دولت کا سکہ اور عزت کا معیار ایک عالمی و قومی المیہ
---روما محمود---
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بحث صدیوں سے جاری ہے۔ اس کا جواب سادہ "ہاں" یا "ناں" میں نہیں، بلکہ معاشرے کی تلخ حقیقتوں اور انسانی اقدار کے درمیان چھپا ہوا ہے۔
اگر ہم حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھیں تو اس کے دو پہلو ہیں۔
سماجی حیثیت اور ظاہری عزت (The Social Reality)
موجودہ مادی پرست دور میں، پیسہ اکثر "طاقت" اور "اختیار" کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
جس کے پاس پیسہ ہے، اسے محفلوں میں اگلی نشست ملتی ہے اور لوگ اس کی بات توجہ سے سنتے ہیں۔
پیسہ آپ کو اچھا لباس، گاڑی اور رہائش فراہم کرتا ہے، جو معاشرے میں پہلی نظر میں (First Impression) عزت کا باعث بنتے ہیں۔
لوگ اکثر امیر شخص کی عزت اس لیے کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس سے کوئی مفاد وابستہ ہوتا ہے یا وہ اس کے اثر و رسوخ سے ڈرتے ہیں۔
حقیقی عزت اور کردار (The Human Reality)
پیسہ آپ کو "توجہ" تو دلا سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ "عقیدت" یا "محبت" بھی دلائے۔
اخلاق، اگر کسی کے پاس پیسہ ہے لیکن زبان میں تلخی اور رویے میں تکبر ہے، تو لوگ اس کی پیٹھ پیچھے اسے برا ہی کہیں گے۔ ایسی عزت صرف دولت کے رہنے تک ہوتی ہے۔
سچی اور پائیدار عزت ہمیشہ علم، دیانت داری، اور دوسروں کے کام آنے سے ملتی ہے۔ تاریخ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی، نہ کہ ان کو جنہوں نے صرف بینک بیلنس بنایا۔
دولت کی بنا پر ملنے والی عزت اکثر "خوف" یا "لالچ" پر مبنی ہوتی ہے، جبکہ کردار کی عزت "دل" سے ہوتی ہے۔
پیسہ آپ کو معاشرے میں حیثیت (Status) دے سکتا ہے، لیکن (Dignity) نہیں۔
پیسہ ایک بہترین خادم ہے لیکن ایک برا آقا۔
یہ انسان کی ضروریات تو پوری کر سکتا ہے، مگر ضمیر اور کردار کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
سادہ الفاظ میں پیسہ آپ کو لوگوں میں جگہ دلا سکتا ہے، مگر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کے لیے آپ کو ایک اچھا انسان ہونا ضروری ہے۔
آج کی دنیا میں یہ بحث کہ "کیا پیسہ عزت دیتا ہے؟" محض ایک اخلاقی سوال نہیں رہا، بلکہ یہ ایک سماجی اور نفسیاتی حقیقت بن چکا ہے۔ اگر ہم پاکستان کے گلی کوچوں سے لے کر نیویارک کے بلند و بالا ایوانوں تک نظر دوڑائیں، تو انسانی قدروں کے پیمانے بدلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
پاکستان کا منظرنامہاب یہ روپ دھار چکا ہے ۔
"جتنی شکر، اتنا میٹھا"
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، جہاں طبقاتی فرق بہت واضح ہے، پیسہ صرف ضرورت نہیں بلکہ شناخت بن چکا ہے۔
یہاں عام آدمی کے لیے عزت کا معیار اکثر اس کی مالی حیثیت سے طے پاتا ہے۔
پاکستان میں پیسہ آپ کو "سسٹم" سے تحفظ دیتا ہے۔ ایک امیر آدمی کے لیے قانون کے رویے اور ایک غریب کے لیے برتاؤ میں زمین آسمان کا فرق، معاشرے کو یہ پیغام دیتا ہے کہ عزت صرف نوٹوں کی چمک میں ہے۔
بدقسمتی سے، اب خاندانی تقریبات میں بھی "بڑے صاحب" کی آمد کا انتظار ان کی شرافت کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان کی مالی حیثیت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔
جہاں ڈگری سے زیادہ "ڈالر" کی قدر ہو، وہاں نوجوان نسل محنت اور علم کے بجائے شارٹ کٹ سے امیر بننے کو عزت کا راستہ سمجھنے لگی ہے۔
مادیت پرستی کا غلبہ (Global Capitalism)
عالمی سطح پر، خاص طور پر مغربی معاشروں میں، "کامیابی" (Success) کا براہِ راست تعلق "نیٹ ورتھ" (Net Worth) سے جوڑ دیا گیا ہے۔
دنیا اب انسان کو اس کے افکار سے نہیں بلکہ اس کی گھڑی، گاڑی اور برانڈ سے پہچانتی ہے۔ یہ "کنسومر ازم" (Consumerism) کا وہ جال ہے جس نے انسانی وقار کو اشیاء کا غلام بنا دیا ہے۔
انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسی ایپس نے ایک عالمی جھوٹ کو جنم دیا ہے، جہاں "امیر نظر آنا" اصل "عزت دار ہونے" سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
عالمی سیاست ہو یا معیشت، جس ملک کے پاس پیسہ ہے، اسی کا بیانیہ (Narrative) درست مانا جاتا ہے۔ حق اور سچ کی تعریف اب اخلاقیات کے بجائے معاشی مفادات طے کرتے ہیں۔
"سستی شہرت اور مہنگی غربت"
سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ ہر چیز خریدی جا سکتی ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت بڑا تضاد موجود ہے۔ دنیا کے امیر ترین لوگ بھی اکثر "خالص عزت" کے لیے ترستے دکھائی دیتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ پیسہ آپ کو "پروٹوکول" تو دلا سکتا ہے، لیکن "عقیدت" نہیں۔ لوگ آپ کے لیے کھڑے تو ہو سکتے ہیں، مگر آپ کے لیے دعا نہیں کرتے۔
پاکستان ہو یا دنیا، یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ پیسہ زندگی گزارنے کے لیے ناگزیر ہے اور یہ آپ کو ایک ظاہری شو شاہ عطا کرتا ہے۔
لیکن جب تک معاشرہ "دولت مند" اور "عزت دار" کے درمیان فرق کرنا نہیں سیکھے گا، تب تک اخلاقی جبگ جاری رہے گی۔
حقیقی عزت آج بھی ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جن کا کردار ان کے بینک بیلنس سے بڑا ہوتا ہے۔
پیسہ ختم ہو جائے تو دولت کی دی ہوئی عزت بھی ختم ہو جاتی ہے، لیکن کردار کی خوشبو زمانوں تک رہتی ہے۔
یہ مختصر جملہ " آپ کس سے ملنا پسند کرتے ہیں؟
ایک فلسفیانہ سوال کی طرف اشارہ ہے۔
ہم کس سے ملنا پسند کرتے ہیں؟
آج کے دور کا المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر ان لوگوں سے ملنا پسند کرتے ہیں جن کے پاس "پیسہ" یا "اثر و رسوخ" ہو۔ ہم ان کو تلاش کرتے ہیں تاکہ ہمارا اپنا سماجی قد کاٹھ بلند ہو سکے۔
لیکن کیا ہم ان سے مل کر خوشی محسوس کرتے ہیں؟
شاید نہیں۔
حقیقی سکون کہاں ملتا ہے؟
دوسری طرف، ہم دل سے ان لوگوں سے ملنا پسند کرتے ہیں جن کے پاس۔
جہاں ہمیں اپنی جیب یا عہدہ دکھانے کی ضرورت نہ پڑے۔
علم اور دانش ہو جن کی باتوں سے روح کو غذا ملے۔
جو ہمیں ویسا ہی قبول کریں جیسے ہم اصل میں ہیں۔
جن سے مل کر دل کو سکون مل جائے۔


Comments