نفرت کی تسبیح اور ہمارا معاشرہ
--- روما محمود---
پاکستانی معاشرے کی بنیادیں کبھی محبت، مروت اور وضع داری پر استوار تھیں۔ وہ دور یاد ہے جب محلے کے کسی ایک گھر میں دستک ہوتی تھی تو پورا محلہ جواب دینے کے لیے موجود ہوتا تھا۔ لیکن آج کے ڈیجیٹل اور مادی دور میں ہم نے ایک نئی روایت کو جنم دیا ہے۔
آج کل کسی سے اختلاف کرنا محض رائے کا فرق نہیں رہا، بلکہ یہ ذاتی دشمنی اور نفرت کے ایسے اظہار میں بدل چکا ہے جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں نفرت کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ سوشل میڈیا بن چکا ہے۔ یہاں کسی کی رائے، لباس یا عقیدے سے اختلاف ہونے کی صورت میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے، وہ ہماری اخلاقی پستی کا ثبوت ہے۔
"ٹرولنگ" کے نام پر تضحیک کرنا اب ایک عام مشغلہ بن گیا ہے۔ ہم بھول چکے ہیں کہ لفظوں کے زخم کبھی نہیں بھرتے۔
ہمارے ہاں نفرت کے اظہار کو سیاسی اور مذہبی وابستگیوں نے مزید ہوا دی ہے۔ اب ہم انسان کو اس کی انسانیت سے نہیں، بلکہ اس کے سیاسی نظریے سے پہچانتے ہیں۔ اگر کوئی ہماری پسندیدہ شخصیت پر تنقید کرے تو ہم اسے معاشرے سے بے دخل کرنے پر تل جاتے ہیں۔
یہ رویہ "برداشت" کے اس فلسفے کے بالکل الٹ ہے جو ہمارے بزرگوں کی پہچان تھا۔
تعصب اور 'کریب مینٹیلٹی' (Crab Mentality)
پاکستانی معاشرے میں ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسرے کی کامیابی کو اپنی ناکامی سمجھتے ہیں۔
جب کوئی آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے، تو بجائے اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے، ہم حسد اور نفرت کے ذریعے اس کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ "کیکڑا صفت" رویہ ہے جو ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر پیچھے دھکیل رہا ہے۔
نفرت کا علاج کیا ہے؟
نفرت کا جواب کبھی نفرت سے نہیں دیا جا سکتا۔ ہمیں اپنے معاشرے میں درج ذیل تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دوسرا شخص غلط نہیں، صرف "مختلف" ہو سکتا ہے۔
بولنے سے پہلے تولنا ہماری قدیم روایت تھی، اسے دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔
تعلیمی اداروں اور گھروں میں بچوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ تنقید اور تضحیک میں فرق ہوتا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں دلوں میں گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔
اگر ہم نے آج نفرت کے اس اظہار کو "اخلاقیات" کی لگام نہ دی، تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ محبت بانٹنا مشکل ضرور ہے، مگر یہ وہ واحد سرمایہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے۔
خاندانی تلخیوں، دوسروں کی نقل کرنے (Copying) اور مسلسل نیچا دکھانے کے رویے جو ہمارے معاشرتی ڈھانچے کے ان پوشیدہ زخموں کی عکاسی کرتا ہے۔
خاندانی رقابتیں، نقل، حسد اور تذلیل کا مثلث
پاکستانی معاشرت میں "خاندان" ایک مضبوط قلعہ تصور کیا جاتا تھا ، لیکن اسی قلعے کی دیواروں کے پیچھے بعض اوقات ایسی تلخیاں جنم لیتی ہیں جو باہر کے دشمنوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔
ان تلخیوں کی تین بڑی بنیادیں ہیں۔
دوسروں کی زندگیوں کی بلاوجہ نقل کرنا، ہر معاملے میں نیچا دکھانا اور پھر ان رویوں سے جنم لینے والی دائمی دشمنی۔
نقل کرنے کا جنون (The Copycat Syndrome)
ہمارے ہاں خاندانوں میں ایک عجیب دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اگر ایک گھر میں گاڑی آئی ہے یا کسی نے بچوں کی شادی دھوم دھام سے کی ہے، تو دوسرا گھرانہ چاہے مالی طور پر مستحکم نہ بھی ہو، وہ ویسا ہی کرنے کی کوشش کرے گا۔ یہ "کاپی" کرنے کا رجحان دراصل اپنی شناخت کی کمی اور احساسِ کمتری کا نتیجہ ہے۔
جب ہم اپنی خوشی دوسروں کے معیار سے ناپتے ہیں، تو ہم اپنی اصل زندگی جینا بھول جاتے ہیں۔
"نیچا دکھانے" کی نفسیات
خاندانی محفلوں میں اکثر ایسے جملے کسے جاتے ہیں جن کا مقصد بظاہر مذاق ہوتا ہے، مگر ان کے پیچھے زہر چھپا ہوتا ہے۔
"تمہارے بچے کا رزلٹ تو اتنا اچھا نہیں آیا"، یا "ہم نے تو یہ چیز اس سے بہتر لی تھی"۔ یہ جملے دراصل دوسرے کی خوشی کو گرہن لگانے کی کوشش ہوتے ہیں۔
نفسیاتی طور پر نیچا دکھانے والا شخص خود کو برتر ثابت کرنے کے لیے دوسروں کی لکیر چھوٹی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
خاندانی تلخیاں
جب نقل اور تذلیل کا یہ سلسلہ طویل ہو جاتا ہے، تو یہ "خاندانی تلخیوں" کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ مروت ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ طنز لے لیتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی کامیابی پر مبارکباد تو دیتے ہیں مگر دلوں میں دعا یہ ہوتی ہے کہ کاش یہ ان لوگوں نہ ملتی۔
یہ رویہ نسلوں تک منتقل ہوتا ہے، جہاں بچے اپنے بڑوں کو ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلتے دیکھتے ہیں اور وہی نفرت ان کے لاشعور کا حصہ بن جاتی ہے۔
پاکستانی معاشرے کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے ہمیں چند بنیادی اصول اپنانے ہوں گے۔
دوسروں کی دیکھا دیکھی زندگی گزارنے کے بجائے اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائیں۔
(Boundaries) خاندانی تعلقات میں ایک دوسرے کی نجی زندگی میں حد سے زیادہ مداخلت سے پرہیز کریں۔
زندگی بہت مختصر ہے اور رشتے بہت انمول۔ کسی کی نقل کر کے یا اسے نیچا دکھا کر آپ عارضی سکون تو پا سکتے ہیں، مگر ذہنی سکون اور حقیقی عزت صرف دوسروں کو عزت دینے میں ہی پنہاں ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر انسان کا اپنا سفر ہے اور ہر گھر کی اپنی کہانی۔

Comments