علی لاریجانی: ایران کی سیاست کا اہم ستون اور ممکنہ مستقبل لیڈر 

 




---روما محمود---




ایران کی سیاست میں علی لاریجانی ایک ایسا نام ہے جو طویل عرصے سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ 3 جون 1958 کو عراق کے شہر نجف میں پیدا ہونے والے علی لاریجانی ایک مذہبی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

ان کے والد میرزا ہاشم آمولی ایک ممتاز مذہبی سکالر تھے، اور ان کے بھائی ایران کی عدلیہ اور مذہبی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ ٹائم میگزین نے 2009 میں ان کے خاندان کو "ایران کے کینیڈیز" کا خطاب دیا تھا۔




 علی لاریجانی نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور 18ویں صدی کے جرمن فلسفی ایمانویل کانٹ پر لکھا ہے۔ وہ ایک قدامت پسند اندرونی شخصیت ہیں جو مغربی ممالک کے ساتھ جوہری مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔


علی لاریجانی کی سیاسی زندگی اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے 1981 سے 1983 تک اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) میں کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1994 سے 2004 تک ایران کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کے سربراہ رہے۔

 2005 سے 2007 تک ایران کے چیف جوہری مذاکرات کار تھے اور اسی عرصے میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل (SNSC) کے سیکریٹری بھی رہے۔ 2008 سے 2020 تک وہ ایران کی پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر رہے، جو ایران کی تاریخ میں سب سے طویل مدت ہے۔ انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی حمایت کی اور ایران کی خارجہ پالیسی میں اہم کردار ادا کیا۔


حال ہی میں، 2025 میں اسرائیل-ایران تنازع کے بعد صدر مسعود پزشکیان نے انہیں دوبارہ SNSC کا سیکریٹری مقرر کیا۔ جنوری 2026 میں ایران میں ہونے والے احتجاجوں کو کچلنے میں ان کا کلیدی کردار تھا۔

 فروری 2026 میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے انہیں ملک کی قیادت سنبھالنے کے لیے ترجیحی امیدوار نامزد کیا، اور 28 فروری کو خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد علی لاریجانی ایران کو مؤثر طور پر چلا رہے ہیں۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہے ہیں اور حال ہی میں امریکہ کو "سبق سکھانے" کی دھمکی دی ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔


علی لاریجانی ایک پریکٹیکل سیاست دان ہیں جو سخت گیر حلقوں میں بھی مقبول ہیں، لیکن سخت گیر عناصر نے ان پر کبھی مکمل اعتماد نہیں کیا۔ 

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال میں، جہاں ایران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازعات میں الجھا ہوا ہے، لاریجانی کی قیادت ایران کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔ پاکستان جیسے پڑوسی ملک کے لیے، ایران کی سیاسی تبدیلیاں علاقائی استحکام پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ کیا لاریجانی ایران کو ایک نئی سمت دیں گے یا پرانی پالیسیوں پر قائم رہیں گے؟ 

یہ وقت ہی بتائے گا، لیکن ان کی تجربہ کار شخصیت یقینی طور پر ایران کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو گی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔