امانت میں خیانت، زوال کی پہلی سیڑھی

 


---روما محمود---




امانت میں خیانت ایک ایسا معاشرتی کینسر ہے جو خاموشی سے ریاست اور معاشرے کی بنیادیں چاٹ جاتا ہے۔

اسلام میں اسے منافق کی نشانی قرار دیا گیا ہے، لیکن افسوس کہ آج ہمارے ہاں اسے 'ہوشیاری' اور 'کامیابی' کا نام دے دیا گیا ہے۔




جب ہم 'امانت' کا لفظ سنتے ہیں، تو ہمارا ذہن اکثر کسی کے پاس رکھی ہوئی چند ہزار کی رقم یا سونے کے زیورات کی طرف جاتا ہے۔ لیکن امانت کا مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے۔ امانت صرف مال کی حفاظت کا نام نہیں، بلکہ کسی کا راز، کسی کا بھروسہ، ریاست کا عہدہ، سرکاری قلم اور یہاں تک کہ وہ وقت بھی امانت ہے جس کی ہمیں تنخواہ ملتی ہے۔

معاشرتی اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے ۔


آج ہمارے معاشرے میں خیانت اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ ہم اسے گناہ یا جرم سمجھنے کو بھی تیار نہیں۔

ایک سرکاری افسر جب فائل آگے بڑھانے کے لیے رشوت طلب کرتا ہے، تو وہ اپنے اس 'اختیار' کی امانت میں خیانت کر رہا ہوتا ہے جو ریاست نے اسے سونپا تھا۔

ایک دکاندار جب دودھ میں پانی ملاتا ہے یا ناپ تول میں کمی کرتا ہے، تو وہ اس 'بھروسے' کا قتل کرتا ہے جو گاہک اس پر کرتا ہے۔

فرمانِ نبوی ﷺ ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے، اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔

اس پیمانے پر اگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں، تو صورتحال کافی ہولناک نظر آتی ہے۔

ہم دعویٰ تو ایمان کا کرتے ہیں، لیکن ہمارے روزمرہ کے معاملات میں دیانت کا فقدان یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہم اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں جہاں عدل اٹھ گیا اور امانتیں نااہلوں کے سپرد کر دی گئیں۔

جب میرٹ کی جگہ سفارش لے لے اور عوامی خزانے کو 'مالِ مفت' سمجھ کر لوٹا جانے لگے، تو وہاں برکت اٹھ جاتی ہے اور افرا تفری کا راج ہوتا ہے۔

امانت میں خیانت انفرادی سطح پر ایک شخص کا کردار تباہ کرتی ہے، جبکہ اجتماعی سطح پر پورے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہے۔ اگر ہمیں بحیثیت انسان دوبارہ کھڑا ہونا ہے، تو ہمیں 'خائن' کی تعریف بدلنی ہوگی۔ خیانت صرف چوری نہیں، بلکہ اپنے فرائض میں کوتاہی بھی ہے۔

دیانت داری کوئی اضافی خوبی نہیں، بلکہ ایک مسلمان اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کی بنیادی شرط ہے۔ یاد رکھیے، خیانت سے حاصل ہونے والا نفع عارضی ہے، لیکن اس کا وبال دائمی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔