اسکرین کی قید میں بکھرتی نسل: ڈیجیٹل معاشرت اور اخلاقی دیوالیہ پن

 




---روما محمود---




پاکستانی معاشرے میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم نے ٹیکنالوجی تو اپنا لی ہے، لیکن اس کے استعمال کے لیے "اخلاقی ضابطے" (Digital Ethics) وضع نہیں کیے۔ 







ہمارا نوجوان اب مٹی کے کھیل یا حقیقی رشتوں کے بجائے "لائیکس" اور "ویوز" کی دنیا میں جی رہا ہے۔ یہاں دکھاوا اصل زندگی پر غالب آ چکا ہے۔

اس پر بات کریں کہ کس طرح سوشل میڈیا نے ہمیں "انسان" سے "ڈیٹا" میں بدل دیا ہے۔

جیسا کہ آرٹیکل 19 کا ذکر ہے، ڈیجیٹل دور میں آزادیِ اظہار کے نام پر دوسروں کی پگڑیاں اچھالنا ایک مشغلہ بن گیا ہے۔

اخلاقیات کی اس گراوٹ پر توجہ دلائیں کہ اختلافِ رائے اور بدتمیزی میں ایک باریک لکیر ہوتی ہے۔

ٹک ٹاک اور ریلز (Reels) کے چکر میں ہم نے اپنی نجی زندگی، حیا اور خاندانی عزت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

   ہمارا "آن لائن سرکل" ہمیں کیسا بنا رہا ہے۔

صرف انٹرنیٹ پر پابندی لگانا حل نہیں، بلکہ گھر اور تعلیمی اداروں میں "ڈیجیٹل لٹریسی" کے ساتھ ساتھ "ڈیجیٹل اخلاقیات" سکھانا وقت کی ضرورت ہے۔

یہ دور نئی نسل کی فکری سمت اور ڈیجیٹل رویوں کی عکاسی کرتا ہے۔

اسکرین کی قید میں بکھرتی نسل ڈیجیٹل معاشرت اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکی ہے ۔

آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، جہاں انسانی انگلیاں کتاب کے صفحات پلٹنے کے بجائے موبائل کی اسکرین پر "اسکرولنگ" کی عادی ہو چکی ہیں۔ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں مادی فاصلے تو سمٹ گئے ہیں، مگر دلوں اور سوچ کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔

پاکستان کی نئی نسل، جو اس ڈیجیٹل انقلاب کی سب سے بڑی اسٹیک ہولڈر ہے، ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں "وائرل" ہونے کی خواہش نے "بلندی اور عزت" کے تصور کو دھندلا دیا ہے۔

ورچوئل دنیا اور حقیقت کا ٹکراؤ
ہمارے نوجوان اب اپنی خوشی کا پیمانہ ان "لائیکس" (Likes) کو سمجھتے ہیں جو اجنبیوں کی طرف سے ملتے ہیں۔

ہم نے اپنی حقیقی زندگی کو ایک ایسا "ڈسپلے سینٹر" بنا دیا ہے جہاں ہر لمحہ نمائش کے لیے ہے۔

کھانا ہو، سفر ہو یا نجی لمحات، جب تک وہ سوشل میڈیا کی زینت نہ بنیں، ہمیں سکون نہیں ملتا۔

اس دوڑ نے ہمیں مصلحت پسند اور دکھاوے کا عادی بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں حقیقی رشتوں کی مٹھاس ختم ہوتی جا رہی ہے۔

یہ آزادیِ اظہار یا اخلاقی انارکی ہے ؟

آئین پاکستان کا آرٹیکل 19 ہمیں اظہارِ رائے کی آزادی تو دیتا ہے، مگر کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دوسروں کی پگڑیاں اچھالیں؟

سوشل میڈیا پر کمنٹس سیکشن اب بحث و مباحثے کے بجائے "گالی گلوچ کا اکھاڑا" بن چکا ہے۔

اختلافِ رائے، جو کبھی علم کی بنیاد ہوتا تھا، اب ذاتی دشمنی اور تضحیک میں بدل چکا ہے۔

ہم نے بھول دیا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی اخلاقیات وہی ہیں جو حقیقی زندگی میں ہونی چاہئیں۔

وائرل ہونے کا خبط نے حیا کا جنازہ نکال دیا۔

ٹک ٹاک اور ریلز کے کلچر نے "توجہ حاصل کرنے" (Attention Seeking) کو ایک بیماری بنا دیا ہے۔

چند ویوز کی خاطر نازیبا حرکات، خطرناک اسٹنٹس اور خاندانی رازداری کو سرِ عام لانا اب عام بات ہو گئی ہے۔

یہاں وہ "صحبت" والا نکتہ انتہائی اہم ہے؛ جب ہمارا ڈیجیٹل حلقہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہو جو سطحی مواد کو فروغ دیتے ہیں، تو ہماری اپنی سوچ بھی اسی سانچے میں ڈھل جاتی ہے۔

فکری سمت کی درستگیاب وقت کی پکار ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انٹرنیٹ ایک آلہ ہے، ہمارا آقا نہیں۔ نئی نسل کو "ڈیجیٹل لٹریسی" کے ساتھ ساتھ یہ سکھانا ضروری ہے کہ
  ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے شیئر کرنا فکری بددیانتی ہے۔

کسی کی نجی زندگی پر تبصرہ کرنا اخلاقی جرم ہے۔

سچی کامیابی اسکرین پر نہیں، بلکہ حقیقی دنیا میں کردار سازی اور محنت سے ملتی ہے۔

ہم اس وقت تک ایک عظیم انسان نہیں بن سکتے جب تک ہم اپنی اخلاقی اقدار کو ڈیجیٹل دنیا میں بھی نافذ نہ کریں۔

ہمیں اپنی اسکرینوں سے باہر نکل کر اس مٹی اور اپنی تہذیب سے دوبارہ جڑنا ہوگا۔

جدیدیت کے اس طوفان میں ہمیں اپنی جڑوں (ثقافت اور حیا) کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے، ورنہ یہ سیلاب ہمیں اپنی پہچان سمیت بہا لے جائے گا۔






Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔