درسگاہیں یا جرائم کے مراکز؟ ڈگریاں، دیواریں اور ٹوٹتے خواب ،تعلیمی اداروں میں بڑھتا ہوا نفسیاتی بحران
--- روما محمود---
کسی بھی معاشرے میں یونیورسٹی وہ مقدس مقام ہوتی ہے جہاں نسلوں کی آبیاری کی جاتی ہے، جہاں ذہنوں کو جلا بخشی جاتی ہے اور جہاں سے ملک کا مستقبل طلوع ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آج پاکستان کی کئی بڑی جامعات سے آنے والی خبریں دل دہلا دینے والی ہیں۔
جس جگہ سے علم و دانش کی خوشبو آنی چاہیے تھی، وہاں سے منشیات، تشدد اور ہراساں کیے جانے کے واقعات کی بو آ رہی ہے۔ کیا ہماری درسگاہیں واقعی جرائم کا اڈہ بنتی جا رہی ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس پر اب خاموش رہنا ممکن نہیں۔
جامعات میں بڑھتا ہوا منشیات کا استعمال ایک خاموش قاتل کی طرح ہماری نوجوان نسل کو چاٹ رہا ہے۔ "آئس" اور دیگر مہلک نشہ آور اشیاء کی دستیابی اب تعلیمی اداروں میں کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ ہاسٹلز جو طلبہ کے لیے جائے پناہ ہونے چاہیے تھے، وہاں اب منشیات فروشوں کے نیٹ ورک فعال ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض اوقات انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے یہ سب ہوتا ہے، مگر مصلحت یا ملی بھگت کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔
تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں کا مقصد نظریاتی تربیت اور قیادت سازی ہونا چاہیے تھا، لیکن کئی جگہوں پر یہ تنظیمیں مسلح جتھوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔
معمولی تکرار پر گولی چل جانا یا مخالف گروپ کے طالب علم کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانا اب روز کا معمول بنتا جا رہا ہے۔
جب تعلیم سے زیادہ اہمیت "طاقت کے اظہار" کو دی جانے لگے، تو قلم کی جگہ اسلحہ لے لیتا ہے۔
حالیہ چند برسوں میں مختلف جامعات سے سامنے آنے والے ہراساں کیے جانے کے اسکینڈلز نے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اساتذہ اور طالبات کے درمیان مقدس رشتے کی پامالی ہو یا ڈیجیٹل دور کی پیدا کردہ "ڈسپوزایبل کلچر" کی وہ بدصورتی جس میں اخلاقی حدود کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے—یہ سب اس ذہنی گراوٹ کی نشاندہی کرتے ہیں جو ہمارے تعلیمی ڈھانچے میں سرایت کر چکی ہے۔
وجوہات اور ذمہ داری
اس بگاڑ کی کئی وجوہات ہیں۔
انتظامیہ کی نااہلی، سیکیورٹی کے ناقص انتظامات اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی نہ کرنا۔
والدین سے دوری، والدین کی جانب سے صرف ڈگری اور نمبروں پر توجہ دینا، جبکہ بچوں کی اخلاقی نگرانی سے غافل رہنا۔
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال نے نوجوانوں کو ایک ایسی دنیا میں دھکیل دیا ہے جہاں اخلاقی اقدار کی کوئی اہمیت نہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری یونیورسٹیاں دوبارہ علم و امن کا گہوارہ بنیں، تو ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے۔
جامعات میں انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ منشیات فروشوں کا قلع قمع کیا جا سکے۔
اساتذہ کو صرف "لیکچرار" نہیں بلکہ "مربی" کا کردار ادا کرنا ہوگا جو طلبہ کی کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔
سب سے بڑھ کر، قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی طالب علم یا عہدیدار خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی درسگاہوں کو جرائم کے سائے سے نکال کر دوبارہ روشنی کی طرف لے جائیں، ورنہ یہ ڈگریاں صرف کاغذ کے ٹکڑے رہ جائیں گی اور معاشرہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔
آج کے دور میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ویڈیو سیکنڈز میں وائرل ہو جاتی ہے۔ جب کسی نوجوان کو عوامی جگہ پر، خاص طور پر ساتھیوں کے سامنے تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو وہ ذہنی دباؤ اسے "سوشل ڈیتھ" (معاشرتی موت) کا احساس دلاتا ہے۔
ایک ایسے معاشرے میں جہاں "لوگ کیا کہیں گے" کی اہمیت زندگی سے زیادہ ہو جائے، وہاں جذباتی طور پر حساس نوجوانوں کے لیے ایسے صدمات برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ہمارے تعلیمی ادارے بڑی بڑی عمارتیں اور مہنگی ڈگریاں تو دے رہے ہیں، لیکن طالب علموں کی ذہنی صحت (Mental Health) کے لیے کوئی ٹھوس نظام موجود نہیں ہے۔ اکثر جامعات میں کونسلنگ سینٹرز یا تو سرے سے موجود نہیں ہیں، اور اگر ہیں بھی تو وہاں تک رسائی کو "شرمندگی" سمجھا جاتا ہے۔
تعلقات میں عدم برداشت اور معمولی باتوں پر ایک دوسرے کی تذلیل کرنا اس "ڈسپوزایبل کلچر" کی عکاسی ہے جہاں انسانی جذبات کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت کی جگہ صرف مسابقت (Competition) لے لے، تو وہاں ہمدردی اور درگزر جیسے جذبات ختم ہونے لگتے ہیں۔
کسی بھی یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے ، جہاں ایک طالب علم نے عوامی سطح پر تذلیل کے بعد اپنی زندگی کا چراغ گل کر لیا، ہمیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خاموشی مجرمانہ حد تک خطرناک ہے۔
یہ محض ایک خودکشی نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کی اس سنگین ناکامی کا اعلان ہے جہاں ہم نوجوانوں کو "پیشہ ور" (Professional) تو بنا رہے ہیں، لیکن انہیں "انسان" کے طور پر جینا نہیں سکھا پا رہے۔
آج کے دور میں کسی بھی انسان کی عزتِ نفس کی پامالی صرف اس لمحے تک محدود نہیں رہتی۔
سمارٹ فونز کے کیمروں نے ہر طالب علم کو ایک 'رپورٹر' بنا دیا ہے، جو کسی کے دکھ یا شرمندگی کو 'کونٹینٹ' سمجھ کر وائرل کر دیتا ہے۔
اس واقعے میں بھی، تھپڑ کی گونج سے زیادہ اس کے ڈیجیٹل اثرات نے طالب علم کے ذہن پر ضرب لگائی ہوگی۔
جب تذلیل کی ویڈیو لاکھوں آنکھوں تک پہنچتی ہے، تو متاثرہ شخص کو اپنی دنیا سکڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
کیا ہماری جامعات نے کبھی طلبہ کو "ڈیجیٹل اخلاقیات" کا وہ سبق پڑھایا جو انہیں دوسروں کی نجی زندگی اور عزت کا احترام سکھا سکے؟
پاکستان کی اکثر جامعات میں کروڑوں روپے عمارتوں کی تزئین و آرائش پر تو خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن ایک پروفیشنل سائیکالوجسٹ یا کونسلر کی خدمات حاصل کرنا "فضول خرچی" سمجھا جاتا ہے۔
جہاں کونسلنگ کی سہولت موجود بھی ہے، وہاں طالب علم کا کونسلر کے پاس جانا ایک "پاگل پن" کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ سماجی داغ (Stigma) ہے جو نوجوانوں کو اندر ہی اندر گھٹنے پر مجبور کر دیتا ہے اور وہ کسی سے اپنے دل کا حال کہنے کے بجائے موت کو گلے لگا لیتے ہیں۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں تعلقات، اخلاقیات اور جذبات سب "ڈسپوزایبل" ہو چکے ہیں۔ معمولی باتوں پر ایک دوسرے کی تذلیل کرنا، سوشل میڈیا پر مہم چلانا اور کسی کو ذہنی اذیت دینا اب ایک عام رویہ بنتا جا رہا ہے۔
عدم برداشت کا یہ کلچر جب یونیورسٹیوں کے گیٹ سے اندر داخل ہوتا ہے، تو وہاں علم کی جگہ انا اور تشدد لے لیتی ہے۔
طلبہ میں "جذباتی ذہانت" (Emotional Intelligence) کی کمی انہیں انتہائی اقدامات کی طرف دھکیل رہی ہے۔
یونیورسٹی انتظامیہ اکثر ایسے واقعات کو "ذاتی معاملہ" قرار دے کر پلّہ جھاڑ لیتی ہے۔
کیا یونیورسٹی کا کام صرف فیس وصول کرنا اور ڈگری بانٹنا ہے؟
کیا ہاسٹلز اور کیمپس کے ماحول کو محفوظ بنانا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں؟ جب تک تعلیمی اداروں میں "اینٹی بلینگ" (Anti-Bullying) قوانین پر سختی سے عمل نہیں ہوگا اور طلبہ کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جائیں گے، ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔
یونیورسٹی کا ہر طالب علم ہم سے سوال کر رہا ہے کہ کیا اس کی زندگی اس کی ڈگری سے کم قیمتی تھی؟
وقت آ گیا ہے کہ ایچ ای سی (HEC) اور تمام جامعات "مینٹل ہیلتھ پروٹوکولز" کو لازمی قرار دیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں طالب علم فیل ہونے یا تذلیل ہونے پر خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔ ہمیں جی پی اے (GPA) سے زیادہ "جذباتی استحکام" کی فکر کرنی ہوگی۔
ورنہ یہ عالیشان عمارتیں صرف ڈگری یافتہ لاشیں ہی پیدا کرتی رہیں گی۔


Comments