دستک، معاشرتی زوال اور حقِ دار کی محرومی
---روما محمود---
پاکستان کے موجودہ سماجی اور معاشی بحران پر جب بھی بحث ہوتی ہے، تو عموماً نظریں ڈالر کی قیمت، سیاسی عدم استحکام یا بیرونی قرضوں پر جا کر ٹھہرتی ہیں۔
لیکن ایک خاموش قاتل جو اس ملک کی جڑوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے، وہ ہے "حق تلفی"۔
کسی کا حق مارنا ہمارے معاشرے میں اب محض ایک برائی نہیں رہا، بلکہ یہ ایک ایسا فن بن چکا ہے جسے ہم "سمارٹ ورک" یا "ہوشیاری، چالاکی" کا لبادہ پہنا کر فخر سے اپناتے ہیں۔
پاکستانی معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں طاقتور کا مفاد "قانون" ہے اور کمزور کا حق "خیرات" بن کر رہ گیا ہے۔
اگر ہم اپنے گردوپیش پر نگاہ دوڑائیں تو حق تلفی کی ایسی ایسی صورتیں نظر آتی ہیں کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔
ہمارے ہاں سب سے منظم حق تلفی وراثت کے معاملے میں ہوتی ہے۔ خاص طور پر خواتین کو ان کے شرعی حصے سے محروم رکھنا ایک قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ بھائی، بہنوں کو "محبت" اور "تعلق" کا واسطہ دے کر جائیداد سے دستبردار کروا لیتے ہیں، اور جو بہن اپنا حق مانگ لے، اسے خاندان سے عاق کر دیا جاتا ہے۔
یہ کیسی محبت ہے جو صرف مال و متاع کی قربانی مانگتی ہے؟ قرآنِ پاک کے واضح احکامات کے باوجود ہم اپنی روایات کو دین پر فوقیت دیتے ہیں۔
پاکستان کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ "سفارشی کلچر" ہے۔ جب کسی قابل اور مستحق نوجوان کی جگہ کسی اثر و رسوخ والے کے بیٹے کو تعینات کیا جاتا ہے، تو وہ صرف ایک نوکری کا سودا نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک ٹیلنٹ کا قتل اور پورے نظام سے بھروسے کا خاتمہ ہوتا ہے۔ جس معاشرے میں ڈگری سے زیادہ "تعلقات" کی اہمیت ہو، وہاں نوجوانوں میں مایوسی، خودکشی اور ملک چھوڑنے کا رجحان بڑھنا فطری عمل ہے۔
ہمارے کارخانوں، دفتروں اور یہاں تک کہ گھروں میں کام کرنے والے طبقے کا استحصال عروج پر ہے۔ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت (Minimum Wage) پر عمل درآمد کروانے والا کوئی نہیں۔
ایک طرف مالکان کے منافع کروڑوں میں ہیں، تو دوسری طرف مزدور اس کشمکش میں ہے کہ وہ بچوں کی فیس بھرے یا دو وقت کی روٹی لائے۔ مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اجرت دینا تو دور کی بات، یہاں مہینوں تنخواہیں دبا کر رکھی جاتی ہیں۔
قبضہ گروپ اور عدالتی طوالت
پاکستان کا عدالتی نظام حق دار کو حق دلانے میں اس قدر سست ہے کہ مظلوم جیتے جی انصاف کی امید چھوڑ دیتا ہے۔
قبضہ مافیا کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ بیوہ اور یتیم کی جائیداد ہڑپ کرنا ان کے لیے معمولی بات ہے۔
"تاریخ پر تاریخ" کا کلچر دراصل ظالم کو مزید شہ دیتا ہے کہ وہ حق مار کر سینہ تان کر گھوم سکے۔
پاکستانی معاشرے میں "حق مارنا" صرف ایک انفرادی گناہ نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے سماجی ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے۔ اس رویے نے اسکولوں، دفتروں اور شادی بیاہ جیسے مقدس بندھنوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
اسکول وہ جگہ ہے جہاں کردار سازی ہونی چاہیے، لیکن بدقسمتی سے یہاں سے ہی حق تلفی کی بنیاد پڑتی ہے۔
جب ایک نالائق طالب علم نقل کر کے یا سفارش سے پوزیشن حاصل کرتا ہے، تو وہ ایک محنتی اور حق دار طالب علم کا حق مارتا ہے۔ یہیں سے بچے کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ محنت سے زیادہ "جگاڑ" ضروری ہے۔
نجی اسکولوں کا والدین سے بھاری فیسیں لینا لیکن اس کے عوض اساتذہ کو قلیل تنخواہ دینا اور بچوں کو معیاری ماحول نہ دینا بھی ایک بدترین حق تلفی ہے۔
سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کا ڈیوٹی سے غائب رہنا ان بچوں کے وقت اور مستقبل کا خون کرنے کے مترادف ہے جو دور دراز سے علم کی پیاس بجھانے آتے ہیں۔
دفتروں میں حق مارنے کا کلچر پاکستان کی معاشی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
کسی قابل امیدوار کو نظر انداز کر کے اپنے کسی عزیز یا سفارشی کو نوکری دینا "میرٹ کا قتل" ہے۔ یہ عمل پورے ادارے کی کارکردگی کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔
دفتر دیر سے آنا اور کام کے وقت ذاتی مصروفیات میں لگے رہنا بھی ادارے کا حق مارنا ہے۔
اکثر دفاتر میں بڑے افسران اپنے ماتحتوں کی محنت کا سہرا اپنے سر سجا لیتے ہیں، جو کہ ایک ذہنی اور پیشہ ورانہ استحصال ہے۔
شادی جیسا خوبصورت رشتہ ہمارے معاشرے میں "حق مارنے" کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔
جب اسکول، دفتر اور گھر (شادی) میں ناانصافی ہوتی ہے، تو معاشرہ درج ذیل مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔
برین ڈرین (Brain Drain) جب قابل نوجوانوں کا حق مارا جاتا ہے، تو وہ ملک چھوڑ کر باہر چلے جاتے ہیں، جس سے پاکستان کو ٹیلنٹ کا نقصان ہوتا ہے۔
حق تلفی کا شکار افراد ڈیپریشن، غصے اور انتقامی جذبات کا شکار ہو جاتے ہیں، جس سے معاشرے میں تشدد بڑھتا ہے۔
جب رزق اور رشتوں میں حرام اور ناانصافی شامل ہو جائے، تو سکون غارت ہو جاتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب ہم کسی کا راستہ کاٹتے ہیں یا کسی کی حق تلفی کرتے ہیں، تو دراصل ہم اپنے ہی معاشرے کی قبر کھود رہے ہوتے ہیں۔"
ساتھ ہی ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب تک کسی معاشرے میں "انصاف" اور "حق دہی" کا تصور پختہ نہیں ہوتا، وہاں دعاؤں میں اثر رہتا ہے نہ رزق میں برکت۔
کسی کا حق مار کر بنایا گیا بنگلہ یا لایا گیا قیمتی فرنیچر دراصل وہ آگ ہے جو آپ کی نسلوں کے سکون کو جلا دے گی۔
ریاست کو چاہیے کہ وہ وراثت، اجرت اور میرٹ کی پامالی پر کڑی سزائیں مقرر کرے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم انفرادی اصلاح ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کی لائن کاٹ کر آگے نکلنا "ترقی" نہیں، بلکہ ایک "اخلاقی چوری" ہے۔
یاد رکھیے، حقوق اللہ توبہ سے معاف ہو سکتے ہیں، لیکن حقوق العباد کا حساب اسی وقت تک ادھورا رہے گا جب تک وہ شخص معاف نہ کرے جس کا حق مارا گیا ہے۔


Comments