لفافہ عیدی کا ہو یا تنخواہ کا آج کل تو لفافہ صحافی بھی بڑی عام سی بات ہے ۔
---روما محمود---
لفافہ محض کاغذ کا ایک تہہ شدہ ٹکڑا نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر خوشی، ضرورت، اور کبھی کبھار مصلحت کے کئی رنگ چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔
ہماری تہذیب اور روزمرہ زندگی میں "لفافہ" ایک ایسی علامت بن چکا ہے جو کبھی رشتے جوڑتا ہے تو کبھی کرداروں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے۔
![]() |
لفافے کئی قسم کے ہوتے ہیں۔
عیدی کا لفافے میں لپٹی بچپن کی خوشبو۔
عید کے دن نئے کپڑوں اور خوشبو کے بعد جس چیز کا سب سے زیادہ انتظار ہوتا ہے، وہ وہی رنگین اور چمکتا ہوا لفافہ ہے۔
محبت کا اظہار، عیدی کا لفافہ محض رقم نہیں، بلکہ بڑوں کی طرف سے چھوٹوں کے لیے دعاؤں اور شفقت کا ایک خوبصورت پیکٹ ہوتا ہے۔
اس لفافے کی خاص بات وہ تجسس ہے جو اسے کھولنے سے پہلے ہوتا ہے۔ "اس میں کتنا نکلے گا؟" یہ سوال بچوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دیتا ہے۔
عید کی صبح جہاں خوشبوؤں اور نئے کپڑوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے، وہیں بچوں کی نظریں بڑوں کی جیبوں اور ان مخصوص "لفافوں" پر جمی ہوتی ہیں۔ عیدی کا لفافہ محض رقم کا تبادلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی ثقافتی روایت ہے جو نسلوں کو محبت کے دھاگے میں پروتی ہے۔
لفافے کی خاص بات وہ تجسس ہے جو اسے کھولنے سے پہلے محسوس ہوتا ہے۔ جب دادا ابو یا نانی اماں کے ہاتھ سے وہ رنگین لفافہ ملتا ہے، تو دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں۔ وہ لمحہ جب بچہ کونے سے لفافہ پھاڑ کر نوٹ کا رنگ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، کسی بڑی مہم جوئی سے کم نہیں ہوتا۔
عیدی کو لفافے میں ڈال کر دینا اس بات کی علامت ہے کہ ہم دینے والے کے ہاتھ اور لینے والے کی عزتِ نفس دونوں کا خیال رکھ رہے ہیں۔ یہ سکھاتا ہے کہ خوشیاں بانٹنے کا بھی ایک خاص سلیقہ ہوتا ہے۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں بینک ٹرانسفر سیکنڈوں میں ہو جاتے ہیں، وہ ہاتھ سے لکھا ہوا "عید مبارک" والا لفافہ اب بھی اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسی یاد ہے جسے ہم بچپن کی ڈائریوں میں آج بھی محفوظ پاتے ہیں۔
پرانے وقتوں میں عیدی کے لفافوں پر ہاتھ سے لکھی ہوئی دعائیں برسوں تک ڈائریوں میں محفوظ رکھی جاتی تھیں۔
تنخواہ کا لفافہ، محنت کا ثمر
یہ لفافہ ذمہ داری اور سکون کا سنگم ہے۔ اگرچہ اب ڈیجیٹل بینکنگ کا دور ہے، لیکن ہاتھ میں پکڑے اس سفید لفافے کی جو وقعت تھی، وہ موبائل میسج میں کہاں؟
تنخواہ کا لفافہ وہ لفافہ ہوتا ہے جس لفافے کے کھلنے سے گھر کا چولہا بھی جلتا ہے اور بچوں کی فیسیں بھی ادا ہوتی ہیں۔ یہ ایک مزدور کی تھکن کا مداوا اور ایک سفید پوش کی عزت کا محافظ ہوتا ہے۔
مہینے بھر کے پسینے کی مہک اس لفافے میں بسی ہوتی ہے، جو اسے کسی بھی دوسرے تحفے سے زیادہ قیمتی بنا دیتی ہے۔
لفافہ صحافی بھی آج کل عام سی بات ہے۔
لفافے کی یہ قسم بدقسمتی سے ہماری صحافتی تاریخ کا ایک تاریک باب ہے۔ جہاں لفافہ خوشی یا ضرورت کی علامت ہونا چاہیے تھا، وہیں یہ "کرپشن" اور "جانبداری" کا استعارہ بن گیا۔
جب خبر سچائی کے بجائے "لفافے" کے وزن پر لکھی جانے لگے، تو معاشرے میں سچ دم توڑ دیتا ہے۔
"لفافہ صحافی" وہ اصطلاح ہے جو ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو چند روپوں کے عوض جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کا ہنر بیچ دیتے ہیں۔
اس ایک اصطلاح نے مخلص اور ایماندار صحافیوں کے کام کو بھی مشکوک بنا دیا ہے، جو کہ ایک المیہ ہے۔
لفافہ اگر محبت (عیدی) یا محنت (تنخواہ) کا ہو تو رحمت ہے، لیکن اگر یہ ضمیر کی قیمت (رشوت) بن جائے تو یہ معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
قلم کی حرمت اور 'لفافہ کلچر'
اگر عیدی کا لفافہ محبت کی علامت ہے، تو بدقسمتی سے "لفافہ صحافی" کی اصطلاح نے معاشرے میں ایک منفی تاثر قائم کر دیا ہے۔ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، لیکن جب اس ستون کی بنیادوں میں سچائی کے بجائے "مصلحت کا لفافہ" آ جائے، تو عمارت ڈگمگانے لگتی ہے۔
ایک صحافی کا کام سچ کو عوام تک پہنچانا ہے، چاہے وہ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔ لیکن جب قلم کسی خاص گروہ یا شخصیت کی قصیدہ گوئی کے لیے وقف ہو جائے، تو وہ صحافت نہیں بلکہ "پروپیگنڈا" بن جاتا ہے۔
"لفافہ کلچر" نے عام آدمی کا میڈیا پر سے اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔ آج قاری یا ناظر خبر سننے سے پہلے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اس کے پیچھے کوئی "سپانسر" تو نہیں۔ یہ صورتحال ان ایماندار صحافیوں کے لیے بھی مشکل پیدا کرتی ہے جو اپنی جان پر کھیل کر سچ لکھتے ہیں۔
صحافتی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ خبر کو ذاتی مفادات سے پاک رکھا جائے۔ قلم کی حرمت اسی میں ہے کہ وہ طاقتور کے سامنے جھکنے کے بجائے کمزور کی آواز بنے۔ معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم "لفافہ صحافت" کے بجائے "ذمہ دارانہ صحافت" کو فروغ دیں۔
مختصر یہ کہ ایک لفافہ اگر بچپن میں ملے تو مسرت کا پیغام ہے، لیکن اگر یہی لفافہ قلم خریدنے کے لیے استعمال ہو تو یہ پوری قوم کے شعور کا قتل ہے۔

Comments