بخور، خوشبو کی وہ بادشاہی جو گھر کو جنت بنا دیتی ہے۔

 




---روما محمود---




ہمارے گھروں میں جب بخور کی خوشبو پھیلتی ہے تو لگتا ہے گویا ہوا خود دعا بن گئی ہو۔ ایک چھوٹا سا کوئلہ، چند دانے بخور، اور پھر وہ دھواں جو نہ صرف کمرے کو معطر کر دیتا ہے بلکہ دل کو بھی سکون دے جاتا ہے۔

آج کل جب ہر طرف مصنوعی خوشبوؤں اور ایئر فریشنرز کا راج ہے، تب بخور کی سادگی اور اصليت ایک یاد دہانی بن جاتی ہے کہ کچھ چیزیں وقت کے ساتھ نہیں بدلتیں، وہ تو دل کے قریب رہتی ہیں۔




بخور دراصل عرب دنیا کی وہ روایت ہے جو صدیوں سے ہمارے علاقے تک پہنچی۔ عربی زبان میں "بخور" کا مطلب ہی "دھواں" ہے، لیکن یہ دھواں کوئی عام دھواں نہیں، یہ عود کی لکڑی، صندل، عنبر، گلاب، یاسمین، مشک اور ہزاروں دیگر خوشبودار اجزاء کا ملغوبہ ہے۔

اسلامی تاریخ میں خوشبو کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "خوشبو مرد کا زیور ہے"۔

مسجد نبوی میں بھی بخور جلایا جاتا تھا۔ آج بھی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت کے گھروں میں بخور کی تقریب "مبخرہ" کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔

مہمان آتے ہیں تو سب سے پہلے بخور پیش کیا جاتا ہے، جیسے خوش آمدید کا سب سے خوبصورت طریقہ۔

پاکستان میں بخور کا رجحان خاص طور پر رمضان، عید، شادی بیاہ اور جمعہ کے دنوں میں عروج پر ہوتا ہے۔

راولپنڈی، لاہور، کراچی کے بازاروں میں "بخور والے" اب بھی موجود ہیں جو دکان کے باہر ہی کوئلے پر بخور جلا کر لوگوں کو مفت سونگھنے دیتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں، "بس ایک بار سونگھ لو، پھر خریدے بغیر نہیں جا سکتے"۔

اور خریدتے بھی ہیں۔ اب تو آن لائن بھی ڈیزائنر بخور مل رہے ہیں۔

فرانسس، دیوان، الرحاب، بکری، عبد الصمد القرشی، عود الہند… ہر برانڈ کا اپنا ذائقہ۔ کچھ لوگ تو بخور کو "عود" کہہ کر پکارتے ہیں، جو اصل میں عود کی لکڑی کا نام ہے، لیکن ہمارے ہاں تو پورے مکسچر کو ہی بخور کہہ دیتے ہیں۔

بخور جلانے کا طریقہ بھی ایک فن ہے۔ کوئلہ جلائیں، اس پر بخور کے دانے رکھیں، دھواں اٹھے تو مبخرہ کو گھر کے کونے کونے میں پھرائیں۔

کچھ لوگ الیکٹرک بخور برنر استعمال کرتے ہیں جو کوئلے کی تکلیف سے بچاتا ہے۔ لیکن سچ پوچھیں تو کوئلے والا بخور ہی اصل مزہ دیتا ہے۔ وہ ہلکی سی کڑواہٹ، وہ دھواں جو آنکھوں میں نہیں جاتا بلکہ روح میں اتر جاتا ہے۔

صحت کے اعتبار سے بھی بخور کے کئی فوائد بتائے جاتے ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ کچھ خوشبوئیں تناؤ کم کرتی ہیں، نیند بہتر کرتی ہیں اور ہوا کو جراثیم سے پاک کرتی ہیں۔

خاص طور پر عود اور صندل کی خوشبو اینٹی بیکٹیریل ہوتی ہے۔ لیکن سب سے بڑا فائدہ تو وہ نفسیاتی ہے جو کوئی مشین نہیں دے سکتی۔ جب گھر میں بخور جلتا ہے تو لگتا ہے ماں بیٹھی ہے، دادی کی دعائیں گونج رہی ہیں، گھر میں برکت آ گئی ہے۔

آج کے نوجوان بھی بخور سے محبت کرنے لگے ہیں۔ انسٹاگرام پر "Bukhoor Aesthetic" کے اکاؤنٹس ہیں جہاں لوگ اپنے گھروں کی ویڈیوز شیئر کرتے ہیں۔ لڑکیاں کہتی ہیں "بخور لگا کر پڑھائی کرتی ہوں تو توجہ زیادہ رہتی ہے"۔ لڑکے کہتے ہیں "ڈرائیونگ کرتے ہوئے کار میں بخور جلاتے ہیں تو ٹریفک کا غصہ بھی نہیں آتا"۔

لیکن ایک بات یاد رکھیں۔ بخور کو حد سے زیادہ نہ جلائیں۔ بہت زیادہ دھواں سانس کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ تھوڑا سا کافی ہے۔ خوشبو اسی وقت اثر کرتی ہے جب وہ ہلکے ہاتھ سے دل پر چھو جائے۔

آخر میں یہ کہوں گی کہ بخور صرف خوشبو نہیں، یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے، ہماری روایت ہے، ہماری یادوں کا ذخیرہ ہے۔

جب بھی زندگی کے دھواں دھار دنوں میں تھک جائیں، ایک مبخرہ اٹھائیں، کوئلہ جلائیں، بخور ڈالیں اور آنکھیں بند کر کے سانس لیں۔ لگے گا کوئی پرانا دوست واپس آ گیا ہو۔

خوشبو سے بھرا گھر، خوشبو سے بھرا دل… یہی تو جنت کی پہلی نشانی ہے۔

Comments

Anonymous said…
Good

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔