بن  مانگی شفقت یا حدود کی پامالی؟شفقت کا لبادہ  ایک معاشرتی ناسور

 





---روما محمود---




پاکستانی معاشرت میں ’حیا‘ اور ’پردہ‘ صرف لباس تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک دوسرے کے ذاتی حصار (Personal Space) کا احترام کرنے کا نام بھی ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ایک خاص مائنڈ سیٹ پروان چڑھ چکا ہے جہاں مرد حضرات، کسی بھی جان پہچان کی خاتون کو اپنی 'ملکیت' یا 'چھوٹی بچی' سمجھتے ہوئے ان کے جسمانی حصار میں داخل ہونا اپنا حق سمجھتے ہیں۔




اکثر دیکھا گیا ہے کہ کسی محفل میں یا کام کی جگہ پر کوئی بزرگ یا ہم عمر مرد، بات کرتے ہوئے کسی خاتون کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیتا ہے یا سر تھپتھپانے لگتا ہے۔ اگرچہ وہ اسے 'دعائیہ انداز' کہتے ہیں، لیکن نفسیاتی طور پر یہ Power Dynamics کا کھیل ہے۔ یہ جتانے کی کوشش ہوتی ہے کہ "میں تم سے برتر ہوں" یا "تم میرے زیرِ سایہ ہو"۔

ترقی یافتہ معاشروں میں کسی کے قریب کھڑے ہونے کے لیے بھی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے، مگر ہمارے ہاں خواتین کی رضامندی کو ثانوی سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی خاتون اس عمل پر ناگواری کا اظہار کرے، تو اسے 'بدتمیز' یا 'زیادہ حساس' قرار دے کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر انسان کے گرد ایک غیر مرئی لکیر ہوتی ہے، جسے عبور کرنا بدتہذیبی کے زمرے میں آتا ہے۔اور وہ personal space کہلاتا ہے ۔

صنفِ نازک کی ذہنی کوفت
جب ایک غیر محرم یا غیر متعلقہ شخص کسی خاتون کو بلاوجہ چھوتا ہے، تو وہ خاتون اس وقت شدید دفاعی پوزیشن (Defensive Mode) میں آ جاتی ہے۔ وہ بات پر توجہ دینے کے بجائے اس ناگواری سے نکلنے کی راہ ڈھونڈتی ہے۔ یہ عمل خواتین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور انہیں عوامی مقامات پر غیر محفوظ محسوس کرواتا ہے۔


اسلامی تعلیمات میں بھی نظروں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ چھونے سے اجتناب کے واضح احکامات موجود ہیں۔ جب مذہب اور تہذیب دونوں ایک 'فاصلے' کا تقاضا کرتے ہیں، تو پھر اسے 'اپنائیت' کا لبادہ پہنا کر جائز قرار دینا منافقت کے سوا کچھ نہیں۔

عزت دینے کا مطلب ہاتھ لگانا نہیں، بلکہ احترام کے ساتھ فاصلہ برقرار رکھنا ہے۔ اگر آپ کسی خاتون کی ہمت افزائی کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے الفاظ کافی ہیں، آپ کے ہاتھ نہیں۔ خواتین کی خاموشی کو ان کی رضا مندی نہ سمجھیں، بلکہ اپنی حدود کو پہچانیں۔


​پاکستانی معاشرہ عجیب تضادات کا مجموعہ ہے۔ یہاں ایک طرف تو عورت کو 'گھر کی عزت' اور 'پردہ نشین' کہہ کر دیواروں میں مقید کرنے کی وکالت کی جاتی ہے، اور دوسری طرف وہی 'غیرت مند مرد' سرِ عام کسی خاتون کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر یا اس کے سر کو تھپتھپا کر اپنی نام نہاد شفقت کی پیاس بجھاتے نظر آتے ہیں۔

یہ وہ "ٹچ کلچر" ہے جسے ہم نے 'اپنائیت' اور 'بزرگی' کے نام پر جائز قرار دے رکھا ہے، حالانکہ یہ خالصتاً بدتہذیبی اور عورت کی خود مختاری پر حملہ ہے۔

​ہمارے ہاں بال سفید ہو جائیں تو مرد سمجھتا ہے کہ اب اسے ہر عورت کے سر پر ہاتھ رکھنے اور کندھا تھپتھپانے کا لائسنس مل گیا ہے۔ یہ کیسی بزرگی ہے جو عورت کے جسمانی حصار (Personal Space) کا احترام کرنا نہیں سکھاتی؟ کسی خاتون کے کندھے پر ہاتھ رکھنا اسے سہارا دینا نہیں بلکہ اسے یہ باور کروانا ہے کہ وہ کمزور ہے اور آپ اس پر حاوی ہیں۔ یاد رکھیے،

ہاتھ کا لمس اگر ناپسندیدہ ہو تو وہ شفقت نہیں، ہراسانی کا پہلا زینہ ہے۔


​جب بھی کسی مرد کو اس کی اس حرکت پر ٹوکا جائے، اس کا فوری دفاع یہ ہوتا ہے کہ "یہ تو میری بیٹیوں جیسی ہے"۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیٹی جیسا سمجھنے کے لیے اسے چھونا ضروری ہے؟

کیا احترام آنکھوں اور الفاظ سے نہیں جھلک سکتا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ جملہ محض ایک ڈھال ہے جس کے پیچھے چھپ کر مرد اپنی اس سچ کو چھپاتا ہے اس  ہے جو عورت کو محض ایک مادی شے (Object) سمجھتی ہے۔

​خواتین اکثر ایسے موقعوں پر محض اس لیے خاموش رہ جاتی ہیں کیونکہ وہ 'سین' کریٹ نہیں کرنا چاہتیں۔

وہ اپنے اندر شدید  کراہت محسوس کرتی ہیں، ان کا جی متلاتا ہے، وہ پیچھے ہٹتی ہیں، لیکن مرد اسے اپنی 'قبولیت' سمجھ کر مزید دلیر ہو جاتا ہے۔

ہم نے ایک ایسا دم گھٹنے والا معاشرہ بنا دیا ہے جہاں عورت اگر اپنا کندھا جھٹک دے تو اسے 'بدتہذیب' کہا جاتا ہے، لیکن وہ مرد جو بلا اجازت اسے چھو رہا ہے، وہ 'بااخلاق' کہلاتا ہے۔

​ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ عمل صریحاً بدنیتی پر مبنی ہے۔

اگر آپ کو واقعی دعا دینی ہے تو ہاتھ اٹھا کر دیں، سر پر رکھ کر نہیں۔ اگر آپ کو شاباش دینی ہے تو الفاظ کا چناؤ بہتر کریں، کندھے کو تھپتھپانا آپ کا حق نہیں ہے۔

یہ وہ چھوٹی چھوٹی رعایتیں ہیں جو آگے چل کر بڑے جرائم کی بنیاد بنتی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔