بلوچستان کے بارے میں غلط فہمی1959-1958 پاکستان ایران معاہدہ۔

 







-روما محمود--'





پاکستانی بلوچستان کا کوئی حصہ ایران کو "دیا" نہیں گیا ۔

یعنی پاکستان کے قیام (1947) کے بعد سے اب تک (2026) تک کوئی علاقائی حصہ ایران کو منتقل نہیں کیا گیا۔ یہ ایک عام غلط فہمی یا پروپیگنڈہ ہے جو بعض بلوچ قوم پرست حلقوں میں گردش کرتا ہے، جیسے زاہدان، میرجاوه یا دیگر علاقوں کا ذکر۔




تاریخی طور پر 19ویں صدی میں تقسیم ہوا تھا۔ برطانوی راج اور ایران (قاجار سلطنت) نے 1871-1872 میں گولڈسمڈ لائن (Goldsmid Line) کے ذریعے سرحد کا تعین کیا، جسے بعد میں 1895-1896 میں کچھ ترامیم کے ساتھ حتمی شکل دی گئی۔

اس لائن نے مغربی بلوچستان (جو آج ایران کا صوبہ سیستان و بلوچستان ہے) کو ایران کے حصے میں رکھا، جبکہ مشرقی حصہ برطانوی کنٹرول میں رہا (جو بعد میں پاکستان کا حصہ بنا)۔

یہ تقسیم پاکستان کے وجود میں آنے سے تقریباً 75-80 سال پہلے ہوئی تھی۔ پاکستان 1947 میں بنا، اور اس نے 1948 میں ریاست قلات سمیت بلوچستان کے علاقوں کو اپنا حصہ بنایا۔

1958-1959 میں پاکستان اور ایران نے مشترکہ معاہدے سے موجودہ سرحد کی دوبارہ تصدیق (re-demarcation) کی، لیکن اس میں کوئی نیا علاقہ ایران کو منتقل نہیں کیا گیا ۔ یہ صرف پرانی برطانوی-ایرانی لائن کی تصدیق تھی، جس میں معمولی ترامیم تھیں۔

عام دعوے اور حقیقت
بعض لوگ کہتے ہیں کہ زاہدان، میرجاوه یا چاغی کے کچھ حصے پاکستان سے ایران کو دیے گئے، لیکن یہ درست نہیں۔ یہ علاقے 1870 کی دہائی سے ہی ایران کے زیر انتظام رہے ہیں۔

پاکستان نے کبھی بھی اپنے بلوچستان کا کوئی حصہ ایران کو نہیں دیا۔ الٹا، ایران نے 1971-72 میں (بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد) پاکستان کے بلوچستان پر قبضے کی تجویز دی تھی اگر پاکستان مزید ٹوٹتا، لیکن یہ نافذ نہیں ہوا۔

گوادر کا معاملہ الگ ہے۔
گوادر 1958 میں پاکستان نے عمان سے خریدا (جو پہلے قلات کا حصہ تھا لیکن عمان کو دیا گیا تھا) — یہ ایران سے متعلق نہیں۔

کوئی بھی تاریخی دستاویز یا معاہدہ ایسا نہیں جس میں پاکستان نے بلوچستان کا کوئی حصہ ایران کو دیا ہو۔

تقسیم 19ویں صدی میں برطانوی اور ایرانی سلطنتوں کے درمیان ہوئی تھی، اور پاکستان نے صرف وہی علاقے ورثے میں لیے جو برطانوی انڈیا کے تحت تھے۔ آج کی ایران-

پاکستان سرحد تقریباً وہی ہے جو 1870 کی دہائی میں طے ہوئی تھی۔

سر فریڈرک جان گولڈسمتھ (Sir Frederic John Goldsmid) ایک برطانوی افسر اور ڈپلومیٹ تھے جنہوں نے 1870-1872 کے دوران  پرشو-بلوچ باؤنڈری کمیشن (Perso-Baloch Boundary Commission) کی سربراہی کی۔

1871 میں برطانوی انڈیا (جو خان قلات کی نمائندگی کر رہا تھا) اور قاجار ایران کے درمیان سرحد کے تعین پر اتفاق ہوا۔

1872 میں سرحدی سروے مکمل ہوا، لیکن زمین پر نشانات (pillars) لگانے میں تاخیر ہوئی۔

یہ لائن 1871-1872 میں طے پائی اور 24 ستمبر 1872 کو مکمل طور پر تسلیم کی گئی۔

بعد میں 1905 میں کچھ معمولی ترامیم اور تصدیق ہوئی۔

1958-1959 میں پاکستان اور ایران نے ایک معاہدے کے تحت سرحد کی دوبارہ مکمل تصدیق (re-demarcation) کی، زمین پر pillars لگائے اور نقشے بنائے — لیکن یہ نئی سرحد نہیں بلکہ پرانی لائن کی ہی حتمی شکل تھی۔

یہ لائن بلوچستان کو تقسیم کرتی ہے۔
مغربی بلوچستان (ایران کا صوبہ سیستان و بلوچستان) اور مشرقی بلوچستان (پاکستان کا صوبہ بلوچستان)۔

کچھ ذرائع (جیسے بلوچ قوم پرست بیانات) میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس لائن سے "ایک چوتھائی بلوچ علاقہ ایران کو دیا گیا" یا "میرجاوه، زاہدان وغیرہ پاکستان سے ایران منتقل ہوئے"، لیکن یہ درست نہیں۔ یہ علاقے 1870 کی دہائی سے ہی ایران کے زیر اثر یا کنٹرول میں تھے۔
برطانوی کمیشن نے موجودہ صورتحال کو تسلیم کیا، نہ کہ کوئی نیا علاقہ ایران کو "دیا"۔

پاکستان کے قیام (1947) کے بعد کوئی علاقہ ایران کو منتقل نہیں ہوا۔ البتہ 1958-59 کی re-demarcation میں کچھ جگہوں پر (جیسے میرجاوه کے قریب) معمولی ایڈجسٹمنٹس ہوئیں، جو پرانی لائن کو ہی درست کر رہی تھیں — کوئی بڑا علاقہ تبدیل نہیں ہوا۔

یہ لائن آج بھی ایران-پاکستان سرحد کی بنیاد ہے، جو تقریباً 909 کلومیٹر (565 میل) لمبی ہے، افغانستان کے ٹرائی پوائنٹ (Koh-i-Malik Siah) سے عرب سمندر (Gwatar Bay) تک۔


1958-1959 کا ایران-پاکستان سرحدی معاہدہ (جو اکثر 1958 کا معاہدہ یا 1959 کا فائنل پروٹوکول
کہلاتا ہے) پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد کی حتمی تصدیق اور زمین پر نشان زد کرنے (demarcation) کا ایک اہم دستاویزی عمل تھا۔

یہ گولڈ سمتھ لائن (1871-1872) کی بنیاد پر تھا، لیکن پاکستان کے قیام کے بعد اسے دوبارہ مکمل طور پر نقشہ جات اور pillars کے ساتھ تصدیق کیا گیا۔

معاہدے کی بنیادی تفصیلات

معاہدہ کی تاریخ: 6 فروری 1958 کو تہران میں ایران اور پاکستان نے ایک معاہدہ دستخط کیا جس کا نام Agreement on the Boundary between Iran and Pakistan تھا۔ اس میں پرانی برطانوی-ایرانی معاہدوں (1871، 1905 وغیرہ) کی بنیاد پر سرحد کی تصدیق کی گئی۔

معاہدے کا مقصد: سرحد کو واضح کرنا، نقشہ جات بنانا، اور زمین پر pillars لگانا تاکہ کوئی ابہام نہ رہے۔

یہ کوئی نیا علاقہ دینے یا لینے کا معاہدہ نہیں تھا بلکہ پرانی گولڈ سمتھ لائن کی دوبارہ مکمل تصدیق (re-demarcation اور confirmation) تھی۔
سرحدی کمیشن کا کام۔
 
ایران اور پاکستان نے مشترکہ کمیشن بنایا۔

  سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کرکے pillars لگائے گئے۔

B.P. 1 (Koh-i-Malik Siah کے قریب، افغانستان کے ٹرائی پوائنٹ سے) سے B.P. 256 (Gwatar Bay یا Kalij-e Gavater تک)۔
  - کام دو مراحل میں مکمل ہوا۔

    - پہلا مرحلہ: 22 فروری 1958 سے 10 مئی 1958۔

    - دوسرا مرحلہ: 1 اکتوبر 1958 سے 10 فروری 1959۔

فائنل پروٹوکول۔

8 دسمبر 1959 کو فائنل دستاویز پر دستخط ہوئے، جس میں تمام pillars کے coordinates (spherical اور grid)، بلندی، اور تفصیلی نقشے شامل تھے۔ کل 20 نقشے بنائے گئے۔

شمالی حصہ: 1 نقشہ (scale 1:253,440)۔
 
   مرکزی حصہ: 8 نقشے (scale 1:50,000)۔
 
جنوبی حصہ: 11 نقشے (scale 1:63,360)۔

سرحد کی لمبائی تقریباً 909 کلومیٹر (565 میل)، جو آج بھی وہی ہے۔

  یہ معاہدہ کوئی علاقہ منتقل کرنے کا نہیں تھا —

پاکستان نے بلوچستان کا کوئی حصہ ایران کو نہیں دیا۔ یہ صرف پرانی لائن (جو 1870 کی دہائی سے تھی) کی زمین پر نشان دہی اور جدید نقشوں کے ساتھ تصدیق تھی۔

بعض دعووں میں کہا جاتا ہے کہ "1959 میں علاقہ دیا گیا"، لیکن یہ غلط ہے۔ تاریخی دستاویزات (جیسے US State Department کی Limits in the Seas رپورٹ No. 167) واضح کرتی ہیں کہ یہ clarification اور demarcation تھا، نہ کہ نئی تقسیم۔

1963 میں کچھ ceremonial تبادلہ علاقوں کا ذکر ملتا ہے (جیسے Zulfikar Ali Bhutto کی تقریر میں)، لیکن یہ معمولی ایڈجسٹمنٹس تھیں جو 1958 کے معاہدے کے تحت تھیں، نہ کہ بڑی تبدیلی۔

یہ معاہدہ آج بھی ایران-پاکستان سرحد کی قانونی بنیاد ہے اور اس نے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات کو کم کیا۔

1963 میں ایران-پاکستان سرحدی معاملہ کا سب سے اہم واقعہ 15 جولائی 1963 کو ہوا، جب ذوالفقار علی بھٹو (اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ) نے قومی اسمبلی میں بیان دیا اور سرحد کے ceremonial transfer (رسمی تبادلہ علاقوں) کی تصدیق کی۔

کیا ہوا تھا 1963 میں؟

یہ 1958 کے معاہدے (6 فروری 1958 کو تہران میں دستخط) کا نتیجہ تھا، جس میں گولڈ سمتھ لائن کی بنیاد پر سرحد کی تصدیق اور demarcation (زمین پر pillars لگانا) ہوئی تھی۔

1958-1959 میں سرحدی کمیشن نے کام مکمل کیا، pillars لگائے، اور 8 دسمبر 1959 کو Final Protocol پر دستخط ہوئے (جس میں coordinates اور نقشے شامل تھے)۔

1963 میں یہ ceremonial act (رسمی تقریب) ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے معاہدے کے تحت کچھ علاقوں کا تبادلہ کیا۔
 
پاکستان نے ایران کو تقریباً 310 مربع میل (تقریباً 803 مربع کلومیٹر) علاقہ منتقل کیا۔

یہ علاقہ برطانوی انڈیا کے دور میں ایران کے خلاف قبضہ تھا، جس پر ایران ہمیشہ احتجاج کرتا رہا تھا (de facto برطانوی قبضہ)۔
 
بدلے میں ایران نے پاکستان کو 95 مربع میل (تقریباً 246 مربع کلومیٹر) علاقہ دیا، جو ایران کے قبضے میں تھا۔

پاکستان نے خالص طور پر 95 مربع میل علاقہ حاصل کیا (بھٹو کے بیان کے مطابق)۔ یہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں تھی بلکہ پرانی لائن کی حتمی تصدیق اور معمولی ایڈجسٹمنٹس تھیں۔

بھٹو کا بیان (24 جولائی 1963، قومی اسمبلی میں)
ظفر علی بھٹو نے واضح کیا۔

"یہ 1958 کا معاہدہ تھا، 1963 میں صرف ceremonial transfer ہوا۔"

- "پاکستان نے 3,000 مربع میل نہیں دیے، بلکہ 310 مربع میل (جو برطانوی قبضے میں تھے) ایران کو دیے، اور ایران سے 95 مربع میل حاصل کیے۔"

یہ علاقے بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں تھے، جیسے کچھ pillars کے قریب معمولی adjustments۔

1963 میں کوئی نیا معاہدہ نہیں ہوا ۔

یہ 1958-1959 کے معاہدے کی تکمیل اور رسمی تبادلہ تھا۔

پاکستان نے کوئی بڑا حصہ نہیں کھویا؛ الٹا خالص فائدہ (95 مربع میل) حاصل کیا۔

یہ واقعہ اکثر غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے کہ "پاکستان نے علاقہ دیا"، لیکن تاریخی دستاویزات (جیسے US State Department کی Limits in the Seas رپورٹ اور بھٹو کے بیان) سے واضح ہے کہ یہ clarification اور minor exchange تھا، نہ کہ بڑی تقسیم۔

1963 میں ایران-پاکستان سرحدی معاملہ کا اہم واقعہ 15 جولائی 1963 کو پیش آیا، جب کوئٹہ میں ایک رسمی تقریب (ceremonial act of transfer) ہوئی۔

اس تقریب میں دونوں ممالک نے 1958 کے معاہدے کے تحت سرحد کے کچھ علاقوں کا رسمی تبادلہ کیا۔

ذوالفقار علی بھٹو کا بیان (24 جولائی 1963، قومی اسمبلی میں)
ذوالفقار علی بھٹو (اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ) نے قومی اسمبلی میں تفصیلی بیان دیا جس میں انہوں نے واضح کیا۔

ایران-پاکستان سرحدی معاہدہ اصل میں 6 فروری 1958 کو تہران میں دستخط ہوا تھا۔

15 جولائی 1963 کو جو ہوا، وہ صرف رسمی تبادلہ علاقوں(ceremonial transfer) تھا، نہ کہ کوئی نیا معاہدہ یا بڑی تبدیلی۔

پاکستان نے ایران کو 310 مربع میل (تقریباً 803 مربع کلومیٹر) علاقہ منتقل کیا۔

یہ علاقہ برطانوی دور میں ایران کے خلاف قبضہ تھا (forcibly occupied by the British)، جس پر ایران ہمیشہ احتجاج کرتا رہا تھا۔

بدلے میں ایران نے پاکستان کو 95 مربع میل (تقریباً 246 مربع کلومیٹر) علاقہ دیا۔
پاکستان نے خالص طور پر 95 مربع میل علاقہ حاصل کیا ۔

بھٹو نے کہا: "یہ غلط ہے کہ پاکستان نے 3,000 مربع میل ایران کو دے دیے۔ یہ صرف پرانی لائن کی تصدیق اور معمولی ایڈجسٹمنٹس تھیں جو برطانوی قبضے کے خلاف تھیں۔"

1963 میں کوئی نیا علاقائی معاہدہ نہیں ہوا — یہ 1958-1959
کے معاہدے کی تکمیل اور رسمی تقریب تھی۔

یہ تبادلہ گولڈ سمتھ لائن (1871-72) کی بنیاد پر تھا، اور اس نے سرحد کو مزید واضح اور مستحکم کیا۔

پاکستان نے کوئی بڑا حصہ نہیں کھویا؛ الٹا معمولی فائدہ حاصل کیا۔

یہ واقعہ اکثر غلط فہمی کا شکار ہوتا ہے (جیسے "پاکستان نے علاقہ دے دیا")، لیکن بھٹو کے بیان اور تاریخی دستاویزات   سے واضح ہے کہ یہ clarification، confirmation اور minor exchange تھا۔

یہ تقریب دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی علامت تھی اور آج بھی سرحد کی قانونی بنیاد ہے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔