کامران خان کی واپسی ڈیجیٹل سے مین سٹریم تک

 





---روما محمود---





کامران خان اور ملک ریاض کا نکتہ (Nukta) میں کردار ایک مختصر اور واضح کہانی ہے، جو پاکستان کے میڈیا اور سرمایہ کاری کے منظر نامے کو ظاہر کرتی ہے۔





کامران خان کا کردار کیا یے ؟

کامران خان نکتہ کے بانی (Founder)، چیف اور لیڈر تھے۔ انہوں نے اکتوبر/نومبر 2024 میں دبئی سے اس ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم کو لانچ کیا۔ یہ ایک AI-powered ڈیجیٹل نیوز اور تجزیاتی مواد کا پلیٹ فارم تھا (یوٹیوب، ویب سائٹ وغیرہ پر)، جہاں ان کا مشہور پروگرام "On My Radar" مرکزی کشش تھا۔

کامران خان نے اسے چلانے کی ذمہ داری سنبھالی، بڑے پیمانے پر صحافیوں کی بھرتی کی (کئی کو دوگنا تنخواہ کی پیشکش کے ساتھ)، اور اسے ایک جدید ڈیجیٹل نیوز ہاؤس کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کی۔

ملک ریاض کا کردار کیا ہے ؟

ملک ریاض (بحریہ ٹاؤن کے بانی اور چیئرمین) نکتہ کے پرائمری سرمایہ کار (Primary Investor/Backer) تھے۔ انہوں نے پلیٹ فارم کی ابتدائی فنانسنگ اور مالی معاونت فراہم کی۔

یہ سرمایہ کاری نکتہ کی لانچ، بھرتیوں اور آپریشنز کے لیے استعمال ہوئی۔ تاہم، بعد میں ملک ریاض نے فنڈنگ کم یا روک دی (ممکنہ طور پر پاکستان میں قانونی/مالی مسائل، جیسے اثاثوں پر کارروائی اور جرمانوں کی وجہ سے)۔ اس کی وجہ سے نکتہ کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کچھ رپورٹس میں 37 صحافیوں کی برطرفی اور آپریشنز میں مسائل کا ذکر ہے۔

مالی دباؤ کی وجہ سے نکتہ اے آر وائی ڈیجیٹل نیٹ ورک کو منتقل ہو گیا۔ اے آر وائی نے اکثریتی حصص خرید لیے (معاہدہ تقریباً حتمی تھا، اور اب مکمل ہو چکا ہے)۔

اس ڈیل کے نتیجے میں
کامران خان اب اے آر وائی نیوز اور نکتہ دونوں کے چیئرمین ہیں۔
ان کا پروگرام "On My Radar" اب اے آر وائی نیوز پر بھی پرائم ٹائم میں چل رہا ہے۔

ملک ریاض کی سرمایہ کاری ختم ہوئی، اور نکتہ اب اے آر وائی گروپ کا حصہ بن گیا ہے (کچھ مبصرین اسے ملک ریاض کی میڈیا میں ایک اور ناکامی قرار دیتے ہیں)۔

مختصر یہ کہ نکتہ بنیادی طور پر کامران خان کا ویژن تھا، جبکہ ملک ریاض نے صرف مالی بیک اپ دیا تھا—جو بعد میں ختم ہو گیا۔ یہ شراکت داری مختصر رہی، اور اب نکتہ اے آر وائی کے ساتھ نئی شکل میں جاری ہے۔

یہ شراکت داری ڈیجیٹل اور براڈکاسٹ میڈیا کے انضمام کی مثال ہے۔

نکتہ اب اے آر وائی کے وسائل (جیسے ٹی وی رسائی، اشتہارات) سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جبکہ کامران خان کو ایک محفوظ اور بڑا پلیٹ فارم ملا ہے۔

لوگ اسے مثبت دیکھ رہے ہیں، البتہ کچھ تنقید بھی ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے "انقلاب" کا دعویٰ ناکام ہوا اور واپس روایتی ٹی وی کی طرف لوٹنا پڑا۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔