پاکستانی معاشرے کی نئی جہت احسان فراموشی

 





---روما محمود---






احسان فراموشی ایک ایسا اخلاقی رویہ ہے جو کسی فرد کی ذات سے شروع ہو کر پورے معاشرے کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں، جہاں رشتوں کی بنیادیں خلوص اور مروت پر رکھی گئی تھیں، وہاں اب یہ مرض ایک وبائی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں "محسن کشی" یا احسان فراموشی کی کئی صورتیں نظر آتی ہیں، جن کا براہِ راست اثر ہماری سماجی ہم آہنگی پر پڑ رہا ہے۔




آج کے دور میں انسانی تعلقات اکثر "استعمال اور پھینک دو" (Use and Throw) کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ جب تک کسی سے کام نکلوانا ہو، اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے، لیکن جیسے ہی مقصد پورا ہوتا ہے، اس شخص کی قربانیاں اور تعاون پسِ پشت ڈال دیے جاتے ہیں۔

یہ رویہ خاص طور پر سیاست، کاروباری اور پیشہ ورانہ تعلقات میں بہت واضح ہے۔

ہمارے معاشرے کی اصل طاقت "مشترکہ خاندانی نظام" تھا، جہاں ایک دوسرے کا خیال رکھنا فرض سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب والدین کی زندگی بھر کی محنت اور قربانیوں کو اولاد اکثر یہ کہہ کر نظر انداز کر دیتی ہے کہ "یہ تو آپ کا فرض تھا"۔ یہ جملہ دراصل اس احسان فراموشی کی بدترین شکل ہے جو رشتوں کے تقدس کو پامال کر دیتی ہے۔

ڈیجیٹل دور نے ہمیں "لائکس" اور "شیئرز" کی دوڑ میں تو لگا دیا، مگر حقیقی شکر گزاری سے دور کر دیا۔

لوگ دوسروں کی مدد لے کر اسے اپنی قابلیت کا نام دے دیتے ہیں اور اس محسن کا تذکرہ تک کرنا گوارا نہیں کرتے جس نے مشکل وقت میں انگلی تھام کر چلنا سکھایا تھا۔

جب احسان فراموشی عام ہو جاتی ہے، تو اس کے کچھ سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

  لوگ دوسروں کی مدد کرنے سے کترانے لگتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ بدلے میں صلے کے بجائے ناقدری ملے گی۔
مخلص لوگ ٹوٹ جاتے ہیں اور معاشرے میں تنہائی اور بیگانگی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔

مذہبی اور اخلاقی نقطہ نظر سے بھی، شکر گزاری برکت کا باعث ہے، جبکہ ناشکری زوال کی علامت۔

احسان فراموشی صرف ایک لفظ نہیں، بلکہ ایک ایسی خاموش دیمک ہے جو معاشرے کی مروت اور لحاظ کو چاٹ رہی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت میں "شکریہ" اور "اعترافِ خدمت" کو دوبارہ شامل کرنا ہوگا، ورنہ ہم مادی طور پر تو شاید ترقی کر جائیں، مگر انسانیت کے ترازو میں ہمارا وزن ہلکا ہی رہے گا۔

روزمرہ زندگی میں احسان فراموشی اب صرف بڑے واقعات تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ہمارے صبح و شام کے معمولات اور چھوٹے چھوٹے سماجی رویوں میں سرایت کر چکی ہے۔

اگر ہم اپنے اردگرد غور کریں تو اس کی چند جیتی جاگتی مثالیں ہمیں روزانہ نظر آتی ہیں۔

جب کسی کو نوکری، تبادلے یا کسی سرکاری دفتر میں کام کی ضرورت ہوتی ہے، تو وہ اپنے "محسن" کے گھر کے چکر لگاتا ہے، خوشامد کرتا ہے اور عاجزی کا پیکر بن جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی آرڈر ہاتھ میں آتا ہے یا کام نکل جاتا ہے، وہی شخص اپنے اسی محسن کا فون اٹھانا چھوڑ دیتا ہے یا اسے پہچاننے سے بھی انکاری ہو جاتا ہے۔

یہ "موسمی دوستی" احسان فراموشی کی بدترین شکل ہے۔

پاکستانی گھرانوں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو ملازم برسوں سے گھر کی خدمت کر رہا ہوتا ہے،  وہ ہی گھر میں چوریاں کرواتا ہے ۔

دھونس اور دھمکیاں دینا شروع کر دیتا ہے ۔
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے والا حساب کتاب ہو جاتا ہے ۔

تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان
طلبہ کی زندگی میں اس کی مثال یوں ملتی ہے کہ  جب کوئی دوست اسکے پیپر کی چیٹنگ کرتا ہے  یا جب کوئی دوست کسی دوسرے سے نوٹس لیتا ہے، اسے پڑھائی میں مدد دیتا ہے یا اسائنمنٹ بنانے میں ساتھ دیتا ہے، تو کامیابی کے بعد اکثر وہ دوست اس کا کریڈٹ خود لینے کی کوشش کرتا ہے اور اس ساتھی کا ذکر تک نہیں کرتا جس نے راتیں جاگ کر اس کی مدد کی تھی۔ یہی حال دفاتر (Offices) کا ہے جہاں جونیئرز اپنے سینئرز سے کام سیکھتے ہیں اور ماہر بنتے ہی ان کی جڑیں کاٹنے لگتے ہیں۔

آج کل ہم فیس بک اور انسٹاگرام پر تو "شکریہ" کے لمبے چوڑے سٹیٹس لگاتے ہیں، لیکن حقیقت میں اس شخص کے سامنے بیٹھ کر دو کلماتِ تشکر ادا کرنا ہمیں بوجھ لگتا ہے جس نے عملی طور پر ہماری زندگی آسان بنائی ہوتی ہے۔ ہم ڈیجیٹل دنیا میں تو "احسان مند" نظر آتے ہیں، مگر حقیقی زندگی کے رویوں میں وہی روکھا پن برقرار رہتا ہے۔

جب روزمرہ زندگی میں اس طرح کی مثالیں عام ہوتی ہیں، تو معاشرے میں "خیرِ سگالی" کا جذبہ دم توڑ دیتا ہے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ
"اگر میں کسی کے کام آؤں گا بھی، تو کل کو یہ مجھے پہچانے گا نہیں، تو میں کیوں اپنی توانائی ضائع کروں؟"

یہ سوچ دراصل اس خوبصورت معاشرے کا قتل ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں بے غرض شریک ہوتے تھے۔

احسان کی واپسی ہمیشہ پیسوں یا مادی چیزوں سے نہیں ہوتی، بلکہ "اعتراف" اور "لحاظ" سے ہوتی ہے۔ اگر ہم صرف اتنا یاد رکھیں کہ مشکل وقت میں کس نے ہمارا بوجھ بانٹا تھا، تو ہمارا معاشرہ دوبارہ ایک پرامن  اکائی بن سکتا ہے۔

بات جب روزمرہ زندگی کے تلخ رویوں کی ہو، تو احسان فراموشی صرف خاموشی نہیں بلکہ ایک ذہنی کج روی بن چکی ہے۔ پاکستانی معاشرے کی رگوں میں دوڑتے چند ایسے رویے جو واقعی روح کو جھنجھوڑ دیتے ہیں،

"استحقاق" کا جھوٹا لبادہ (The Sense of Entitlement)
آج کل ایک نہایت تلخ رویہ یہ پروان چڑھ رہا ہے کہ جب کوئی آپ کے ساتھ بھلائی کرتا ہے، تو آپ اسے اس کا "فرض" سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر کوئی دوست آپ کو مشکل وقت میں مالی مدد دیتا ہے یا کوئی رشتہ دار آپ کے بچوں کی تعلیم میں معاون بنتا ہے، تو شکر گزاری کے بجائے یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے کہ "ان کے پاس بہت پیسہ ہے، دے دیا تو کیا ہوا؟" یہ سوچ احسان کی قدر کو ختم کر کے اسے ایک سماجی ٹیکس (Social Tax) بنا دیتی ہے۔

احسان فراموشی کی ایک گھناؤنی شکل یہ ہے کہ جب آپ کسی کے زیرِ بارِ احسان ہوتے ہیں، تو اپنے ضمیر کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لیے آپ اس محسن کی خامیاں ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں۔ لوگ دوسروں کی اچھائیوں کو چھپانے کے لیے ان کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں تاکہ معاشرے کو یہ دکھا سکیں کہ "وہ شخص اتنا بھی اچھا نہیں تھا جتنی اس نے میری مدد کی"۔ یہ دراصل اپنی کمتری کو چھپانے کا ایک نفسیاتی دفاعی حربہ ہے۔

پاکستانی سیاست اور بیوروکریسی سے لے کر عام کارپوریٹ کلچر تک، یہ رویہ عام ہے کہ جب کوئی شخص کسی عہدے یا طاقت پر پہنچتا ہے، تو وہ ان تمام کندھوں کو بھول جاتا ہے جن پر چڑھ کر وہ وہاں تک پہنچا تھا۔ وہ ہاتھ جو کبھی دعاؤں کے لیے اٹھے تھے یا وہ لوگ جنہوں نے اسے راستہ دکھایا تھا، اب اسے "اپنے معیار سے کم" نظر آنے لگتے ہیں۔ یہ سماجی منافقت کی انتہا ہے۔

ہمارے معاشرے کی ایک بہت تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب تک کسی محسن کے ہاتھ میں دینے کے لیے کچھ ہوتا ہے، لوگ گرد جمع رہتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہی محسن کسی آزمائش، بیماری یا معاشی تنگی کا شکار ہوتا ہے، تو وہی لوگ جو کبھی اس کے دستِ دسترخوان پر پلتے تھے، سب سے پہلے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔ یہ رویہ اس مقولے کی عملی تفسیر ہے کہ "ضرورت ختم تو تعلق ختم"۔

نفسیاتی اور معاشرتی زوال
یہ تلخ رویے صرف ایک فرد کا نقصان نہیں کرتے، بلکہ یہ "اعتماد کے بحران" (Trust Deficit) کو جنم دیتے ہیں۔ جب ایک مخلص انسان کو بار بار احسان فراموشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ معاشرے سے کٹ جاتا ہے اور خیر کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔

سقراط کا قول ہے

جس نے تم پر احسان کیا، اس کی قدر کرو، چاہے وہ ایک لفظ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ جس نے محسن کی قدر نہ کی، اس نے دراصل انسانیت کی قدر نہ کی۔

پاکستانی معاشرے میں اگر ہمیں اس زوال کو روکنا ہے، تو ہمیں "اعترافِ احسان" کو اپنی انا سے بڑا بنانا ہوگا۔ احسان فراموشی دراصل ایک ذہنی غربت ہے، اور امیر وہ ہے جو کسی کی چھوٹی سی نیکی کو بھی عمر بھر یاد رکھنے کا ظرف رکھتا ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔