کرد کون ہیں اور کردستان کہاں واقع ہے
---روما محمود---
کرد (Kurds) مشرقِ وسطیٰ کی قدیم ترین اور اہم ترین اقوام میں سے ایک ہیں۔ یہ دنیا کی وہ سب سے بڑی نسلی گروہ کہی جاتی ہے جس کے پاس اپنا کوئی مستقل آزاد ملک (Sovereign State) نہیں ہے۔
کردوں کی تاریخ، ثقافت اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مشتمل تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے۔
جغرافیائی پھیلاؤ (کردستان)
کرد جس خطے میں آباد ہیں، اسے تاریخی طور پر "کردستان" کہا جاتا ہے۔ یہ خطہ کسی ایک ملک پر مشتمل نہیں بلکہ چار مختلف ممالک کے سرحدی علاقوں میں بٹا ہوا ہے۔
ترکی (شمالی کردستان)
یہاں کردوں کی سب سے بڑی آبادی (تقریباً 15 سے 20 ملین) مقیم ہے۔
ایران (مشرقی کردستان)
یہاں کرد دوسری بڑی اقلیت ہیں۔
عراق (جنوبی کردستان)
یہاں کردوں کی اپنی خود مختار حکومت (KRG) قائم ہے۔
شام (مغربی کردستان)
اسے 'روجاوا' (Rojava) بھی کہا جاتا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں کردوں نے کافی اثر و رسوخ حاصل کیا ہے۔
تاریخ اور پسِ منظر
کرد ایک ہند-آریائی (Indo-European) نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی زبان "کردی" ہے، جو فارسی سے قریب تر ہے۔
سلطنتِ عثمانیہ
پہلی جنگِ عظیم تک کردوں کا زیادہ تر علاقہ سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔
سیورے کا معاہدہ (Treaty of Sèvres - 1920)
جنگِ عظیم کے بعد اتحادیوں نے ایک آزاد کرد ریاست کا وعدہ کیا تھا، لیکن بعد میں بدلتے ہوئے حالات اور ترکی کے قیام کے بعد 1923 کے معاہدہ لوزان میں اس وعدے کو نظر انداز کر دیا گیا،
جس سے کرد چار مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر رہ گئے۔
زبان اور ثقافت
کردی زبان کے کئی لہجے ہیں، جن میں 'کرمانجی' (Kurmanji) اور 'سورانی' (Sorani) سب سے زیادہ بولے جاتے ہیں۔
نوروز (Newroz)
یہ کردوں کا سب سے بڑا ثقافتی تہوار ہے جو 21 مارچ کو موسمِ بہار کی آمد پر منایا جاتا ہے۔ یہ ان کی آزادی اور مزاحمت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔
*
مذہب۔
کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، تاہم ان میں شیعہ، علوی، اور ایک خاص قدیم مذہب 'ایزدی' (Yezidis) کے پیروکار بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
سیاسی صورتحال اور جدوجہد
کردوں کی تاریخ اپنی شناخت اور خود مختاری کی جدوجہد سے بھری ہوئی ہے۔
عراقی کردستان-
1991 کی خلیجی جنگ کے بعد عراق میں کردوں کو ایک نیم خود مختار حیثیت ملی۔ آج "کردستان ریجنل گورنمنٹ" (KRG) کے پاس اپنی پارلیمنٹ، فوج (پشمرگہ) اور جھنڈا موجود ہے۔
ترکی اور پی کے کے (PKK)- ترکی میں کردستان ورکرز پارٹی (PKK) طویل عرصے سے مسلح جدوجہد کر رہی ہے، جسے ترکی اور کئی مغربی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔
داعش کے خلاف جنگ-
شام اور عراق میں دہشت گرد تنظیم داعش (ISIS) کے خلاف جنگ میں کرد جنگجوؤں (خاص طور پر خواتین جنگجوؤں) نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر بہت پذیرائی ملی۔
تاریخِ اسلام کے عظیم فاتح اور بیت المقدس کو آزاد کروانے والے سلطان صلاح الدین ایوبی نسلی طور پر کرد تھے۔
ان کے علاوہ جدید ادب، موسیقی اور سیاست میں بھی کردوں نے نمایاں نام پیدا کیے ہیں۔
کرد ایک ایسی قوم ہیں جو اپنی سخت کوشی، پہاڑی علاقوں سے محبت اور اپنی الگ پہچان کو برقرار رکھنے کے لیے جانی جاتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ان کی سیاسی خود مختاری کا سوال آج بھی بین الاقوامی سطح پر ایک بڑا چیلنج ہے۔
کردوں کی سیاسی تنظیموں، ان کے انتظامی ڈھانچے اور ان کے فن و ثقافت کے بارے میں جانتے ہیں:
سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ (عراق اور شام)
کردوں کی سیاسی جدوجہد کے دو بڑے اور مختلف ماڈلز اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔
عراقی کردستان (KRG)
عراق کے شمال میں واقع کردستان ریجنل گورنمنٹ (KRG) کردوں کی سب سے کامیاب سیاسی اکائی ہے۔
حکمرانی: یہاں دو بڑے خاندانوں کی سیاسی جماعتیں، KDP (بارزانی خاندان) اور PUK (طالبانی خاندان) اقتدار میں ہیں۔
ان کا اپنا صدر، وزیرِ اعظم اور پارلیمنٹ ہے۔
ان کی اپنی باقاعدہ فوج ہے جسے 'پشمرگہ' کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے "وہ جو موت کا سامنا کرے"۔
یہ خطہ تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور اربیل (Erbil) ایک جدید شہر کے طور پر ابھرا ہے، جسے مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم کاروباری مرکز سمجھا جاتا ہے۔
شام کا 'روجاوا' (Rojava)
شام کی خانہ جنگی کے دوران کردوں نے ملک کے شمالی حصے میں اپنی ایک خود مختار انتظامیہ قائم کی، جسے 'روجاوا' کہا جاتا ہے۔
یہاں کا نظام 'ڈیموکریٹک کنفیڈرلزم' پر مبنی ہے، جو کہ مقامی کونسلوں اور خواتین کی برابری پر زور دیتا ہے۔
YPG اور YPJ: یہاں کے جنگجو گروپوں میں خواتین کا ایک علیحدہ عسکری ونگ YPJ کے نام سے موجود ہے، جس نے داعش کے خلاف جنگ میں عالمی شہرت حاصل کی۔
کرد دستکاری، فنون اور ثقافت
کرد اپنی بہادری کے ساتھ ساتھ اپنی نفیس دستکاری اور فنِ موسیقی کے لیے بھی مشہور ہیں۔
قالین بافی (Kurdish Carpets)
کردی قالین اپنی پائیداری اور گہرے رنگوں کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں۔
ان قالینوں پر بنے ہوئے نقش و نگار محض ڈیزائن نہیں ہوتے بلکہ یہ کرد قبائل کی تاریخ اور ان کے پہاڑی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ قالین عام طور پر اون (Wool) سے تیار کیے جاتے ہیں اور ان میں قدرتی رنگوں (پودوں اور جڑی بوٹیوں) کا استعمال ہوتا ہے۔
ان کے ڈیزائن میں جیومیٹریکل اشکال اور پھولوں کا امتزاج ہوتا ہے۔
موسیقی اور 'دینگ بیج' (Dengbêj)
کردی ثقافت میں موسیقی روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ 'دینگ بیج' ان روایتی گلوکاروں کو کہا جاتا ہے جو بغیر کسی ساز کے، یا بہت معمولی ساز کے ساتھ، کردستان کی لوک داستانیں، جنگی قصے اور عشقیہ داستانیں سناتے ہیں۔
'تنبور' (Tembûr) اور 'دھول و زرنا' ان کے روایتی موسیقی کے آلات ہیں۔
کردی مرد و خواتین کے لباس انتہائی رنگین اور پروقار ہوتے ہیں۔
خواتین کا پہناوا لمبی قمیضیں، چمکدار واسکٹ اور سر پر کڑھائی والے اسکارف۔
مرد ڈھیلی ڈھالی پینٹ (Ranak) اور اس کے ساتھ کمر پر بندھا ہوا ایک چوڑا پٹکا (Pshpt) پہنتے ہیں ان کی یہ پہچان ہے۔
کرد قوم کی یہ دونوں جہتیں ۔
ایک طرف ان کی سیاسی و عسکری قوت اور دوسری طرف ان کا صدیوں پرانا ثقافتی ورثہ ،انہیں دنیا کی منفرد ترین اقوام میں شامل کرتی ہیں۔
مسعود بارزانی اور جلال طالبانی جدید کرد تاریخ کے وہ دو معمار ہیں جن کی زندگی کی کہانی عراقی کردستان کی آزادی، خانہ جنگی اور پھر موجودہ خود مختاری کے گرد گھومتی ہے۔
ان دونوں رہنماؤں نے نہ صرف کردوں کی قیادت کی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
ان دونوں شخصیات کا تقابلی جائزہ درج ذیل ہے۔
مسعود بارزانی (Masoud Barzani)
مسعود بارزانی کو کردوں کی روایتی اور قوم پرست سیاست کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔
وہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (KDP) کے سربراہ ہیں۔ یہ جماعت ان کے والد، عظیم کرد رہنما ملا مصطفیٰ بارزانی نے قائم کی تھی۔
ان کی سیاست کا مرکز 'کرد قوم پرستی' اور ایک آزاد کرد ریاست کا خواب رہا ہے۔ وہ قدامت پسند قبائلی ڈھانچے اور 'پشمرگہ' (کرد فوج) کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں۔
وہ 2005 سے 2017 تک عراقی کردستان کے پہلے صدر رہے۔
2017 میں انہوں نے عراقی کردستان کی مکمل آزادی کے لیے ریفرنڈم کروایا۔ اگرچہ اسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا، لیکن اسے ان کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا اور جرات مندانہ فیصلہ مانا جاتا ہے۔
جلال طالبانی (Jalal Talabani)
جلال طالبانی، جنہیں کرد پیار سے "مام جلال" (چچا جلال) کہتے تھے، ایک ماہر سفارت کار اور زیرک سیاست دان تھے۔
انہوں نے 1975 میں پیٹریاٹک یونین آف کردستان (PUK) کی بنیاد رکھی۔ یہ جماعت نظریاتی طور پر بائیں بازو (Socialist) کے قریب تھی اور جدید شہری متوسط طبقے میں زیادہ مقبول ہوئی۔
وہ ایک وفاقی عراق کے حامی تھے جہاں کردوں کو مکمل حقوق حاصل ہوں۔ وہ کردوں اور عربوں کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتے تھے۔
وہ 2005 سے 2014 تک عراق کے پہلے غیر عرب صدر رہے۔ یہ عہدہ ان کی سیاسی بصیرت اور تمام عراقی گروہوں (شیعہ، سنی، کرد) میں ان کی قبولیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
ان کا انتقال 2017 میں ہوا، جس سے کردستان کی سیاست میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا۔
دوستی، دشمنی اور اشتراکِ عمل
ان دونوں رہنماؤں کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، جسے ہم تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
رقابت اور خانہ جنگی (1994-1998)۔ سیاسی اثر و رسوخ اور وسائل کی تقسیم پر KDP اور PUK کے درمیان خونریز خانہ جنگی ہوئی، جس میں ہزاروں کرد مارے گئے۔ اس دور میں کردستان عملی طور پر دو حصوں (اربیل اور سلیمانیہ) میں بٹ گیا۔
واشنگٹن معاہدہ اور امن 1998 میں امریکہ کی ثالثی میں دونوں رہنماؤں نے ہاتھ ملایا اور مستقبل میں مل کر چلنے کا عہد کیا۔
اسٹریٹجک الائنس 2003 کے بعد کے حالات صدام حسین کے خاتمے کے بعد، بارزانی اور طالبانی نے ایک "اسٹریٹجک معاہدہ" کیا جس کے تحت یہ طے پایا کہ جلال طالبانی بغداد میں عراق کے صدر بنیں گے اور مسعود بارزانی کردستان کے صدر رہیں گے۔
اس اشتراک نے عراقی کردستان کو وہ ترقی اور استحکام دیا جو آج ہمیں نظر آتا ہے۔
اگر مسعود بارزانی کردوں کی مزاحمت اور آزادی کے خواب کی علامت ہیں، تو جلال طالبانی کردستان کی سفارت کاری اور وفاقی عراق میں ان کی پہچان کا نام ہیں۔
آج بھی کردستان کی سیاست ان دونوں کے قائم کردہ نقشِ قدم پر چل رہی ہے۔

Comments