شکر گزاری کرنا سیکھیں، مادیت کے طوفان میں سکون کا لنگر
---روما محمود---
آج کے تیز رفتار دور میں، جہاں انسانی تعلقات ڈیجیٹل سگنلز کی طرح کمزور اور رویے 'ڈسپوز ایبل' اشیاء کی طرح عارضی ہوتے جا رہے ہیں، یہ سوال اکثر ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ آخر "زندگی کیسے گزاری جائے؟"
ہم ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں،
کوئی کارواں نہیں ، کوئی رہنما نہیں ۔
جہاں زیادہ سے زیادہ کی ہوس نے ہمیں وہ سب کچھ دیکھنے سے قاصر کر دیا ہے جو پہلے ہی ہمارے پاس موجود ہے۔
حسد ، دوسروں کو نیچا دیکھانا ، دوسروں کے کام کا کریڈٹ خود لینا اور جھوٹ بولنا شامل ہے ۔
اس بے ہنگم شور میں اگر کوئی چیز زندگی کو توازن اور معنی دے سکتی ہے، تو وہ شکر گزاری کا مادہ ہے۔
مادیت کا سراب اور حال کی قید
جدید طرزِ زندگی نے ہمیں سکھایا ہے کہ خوشی ہمیشہ "اگلی" چیز میں چھپی ہے۔
اگلا موبائل فون، اگلی ترقی، یا اگلا بڑا گھر۔
اس چکر میں ہم 'حال' کو ایک بوجھ سمجھ کر گزارتے ہیں۔
زندگی گزارنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ حال کے لمحے کو اس کی تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ قبول کیا جائے۔
ہم مستقبل کے اندیشوں کو پیچھے چھوڑ کر آج میں نہیں جی سکتے ،
یہی وہ احساس ہے جو زندگی کو کسی منزل تک پہنچنے نہیں دیتی۔ زندگی تو ایک سفر ہے، جسے ہر قدم پر محسوس کرنا ضروری ہے۔
شکر گزاری کو ہم اپنی ذہنی ڈھال کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
شکر گزاری محض ایک اخلاقی قدر نہیں، بلکہ یہ ایک نفسیاتی ڈھال ہے جو انسان کو مایوسی کے حملوں سے بچاتی ہے۔ جب ہم شعوری طور پر اپنی نعمتوں کا شمار کرنا شروع کرتے ہیں، تو ہمارا دماغ منفی پہلوؤں کے بجائے مثبت امکانات کی طرف راغب ہونے لگتا ہے۔
تعلقات میں شکر گزاری، اپنے قریبی لوگوں کی موجودگی کو غنیمت جاننا اور ان کی چھوٹی چھوٹی کاوشوں کو سراہنا رشتوں میں وہ مضبوطی پیدا کرتا ہے جو کسی مادی فائدے سے ممکن نہیں۔
ذاتی اطمینان، شکر گزاری ہمیں دوسروں سے موازنہ کرنے کی مہلک عادت سے نجات دلاتی ہے۔ جب موازنہ ختم ہوتا ہے، تو حسد کی جگہ سکون لے لیتا ہے۔
"زندگی وہ نہیں جو ہمیں ملتی ہے، زندگی وہ ہے جو ہم اپنی سوچ اور احساسِ تشکر سے تخلیق کرتے ہیں۔"
ڈسپوز ایبل کلچر اور اخلاقیات
آج کے معاشرے میں جہاں چیزوں کے ساتھ ساتھ جذبات بھی جلد مسترد کر دیے جاتے ہیں، وہاں شکر گزاری ہمیں 'قدر دانی' سکھاتی ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر انسان اور ہر تجربہ ہماری زندگی میں ایک خاص مقصد کے تحت آتا ہے۔ اخلاقی لحاظ سے ایک بہتر زندگی وہ ہے جس میں ہم دوسروں کے حقوق کا ادراک رکھیں اور معاشرے میں محض لینے والے نہیں بلکہ دینے والے (Giver) بن کر رہیں۔
زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنی عقل اور جذبات میں توازن رکھا جائے۔ مادیت کی اس چکا چوند میں اپنی روح کے سکون کے لیے وقت نکالا جائے۔
یاد رکھیں، شکر گزاری وہ کیمیا ہے جو عام سے لمحے کو بھی خاص بنا دیتی ہے اور کمی میں بھی کثرت کا احساس پیدا کرتی ہے۔
اگر ہم آج سے اپنی زندگی میں "شکر" کو ایک مستقل رویے کے طور پر اپنا لیں، تو زندگی گزارنے کا فن خود بخود سمجھ آنے لگے گا۔

Comments