تقدیر کی زنجیریں اور بے بس معاشرہ۔
---روما محمود---
پاکستانی معاشرے میں "تقدیر" ایک ایسا تصور ہے جو تسلی سے زیادہ تساہل اور جدوجہد سے زیادہ فرار کا راستہ بن چکا ہے۔ ہمارے ہاں جب کوئی حادثہ پیش آئے، معاشی تنگی ہو یا سماجی ناکامی، تو اسے "قسمت کا لکھا" کہہ کر فائل بند کر دی جاتی ہے۔ یہ رویہ انفرادی سطح سے بڑھ کر اب ایک قومی نفسیات کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
تقدیر کا مفہوم، رضا یا بہانہ؟
حقیقت میں تقدیر الہیٰ پر ایمان لانے کا مقصد یہ تھا کہ انسان کٹھن حالات میں ہمت نہ ہارے اور کامیابی پر غرور نہ کرے۔ لیکن ہم نے اس کا رخ ہی موڑ دیا۔
ہمارے معاشرے میں تقدیر کو عموماً اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
جب ایک عام آدمی مہنگائی یا بیروزگاری کا شکار ہوتا ہے، تو وہ نظام کی خرابی کو چیلنج کرنے کے بجائے اسے اپنی "نصیب کی لکیر" مان لیتا ہے۔
اگر کوئی بچہ وسائل کی کمی یا ناقص سکولنگ کی وجہ سے پیچھے رہ جائے، تو معاشرہ اسے "دماغ کی کمی" یا "قسمت کا پھیر" قرار دے کر اسے آگے بڑھنے کی تحریک دینے سے قاصر رہتا ہے۔
سماجی جبر اور قسمت کا کھیل
پاکستانی معاشرت میں طبقہ بندی اتنی گہری ہے کہ یہاں غریب کا بچہ یہ سوچ کر پیدا ہوتا ہے کہ اس کی تقدیر میں محنت مزدوری ہی لکھی ہے۔
دوسری طرف، صاحبِ ثروت طبقہ اپنی موروثی آسائشوں کو "خدا کی خاص دین" سمجھ کر اس سماجی ناانصافی کو جواز فراہم کرتا ہے۔
"کیکڑا سوچ" (Crab Mentality) کا اس میں بڑا عمل دخل ہے۔ اگر کوئی اپنی محنت سے تقدیر بدلنے کی کوشش کرے، تو معاشرہ اسے سہارا دینے کے بجائے ٹانگیں کھینچ کر دوبارہ اسی گڑھے میں گرانے کی کوشش کرتا ہے جہاں سب "قسمت" کے نام پر قید ہیں۔
ہم نے "توجہ" اور "تدبیر" کو پسِ پشت ڈال کر صرف "دعا" اور "تقدیر" پر تکیہ کر لیا ہے۔ سڑک پر حادثہ ہو تو وہ ڈرائیور کی غفلت نہیں بلکہ "اجل کا بلاوا" ہوتا ہے۔ ہسپتال میں غلط انجکشن سے جان جائے تو وہ مسیحا کی کوتاہی نہیں بلکہ "لکھی ہوئی عمر" کہلاتی ہے۔ یہ سوچ احتساب کے عمل کو روک دیتی ہے۔
تقدیر کا اصل فلسفہ تو حرکت اور عمل میں پوشیدہ ہے۔ اقبال نے کہا تھا۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔
پاکستانی معاشرے کو اگر ترقی کی راہ پر گامزن ہونا ہے تو ہمیں تقدیر کو "بے بسی" کے بجائے "امید" کا استعارہ بنانا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہاتھ کی لکیریں بدلنے کے لیے ہاتھوں کو حرکت دینی پڑتی ہے۔ جب تک ہم اپنی ناکامیوں کو قسمت کے کھاتے میں ڈالتے رہیں گے، ہم ایک ایسی قوم بنے رہیں گے جو ماضی کے قصوں میں گم اور مستقبل سے بے خبر ہے۔

Comments