چمچہ، باورچی خانے سے ایوانِ اقتدار تک۔

 





---روما محمود---






اردو ادب اور سماجیات میں "چمچہ" ایک ایسی اصطلاح ہے جو باورچی خانے سے نکل کر اقتدار کے ایوانوں، دفتروں کی راہداریوں اور دوستوں کی محفلوں تک پھیل چکی ہے۔

چمچہ صرف وہ نہیں جو سالن بانٹتا ہے، بلکہ وہ ہے جو خوشامد کی چاشنی بانٹ کر اپنا کام نکالتا ہے۔

انسان نے جب پہلا پتھر رگڑ کر آگ جلائی ہوگی، شاید اسی وقت اسے ایک ایسے آلے کی ضرورت محسوس ہوئی ہوگی جو گرمی سے بچا کر لقمہ منہ تک پہنچا دے۔ یوں "چمچے" نے جنم لیا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جوں جوں تہذیب نے ترقی کی، لکڑی اور سٹیل کے بے جان چمچوں سے زیادہ 'جیتا جاگتا' چمچہ اہمیت اختیار کر گیا۔



چمچہ گری ایک فنِ لطیف
آج کے دور میں چمچہ گری محض ایک عادت نہیں، بلکہ ایک مکمل سائنس اور آرٹ ہے۔

ایک ماہر چمچہ وہ ہوتا ہے جسے معلوم ہو کہ کس وقت 'نمک' برابر کرنا ہے اور کب 'مکھن' لگانا ہے۔ باورچی خانے کا چمچہ تو صرف برتن خالی کرتا ہے، مگر انسانی چمچہ دوسروں کی جیبیں خالی کروانے اور اپنے لیے ترقی کے راستے کھولنے کا ماہر ہوتا ہے۔

سماج میں چمچوں کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں۔

دفتری چمچہ یہ وہ مخلوق ہے جو باس کی ہر غلط بات پر "سبحان اللہ" کہتی ہے۔ باس کو چھینک بھی آئے تو یہ اسے "صحت بخش انقلاب" قرار دیتا ہے۔
 
سیاسی چمچہ ان کا کام لیڈر کے پیچھے کھڑے ہو کر صرف تالیاں بجانا اور مخالفین پر کیچڑ اچھالنا ہے۔ یہ وہ چمچے ہیں جو پلیٹ بدلتے ہی اپنی وفاداری بھی بدل لیتے ہیں۔
  خاندانی چمچہ یہ ہر خاندان میں ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو بڑے بزرگوں کی جی حضوری کر کے وراثت میں اپنا حصہ پکا کرنے کی تگ و دو میں رہتا ہے۔

چمچہ کیوں ضروری ہے؟

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ چمچوں کی اتنی مذمت کیوں؟

درحقیقت، قصور صرف چمچے کا نہیں ہوتا۔ جس طرح سوپ پینے کے لیے چمچہ لازمی ہے، اسی طرح ہمارے معاشرے کے کئی "بڑے سورماؤں" کو اپنی بڑائی کا احساس برقرار رکھنے کے لیے چمچوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

جب تک دنیا میں ایسے "بڑے" موجود ہیں جنہیں سچی تنقید سے زیادہ جھوٹی تعریف پسند ہے، چمچوں کی مانگ میں کمی نہیں آئے گی۔

سٹیل کا چمچہ ہو یا انسانی چمچہ، اس کی قسمت میں دوسروں کا بچا کھچا ہی آتا ہے۔ چمچہ چاہے جتنا بھی قیمتی کیوں نہ ہو جائے، رہتا وہ دسترخوان پر ہی ہے، اسے کبھی 'صاحبِ خانہ' کا درجہ نہیں ملتا۔

کوشش کریں کہ زندگی میں اپنی پہچان خود بنائیں۔ چمچہ بن کر کسی کی پلیٹ میں تو جگہ مل سکتی ہے، مگر کسی کے دل میں عزت بنانا ناممکن ہے۔


کہتے ہیں کہ دنیا میں دو ہی چیزیں لافانی ہیں؛ ایک خوش فہمی اور دوسرا اس خوش فہمی کو ہوا دینے والا "چمچہ"۔

اگر لغت کی گرد جھاڑی جائے تو معلوم ہوگا کہ چمچہ محض ایک دھاتی آلہ ہے جو سالن بانٹنے کے کام آتا ہے، لیکن اگر سماج کی تہوں کو کریدا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ "جادوئی عصا" ہے جس کے بغیر ترقی کی سیڑھی چڑھنا ناممکن ہے۔

فنِ چمچہ سازی کے چند اصول
ایک کامیاب چمچہ بننے کے لیے اعلیٰ درجے کی صبر و استقامت درکار ہوتی ہے۔ اسے اپنے ضمیر کو کسی پرانے صندوق میں بند کر کے تالا لگانا پڑتا ہے تاکہ جب اس کا "صاحب" (باس یا لیڈر) دن کو رات کہے، تو یہ فوراً ستاروں کی گنتی شروع کر دے۔

موسمیاتی چمچہ یہ وہ چمچہ ہے جو صاحب کے موڈ کے مطابق اپنا درجہ حرارت بدلتا ہے۔ اگر صاحب غصے میں ہیں تو یہ برف بن کر ٹھنڈک پہنچائے گا، اور اگر صاحب کسی پر برس رہے ہیں تو یہ مٹی کا تیل بن کر آگ بھڑکائے گا۔

عینک والا چمچہ اس کا کام صاحب کی ہر برائی کو "خوبی" بنا کر دکھانا ہے۔ اگر صاحب بدتمیزی کریں تو یہ اسے "دبنگ لہجہ" قرار دے گا، اور اگر صاحب کچھ نہ کریں تو اسے "درویشانہ قناعت" کا نام دے گا۔

چمچہ اور دسترخوانِ اقتدار
حقیقت تو یہ ہے کہ جس طرح چاول کے دیگ بغیر چمچے کے نہیں کھولی جا سکتی، اسی طرح اقتدار کی دیگ پر بھی وہی قابض ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں چمچوں کی فوج ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے سورما اپنی تلواروں سے نہیں ہارے، بلکہ اپنے ہی چمچوں کی حد سے بڑھی ہوئی "وفاداری" کی نذر ہو گئے۔

کیونکہ چمچہ جب زیادہ گہرا ہو جائے تو وہ برتن خالی کر کے ہی دم لیتا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ چمچہ چاہے سونے کا ہی کیوں نہ ہو، رہتا وہ ہمیشہ دوسروں کے ہاتھ میں ہی ہے۔ اس کی اپنی کوئی سمت نہیں ہوتی، اسے جدھر گھمایا جائے وہ ادھر ہی گھوم جاتا ہے۔

دسترخوان اٹھتے ہی چمچے کی جگہ سنک (Sink) میں ہوتی ہے جہاں اسے رگڑ رگڑ کر صاف کیا جاتا ہے تاکہ اگلی مرتبہ پھر سے کسی نئی پلیٹ میں جگہ بنا سکے۔

چمچہ بننا آسان ہے، لیکن انسان بننا مشکل۔ چمچہ صرف پیٹ بھر سکتا ہے، مگر روح کی تسکین کے لیے آپ کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ دفتر میں ترقی کے لیے صرف محنت، ڈگری اور قابلیت کی ضرورت ہے، تو معاف کیجیے گا، آپ ابھی تک "حقیقت پسندی" کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔

کارپوریٹ ورلڈ ہو یا سرکاری دفتر، وہاں اصل سکہ وہی چلتا ہے جس کے پاس "چمچہ گری" کا لائسنس ہو۔

ایک مثالی دفتری چمچہ وہ نہیں جو صرف فائلیں اٹھائے، بلکہ وہ ہے جو باس کے لطیفوں پر (چاہے وہ کتنے ہی بے ہودہ کیوں نہ ہوں) اس طرح ہنستا ہے کہ دیواروں پر لگی تصویریں بھی مسکرانے لگتی ہیں۔

یہ چمچہ باس کے لیے کافی لاتے وقت اس میں چینی نہیں، بلکہ "عقیدت" گھول کر لاتا ہے۔

میٹنگ میں جب باس کوئی غلط آئیڈیا پیش کرتا ہے، تو یہی وہ عظیم ہستی ہوتی ہے جو میز تھپتھپا کر کہتی ہے، "سر! آج تو آپ نے مارکیٹ کے ستارے توڑ لیے!"

چمچہ اور قابلیت کی جنگ
سچ تو یہ ہے کہ قابل انسان اپنی فائلیں درست کرتا ہے، جبکہ چمچہ باس کا "موڈ" درست کرتا ہے۔ فائلیں تو الماریوں میں دھول چاٹتی رہتی ہیں، مگر موڈ کی درستی سے ترقی کے آرڈر الماریوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو کچھ نہیں کرتے، مگر دوسروں کے کیے ہوئے کام پر "مکھن" لگا کر اسے اپنی وفاداری کا ثبوت بنا دیتے ہیں۔

وقت گزرتا ہے، باس بدل جاتا ہے، کرسی بدل جاتی ہے، لیکن چمچہ وہیں رہتا ہے۔ وہ نئے آنے والے صاحب کے لیے پہلے سے زیادہ چمکدار ہو کر سامنے آتا ہے۔

کیونکہ اسے معلوم ہے کہ برتن بدلنے سے چمچے کی اہمیت ختم نہیں ہوتی، بس اسے ذرا سا "مانجھنا" پڑتا ہے۔

آپ کی پہچان آپ کا کام ہو، نہ کہ کسی کی خوشامد۔ چمچہ بن کر آپ عارضی فائدہ تو اٹھا سکتے ہیں، مگر تاریخ ہمیشہ ان کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنے بل بوتے پر مقام بنایا۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔