نوروز فطرت کی بیداری اور انسانی تہذیب کا قدیم ترین جشن۔
---روما محمود---
جب زمین اپنی سرد چھتری اتار پھینکتی ہے اور سورج کی پہلی کرنیں منجمد جذبوں میں زندگی کی حرارت بھرتی ہیں، تو وہ لمحہ نوروز کہلاتا ہے۔ فارسی زبان کے دو الفاظ "نو" (نیا) اور "روز" (دن) سے مل کر بننے والا یہ تہوار محض ایک کیلنڈر کی تبدیلی نہیں، بلکہ یہ کائنات کے اس عظیم توازن کا جشن ہے جہاں دن اور رات برابر ہو جاتے ہیں اور زندگی موت کے سائے سے نکل کر دوبارہ جنم لیتی ہے۔
تاریخ کے دریچوں سے
نوروز کی جڑیں ہزاروں سال قدیم تاریخ میں پیوست ہیں۔ یہ تین ہزار سال سے زائد عرصے سے وسطی ایشیا، ایران، قفقاز اور برصغیر کے کئی حصوں میں منایا جا رہا ہے۔
شاہنامہِ فردوسی کے مطابق، اس دن کی بنیاد عظیم بادشاہ جمشید نے رکھی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب جمشید نے دنیا کو برائی اور قحط سے بچایا اور تخت پر جلوہ گر ہوا، تو اس کے تخت سے ایسی روشنی نکلی جس نے اندھیروں کو مٹا دیا۔
اس دن کو "نوروز" یعنی نیا دن قرار دیا گیا۔
تاریخی طور پر یہ زرتشت مذہب سے وابستہ رہا ہے، لیکن اس کی ہمہ گیریت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام کی آمد کے بعد بھی اس کی اہمیت ختم نہیں ہوئی، بلکہ یہ ثقافتی رنگوں میں ڈھل کر ایک ہمہ گیر انسانی تہوار بن گیا۔
اعتدالِ ربیعی
سائنسی نقطہ نظر سے نوروز 'Spring Equinox' یا اعتدالِ ربیعی کا دن ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب سورج خطِ استوا کے عین اوپر ہوتا ہے اور پوری دنیا میں دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جاتا ہے۔
یہ توازن ہمیں سکھاتا ہے کہ کائنات کا اصل حسن اعتدال میں ہے۔ کسانوں کے لیے یہ بیج بونے کا وقت ہے، جبکہ شاعروں کے لیے یہ نئے خواب بننے کا موسم ہے۔
نوروز کی سب سے خوبصورت روایت "ہفت سین" کا دسترخوان ہے۔ اس دسترخوان پر 'سین' سے شروع ہونے والی سات اشیاء رکھی جاتی ہیں، جن میں سے ہر ایک زندگی کے ایک پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔
سبزہ: تازگی اور فطرت کی علامت۔
سمنو: مٹھاس اور برکت کی علامت۔
سنجد (عناب): محبت اور لگاؤ کی علامت۔
سیر (لہسن): صحت اور شفا کی علامت۔
سیب: خوبصورتی اور تندرستی کی علامت۔
سماق: طلوعِ آفتاب کے رنگ اور صبر کی علامت۔
سرکہ: بڑھاپے اور دانش کی علامت۔
اس کے علاوہ دسترخوان پر آئینہ (صفائی کے لیے)، شمع (روشنی کے لیے)، اور قرآنِ پاک یا دیوانِ حافظ (روحانیت کے لیے) بھی رکھا جاتا ہے۔
آج کے انتشار زدہ دور میں نوروز ہمیں ایک بہت بڑا سبق دیتا ہے۔
جیسے درخت اپنے پرانے پتے جھاڑ کر نئی کونپلیں نکالتے ہیں، ویسے ہی انسان کو بھی چاہیے کہ وہ گزشتہ سال کی نفرتوں، تلخیوں اور کدورتوں کو بھلا کر ایک نئے عزم کے ساتھ زندگی کا آغاز کرے۔
یونیسکو (UNESCO) نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے کر اس حقیقت پر مہر ثبت کی ہے کہ یہ تہوار کسی ایک ملک یا فرقے کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہے۔
پاکستان کے شمالی علاقہ جات، گلگت بلتستان اور چترال میں بھی یہ دن انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، جو ہماری متنوع ثقافت کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔
نوروز صرف ایک روایت نہیں، یہ امید کا استعارہ ہے۔ یہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ کتنی ہی طویل اور سرد خزاں کیوں نہ ہو، بہار کو بہرحال آنا ہے۔
یہ اندھیرے پر روشنی، برائی پر اچھائی اور جمود پر حرکت کی فتح کا دن ہے۔
ایران اور گلگت بلتستان، دونوں خطوں میں نوروز منایا تو ایک ہی دن جاتا ہے، لیکن ان کے رنگ، روایات اور اندازِ جشن میں اپنی اپنی ثقافتی خوشبو رچی ہوئی ہے۔
ایران میں نوروز صرف ایک دن کا نام نہیں بلکہ یہ پورے پندرہ دن پر محیط ایک طویل جشن ہے۔
نوروز سے چند ہفتے پہلے ایرانی اپنے گھروں کی گہری صفائی کرتے ہیں۔
یہ محض گرد جھاڑنا نہیں بلکہ روح اور ماحول سے "پرانی یادوں اور تلخیوں" کو نکالنے کی علامت ہے۔
سال کے آخری بدھ کی رات لوگ آگ جلاتے ہیں اور اس کے اوپر سے چھلانگ لگاتے ہیں۔
یہ "زردیِ من از تو، سرخیِ تو از من" (میری بیماری اور زردی تجھے ملے، تیری تندرستی اور لالی مجھے ملے) کہنے کی قدیم روایت ہے۔
سرخ لباس اور سیاہ چہرے والا ایک روایتی کردار گلیوں میں گاتا اور ناچتا پھرتا ہے، جو بہار کی آمد کی خوشخبری دیتا ہے۔
جشن کے تیرہویں دن لوگ گھروں سے باہر نکل کر پارکوں اور پہاڑوں کا رخ کرتے ہیں، کیونکہ تیرہ کا ہندسہ منحوس سمجھا جاتا ہے اور اسے فطرت کی آغوش میں گزار کر "نحوست" کو دور کیا جاتا ہے۔
سادگی اور جوش
پاکستان کے شمالی علاقوں بالخصوص بلتستان، غذر، ہنزہ اور نگر میں نوروز کو ایک مذہبی اور ثقافتی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے، جہاں اسے "ٹیکا" یا نئے سال کا آغاز کہا جاتا ہے۔
گلگت بلتستان انڈوں کو رنگنا اور پھر ان کا مقابلہ کروانا ایک مقبول روایت ہے۔ بچے اور بڑے رنگین انڈوں کے ساتھ ایک دوسرے کو چیلنج کرتے ہیں، جو زندگی کی نئی شروعات کی علامت ہے۔
اس دن ہر خاندان کم از کم ایک نیا پودا ضرور لگاتا ہے۔ یہ عمل اس خطے کی فطرت سے محبت اور ماحولیاتی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔
گلگت اور اسکردو میں نوروز کے موقع پر پولو کے خصوصی میچز منعقد ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ "تیر اندازی" کے مقابلے بھی اس جشن کا لازمی حصہ ہیں۔
یہاں "پراپو" (ایک روایتی ڈش) اور مختلف قسم کے نان تیار کیے جاتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں مٹھائیاں اور خشک میوہ جات تقسیم کرتے ہیں۔
نوروز ایران میں ایک عظیم الشان "قومی تہوار" ہے جبکہ گلگت بلتستان میں یہ "فطرت اور محبت" کا سادہ مگر پرجوش جشن ہے۔
دونوں جگہوں پر مشترک بات یہ ہے کہ یہ دن دشمنیوں کو ختم کرنے اور نئے سرے سے جینے کا حوصلہ دیتا ہے۔

Comments