرول اور استحکام لائے گا، مگر ٹیکسز، یوٹیلیٹیز اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے جب تک ٹیکس نیٹ وسیع نہ ہو۔ امید ہے کہ حکومت اور IMF مل کر ایک متوازن راستہ نکالیں گے۔


Comments