مارچ کا مہینہ اور انگاک یوگ ۔
--- روما محمود---
مارچ کا مہینہ ہمیشہ سے ہی فلکیاتی اور تاریخی لحاظ سے بحث کا مرکز رہا ہے، اور اس سال بھی ماہرینِ نجوم اس ماہ کے حوالے سے کچھ غیر معمولی پیشگوئیاں کر رہے ہیں۔ اس کی وجوہات محض وہم نہیں بلکہ ستاروں کی بدلتی ہوئی چال اور قدیم تاریخی واقعات کا تسلسل ہیں۔
ستاروں کی بڑی منتقلی (Planetary Shifts)۔
ماہرینِ نجوم کے مطابق، مارچ ۲۰۲۶ میں کئی بڑے سیارے اپنی برج (Zodiac Signs) تبدیل کر رہے ہیں۔ خاص طور پر زحل (Saturn) اور نیپچون (Neptune) کی حرکات کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ علمِ نجوم میں جب بڑے سیارے گھر بدلتے ہیں، تو یہ عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی ڈھانچوں میں بڑی تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں۔ اسے اکثر "بحران" سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ پرانا نظام ٹوٹ کر نیا بن رہا ہوتا ہے۔
"ایڈز آف مارچ" (Ides of March) کی تاریخی حقیقت
تاریخی طور پر ۱۵ مارچ کو "ایڈز آف مارچ" کہا جاتا ہے۔ یہ وہی دن ہے جب رومی حکمران جولیس سیزر کو قتل کیا گیا تھا۔
نجومیوں کا ماننا ہے کہ اس تاریخ کے گرد و نواح میں ایسی توانائیاں سرگرم ہوتی ہیں جو بغاوت، دھوکہ دہی اور اقتدار کی تبدیلی کا اشارہ دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نفسیاتی اور تاریخی طور پر اس مہینے کو خطرے سے منسوب کیا جاتا ہے۔
موسمِ بہار کا اعتدال (Spring Equinox)
۲۰ مارچ کے قریب جب دن اور رات برابر ہوتے ہیں، تو اسے فلکیاتی سال کا آغاز مانا جاتا ہے۔ نجومیوں کے نزدیک یہ وقت پرانی توانائیوں کے خاتمے اور نئی لہر کے آغاز کا ہوتا ہے۔ اس دوران زمین کی پلیٹوں میں ہلچل (زلزلے) یا موسموں میں اچانک شدت آنے کے امکانات ظاہر کیے جاتے ہیں، جسے "خطرناک" کہا جا رہا ہے۔
کئی ماہرین اس ماہ کو عالمی منڈیوں کے لیے بھی حساس قرار دے رہے ہیں۔ سیاروں کے مخصوص زاویے (Aspects) یہ بتاتے ہیں کہ مالیاتی اداروں یا کرنسی کی قدر میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے کسی بڑے دھچکے کا سبب بن سکتی ہے۔
نجومیوں کے نزدیک "خطرہ" دراصل تبدیلی کا دوسرا نام ہے۔ مارچ کا مہینہ جمود کے ٹوٹنے کا وقت ہے، چاہے وہ سیاسی ہو، معاشی ہو یا قدرتی۔ ان پیشگوئیوں کا مقصد خوف پھیلانا نہیں بلکہ احتیاط اور بدلتے حالات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوتا ہے۔
علم نجوم میں راہو (Rahu) اور مریخ (Mars) کا ملاپ یا ان کی مخصوص چال کو انتہائی طاقتور اور بعض اوقات "دھماکہ خیز" تسلیم کیا جاتا ہے۔
راہو کو ایک بے لگام سایہ دار سیارہ مانا جاتا ہے جو وہم، جنون اور اچانک تبدیلیوں کا حامل ہے، جبکہ مریخ آگ، ہمت، غصے اور جنگ کا استعارہ ہے۔
جب ان دونوں کی چال ایک خاص نہج پر آتی ہے، تو اسے نجومی اصطلاح میں "انگاک یوگ" (Angarak Yoga) کہا جاتا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ کے تناظر میں ان کی چال کے اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں۔
راہو اور مریخ کا ٹکراؤ اور نفسیاتی اثرات۔
راہو مریخ کی توانائی کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس چال کے دوران انسان کے اندر جلد بازی اور جارحیت (Aggression) بڑھ جاتی ہے۔ راہو چونکہ "دھند" پیدا کرتا ہے، اس لیے مریخ کی طاقت کا صحیح استعمال مشکل ہو جاتا ہے، جس سے غلط فیصلے ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
تاریخی طور پر جب بھی راہو اور مریخ ایک دوسرے کے مقابل یا قریب آتے ہیں، تو عالمی سطح پر درج ذیل صورتحال دیکھی جاتی ہے۔
بڑے ممالک کے درمیان کشیدگی یا سرحدی تنازعات میں شدت۔
آگ لگنے کے واقعات، تکنیکی خرابیاں یا قدرتی آفات (جیسے زلزلے) کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
حکومتوں کے لیے نظم و ضبط برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
راہو مریخ کی چال مالیاتی منڈیوں میں "اچانک" اتار چڑھاؤ لاتی ہے۔ یہ وقت سٹہ بازی (Speculation) کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ راہو دھوکہ دہی کا عنصر لاتا ہے، جبکہ مریخ فوری ایکشن پر اکساتا ہے۔ اس دوران مارکیٹ میں بڑی "لیکویڈیٹی وائڈ" (Liquidity Void) یا اچانک کریش کے امکانات بھی ظاہر کیے جاتے ہیں۔
زائچہ میں راہو اور مریخ کی پوزیشن (Anatomy of the Movement)
| سیارہ | خاصیت | اثر |
| مریخ (Mars) | آگ اور عمل | توانائی کو سمت دیتا ہے |
| راہو (Rahu) | سایہ اور ابہام | حد سے تجاوز کرواتا ہے |
| مجموعی اثر | انگاک یوگ | اشتعال انگیزی اور انقلابی تبدیلیاں |
نجومی مشورہ دیتے ہیں کہ اس چال کے دوران،
صبر کا دامن نہ چھوڑیں, کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے دو بار سوچیں۔
جذباتی فیصلوں سے گریز, خاص طور پر غصے کی حالت میں کوئی معاہدہ نہ کریں۔
تکنیکی احتیاط, اپنی گاڑی، بجلی کے آلات اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کا خاص خیال رکھیں۔

Comments