یمن کا بحران ، حوثی تحریک، تقسیم شدہ معیشت اور علاقائی جیو پولیٹکس

 


---روما محمود---



یمن کی حوثی تحریک، جسے باضابطہ طور پر 'انصار اللہ' کہا جاتا ہے، اس وقت مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عسکری منظرنامے میں ایک اہم ترین کھلاڑی بن کر ابھری ہے۔



  حوثی تحریک کی بنیاد ۱۹۹۰ء کی دہائی میں حسین بدر الدین الحوثی نے رکھی تھی۔

ان کا تعلق شیعہ اسلام کی زیدی شاخ سے ہے، جو یمن کی کل آبادی کا تقریباً ۳۵ فیصد ہیں۔ یہ تحریک ابتدا میں زیدی ثقافت اور مذہبی شناخت کے تحفظ کے لیے شروع ہوئی تھی۔

: ۲۰۰۴ء میں یمنی حکومت کے خلاف پہلی مسلح بغاوت کی گئی۔ ۲۰۱۴ء کے آخر میں انہوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر کے صدر منصور ہادی کی حکومت کو بے دخل کر دیا۔

حوثی محض ایک گوریلا گروپ نہیں رہے بلکہ اب ایک منظم فوج کی طرح کام کرتے ہیں۔


ان کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور جدید خودکش ڈرونز (جیسے صماد اور قاصف) موجود ہیں۔

بحیرہ احمر (Red Sea) میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے ان کے پاس اینٹی شپ میزائل اور بارود سے بھری کشتیاں موجود ہیں۔

یمن کے گنجان آباد شمالی علاقے، بشمول صنعاء اور اہم بندرگاہ الحدیدہ، ان کے کنٹرول میں ہیں۔

حالیہ عرصے میں حوثیوں نے عالمی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔


غزہ کی صورتحال کے ردعمل میں حوثیوں نے اسرائیل کی جانب جانے والے یا اسرائیل سے وابستہ بحری جہازوں کو بحیرہ احمر میں نشانہ بنانا شروع کیا۔

ان حملوں کی وجہ سے دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں کو اپنے راستے تبدیل کرنے پڑے، جس سے عالمی معیشت پر اثر پڑا۔

امریکہ اور برطانیہ نے حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے یمن میں ان کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔

  حوثیوں کو ایران کے 'مزاحمتی بلاک' (Axis of Resistance) کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ وہ مکمل طور پر ایران کے تابع نہیں ہیں، لیکن سیاسی، نظریاتی اور عسکری طور پر ایران ان کا بڑا حلیف ہے۔ سعودی عرب اور مغربی ممالک ان پر ایران سے ہتھیار حاصل کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

حوثی اس وقت یمن کی ایک ایسی حقیقت بن چکے ہیں جنہیں نظر انداز کر کے خطے میں امن قائم کرنا مشکل ہے۔

وہ اب صرف ایک داخلی گروہ نہیں بلکہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں اور جغرافیائی سیاست پر اثر انداز ہونے والی قوت ہیں۔

حوثیوں کے عسکری ڈھانچے اور یمن کے سیاسی منظرنامے میں ان کی پوزیشن کو سمجھنے کے لیے درج ذیل اہم نکات ملاحظہ کریں۔

حوثیوں کی طاقت کا راز ان کے ہائبرڈ (مخلوط) جنگی ماڈل میں ہے۔

  تحریک کی قیادت اب عبدالمالک الحوثی کے پاس ہے، جنہیں ان کے پیروکار ایک مذہبی اور سیاسی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ عسکری فیصلے ایک مرکزی کونسل کرتی ہے جو "جہادی کونسل" کہلاتی ہے۔

انہوں نے یمن کی سابقہ باقاعدہ فوج کے بڑے حصے (خاص طور پر علی عبداللہ صالح کے دور کے ریپبلکن گارڈز) کو اپنے اندر ضم کر لیا ہے، جس سے انہیں ٹینکوں، بھاری توپ خانے اور انٹیلیجنس نیٹ ورک تک رسائی ملی۔

حوثی مقامی طور پر ڈرونز اور میزائلوں کی اسمبلنگ میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔ وہ خاص طور پر 'غیر روایتی ہتھیاروں' (جیسے سمندری بارودی سرنگیں اور دور سے کنٹرول ہونے والی کشتیاں) کے استعمال میں بہت ماہر سمجھے جاتے ہیں۔

یمن میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے حوثیوں کی حیثیت کلیدی ہے۔

  اب عالمی طاقتیں (بشمول امریکہ اور اقوامِ متحدہ) حوثیوں کو صرف ایک باغی گروہ نہیں بلکہ ایک "سیاسی حقیقت" کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ان کے بغیر کسی بھی مستقل امن معاہدے پر عملدرآمد ناممکن ہے۔

حالیہ سالوں میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست بات چیت میں تیزی آئی ہے۔ سعودی عرب اب یمن سے ایک باعزت ایگزٹ (نکلنا) چاہتا ہے، جس کے لیے حوثیوں کی جانب سے سرحدوں کی حفاظت کی ضمانت ضروری ہے۔

سب سے بڑی رکاوٹ یمن کی صدارتی کونسل اور حوثیوں کے درمیان طاقت کی تقسیم کا فارمولا ہے۔ حوثی پورے یمن کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ جنوبی یمن کے علیحدگی پسند اپنی الگ ریاست چاہتے ہیں۔


۲۰۲۶ء کے آغاز تک کی صورتحال کے مطابق، حوثی اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر چکے ہیں۔

حوثیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ باب المندب جیسی اہم گزرگاہ کو بلاک کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس سے ان کی عالمی سطح پر "بارگیننگ پاور" (سودے بازی کی طاقت) بڑھ گئی ہے۔

عسکری طور پر مضبوط ہونے کے باوجود، حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں معاشی حالات ابتر ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور بندرگاہوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر تنازع امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

حوثیوں کا عروج مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہا ہے۔ اب وہ صرف یمن تک محدود نہیں رہے بلکہ علاقائی سیکیورٹی آرکیٹیکچر کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں، جن کا اثر اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک محسوس کیا جاتا ہے۔

حوثیوں کے پاس موجود ہتھیاروں اور ان کی تکنیکی صلاحیتوں کا ذکر کیا جائے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک گوریلا گروپ نے اتنی تیزی سے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کیسے حاصل کی۔

ان کے عسکری نظام کے چند اہم پہلو یہ ہیں۔

۱. میزائل ٹیکنالوجی (Missile Arsenal)
حوثیوں کے پاس مختلف اقسام کے بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہیں۔

برکان (Burkan) سیریز: یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ۱۰۰۰ کلومیٹر سے زائد فاصلے پر موجود اہداف (جیسے ریاض یا ابوظہبی) کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

قدس (Quds) کروز میزائل: یہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل ہیں جو نیچی پرواز کرتے ہیں تاکہ ریڈار کی نظر سے بچ سکیں۔

بحری میزائل (Anti-Ship Missiles): حال ہی میں انہوں نے 'المندب' اور 'صیاد' جیسے میزائلوں کا استعمال کیا ہے جو بحیرہ احمر میں چلتے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

۲. ڈرون پروگرام (UAVs)
حوثیوں کی سب سے بڑی طاقت ان کے سستے مگر مؤثر ڈرونز ہیں۔

  قاصف (Qasef-2K): یہ چھوٹے ڈرونز ہیں جو ہدف کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیتے ہیں۔

صماد (Sammad) سیریز: 'صماد-۳' جیسے ڈرونز کی رینج تقریباً ۱۵۰۰ کلومیٹر ہے، جو دور دراز کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

۳. بحری بارودی سرنگیں اور خودکار کشتیاں

انہوں نے سمندری جنگ میں 'شارک-۳۲' جیسی ریموٹ کنٹرول کشتیاں متعارف کروائی ہیں، جو بارود سے بھری ہوتی ہیں اور بڑے بحری جہازوں سے ٹکرا کر انہیں شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔

یمن کا انسانی بحران (Humanitarian Aspect)
جنگ اور عسکری طاقت کے اس کھیل کے درمیان یمن کا عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

  اقوامِ متحدہ کے مطابق، یمن اس وقت دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک کا شکار ہے۔

خوراک کی کمی، ملک کی ۸۰ فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، اور لاکھوں بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

  بنیادی ڈھانچہ، ہسپتال، اسکول اور پانی کے نظام جنگ کی وجہ سے تقریباً تباہ ہو چکے ہیں۔

حوثیوں کا موقف ہے کہ ان کی عسکری کارروائیاں "قومی دفاع" اور "فلسطینیوں کی حمایت" کے لیے ہیں، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس سے یمنی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

حوثیوں کے ہتھیاروں کی سپلائی لائنز اور امن کی تازہ ترین کوششوں کے بارے میں صورتحال کچھ یوں ہے۔

۱. ہتھیاروں کی سپلائی اور رسد کے راستے
عالمی ماہرین اور انٹیلیجنس رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی عسکری قوت کے پیچھے دو بڑے عوامل ہیں۔

  ایران کا مبینہ تعاون: اگرچہ ایران باضابطہ طور پر ہتھیاروں کی فراہمی کی تردید کرتا ہے، لیکن امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کا دعویٰ ہے کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی ایرانی ڈیزائن (جیسے 'شاہد' ڈرونز) سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ سامان اکثر بحیرہ عرب کے ذریعے چھوٹی کشتیوں میں اسمگل ہو کر یمن کی غیر محفوظ ساحلی پٹی تک پہنچتا ہے۔

مقامی مینوفیکچرنگ اور انجینئرنگ: حوثیوں نے یمنی فوج کے پرانے ذخائر کو اپ گریڈ کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت دکھائی ہے۔ انہوں نے کئی میزائلوں کو گراؤنڈ ٹو ایئر (زمین سے فضا) سے گراؤنڈ ٹو گراؤنڈ (زمین سے زمین) میں تبدیل کیا ہے۔ اب وہ بہت سے پرزے 'تھری ڈی پرنٹنگ' اور اسمگل شدہ الیکٹرانکس کے ذریعے مقامی طور پر جوڑ کر ڈرونز تیار کر رہے ہیں۔

۲. امن کی تازہ ترین کوششیں (۲۰۲۵-۲۰۲۶)
یمن میں امن کے حوالے سے حالیہ مہینوں میں کچھ اہم پیش رفت ہوئی ہے، مگر چیلنجز اب بھی برقرار ہیں۔


سعودی-ایرانی تعلقات کا اثر۔ چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی نے یمن میں جنگ بندی کی فضا پیدا کی ہے۔ سعودی عرب اب "یمنائزیشن" کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، یعنی وہ چاہتا ہے کہ یمن کے داخلی فریق خود آپس میں فیصلہ کریں۔

عمانی ثالثی۔ سلطنتِ عمان اس وقت حوثیوں اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک اہم پُل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ مسقط میں ہونے والے مذاکرات میں قیدیوں کے تبادلے اور صنعاء ایئرپورٹ کو مکمل طور پر کھولنے جیسے اقدامات پر بات ہو رہی ہے۔

بحیرہ احمر کا تنازع۔ امن کی کوششوں کو سب سے بڑا دھچکا بحیرہ احمر میں ہونے والے حملوں سے لگا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کا موقف ہے کہ جب تک حوثی بین الاقوامی جہاز رانی پر حملے بند نہیں کرتے، سیاسی مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

۳. مستقبل کا نقشہ
مستقبل قریب میں یمن کے لیے دو ممکنہ راستے نظر آتے ہیں۔

  وفاقی ڈھانچہ، ایک ایسا سیاسی سمجھوتہ جہاں حوثی شمالی یمن میں اپنی خود مختاری برقرار رکھیں جبکہ ایک کمزور مرکزی حکومت کے تحت پورے ملک کو متحد رکھا جائے۔
مستقل تقسیم، اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو یمن عملاً دو حصوں (شمالی یمن تحتِ حوثی اور جنوبی یمن تحتِ صدارتی کونسل) میں تقسیم رہ سکتا ہے، جو خطے کے لیے ایک طویل المدتی خطرہ ہوگا۔

حوثی اس وقت اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ خطے میں کسی بھی بڑے فیصلے کو اپنی مرضی کے بغیر مکمل نہیں ہونے دیتے۔

حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں (جیسے صنعاء اور الحدیدہ) میں وہ اپنی حکومت اور جنگی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ایک پیچیدہ مگر منظم معاشی ماڈل استعمال کرتے ہیں۔

ان کی معاشی حکمتِ عملی کے اہم ستون درج ذیل ہیں۔

۱. ٹیکس اور زکوٰۃ کا نظام
حوثیوں نے ایک بہت ہی سخت ٹیکس وصولی کا نظام قائم کیا ہے۔

  خمس (Khums)۔ انہوں نے ایک قانون پاس کیا ہے جس کے تحت قدرتی وسائل، معدنیات اور منافع کا ۲۰ فیصد حصہ (خمس) مخصوص خاندانوں اور ہاشمی مہمات کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔

کارپوریٹ ٹیکس۔ بڑے تاجروں، ٹیلی کام کمپنیوں اور بینکوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے گئے ہیں۔ جو کمپنیاں ادائیگی نہیں کرتیں، ان کے انتظامی کنٹرول میں مداخلت کی جاتی ہے۔

۲. تیل اور ایندھن کی بلیک مارکیٹ

الحدیدہ بندرگاہ۔ یہ بندرگاہ حوثیوں کے لیے معاشی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں سے آنے والے ایندھن اور تجارتی سامان پر بھاری کسٹم ڈیوٹی وصول کی جاتی ہے۔

ایندھن کا بحران۔ اکثر علاقوں میں ایندھن کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اسے بلیک مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے، جس سے حاصل ہونے والی رقم براہِ راست عسکری فنڈز میں جاتی ہے۔
۳. متوازی کرنسی اور بینکنگ نظام
یمن اس وقت "کرنسی کی جنگ" کا شکار ہے۔

حوثیوں نے اپنے علاقوں میں نئی چھپنے والی یمنی ریال کی کرنسی پر پابندی لگا رکھی ہے اور وہ صرف پرانے نوٹوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے صنعاء اور عدن (حکومتی علاقہ) کے درمیان کرنسی کی قدر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

انہوں نے صنعاء میں موجود سینٹرل بینک پر قبضہ کر کے مقامی بینکوں کے نظام کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔

۴. انسانی امداد کا کنٹرول
عالمی اداروں (جیسے ورلڈ فوڈ پروگرام) نے کئی بار یہ تشویش ظاہر کی ہے کہ حوثی انتظامیہ انسانی بنیادوں پر آنے والی امداد کو اپنے جنگجوؤں کے لیے استعمال کرتی ہے یا اسے مارکیٹ میں فروخت کر کے فنڈز جمع کرتی ہے۔

۵. جنگی معیشت (War Economy)
حوثیوں کی معیشت اب مکمل طور پر "جنگی معیشت" بن چکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ۔

زیادہ تر بجٹ تعلیم یا صحت کے بجائے دفاع اور پراپیگنڈا پر خرچ ہوتا ہے۔

مقامی لوگوں کو روزگار کے بجائے "جہاد" (بھرتی) کی طرف راغب کیا جاتا ہے تاکہ انہیں تنخواہ مل سکے۔

حوثیوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ایک طویل عرصے تک "احتجاجی تحریک" کے طور پر تو چل سکتے ہیں، لیکن ایک ریاست کے طور پر معیشت کو سنبھالنا اور کروڑوں لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ل

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔