بھائی چارے کی مثال اور معاشی حقیقت کا امتحان سعودی عرب اور پاکستان۔
---روما محمود---
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر اسی پرانے دائرے میں گھوم رہی ہے جہاں سے نکلنے کا راستہ ہر بار خلیجی ممالک، خاص طور پر سعودی عرب کی طرف مڑ جاتا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کے سامنے آٹھ رسمی درخواستیں پیش کی ہیں، جن کا مجموعی حجم تقریباً 15 ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔
ان میں سب سے اہم دو مطالبات ہیں۔
موجودہ 5 ارب ڈالر کے مختصر مدتی ڈپازٹس کو 10 سالہ طویل مدتی سہولت میں تبدیل کرنا، اور 1.2 ارب ڈالر کی تیل کریڈٹ سہولت کو بڑھا کر 5 ارب ڈالر کرنا، ساتھ ہی ادائیگی کی مدت میں توسیع۔
دیگر درخواستوں میں ریمیٹنسز کی سیکیورٹائزیشن، سوکک بانڈز کی ضمانتیں، اور سرمایہ کاری کے مواقع شامل ہیں جو ذخائر کو مستحکم کرنے اور آئی ایم ایف کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
یہ خبر کوئی نئی نہیں ہے، بلکہ ایک تسلسل ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان سعودی عرب سے مالی امداد، ڈپازٹس رول اوور، اور تیل کی سہولتوں پر انحصار کرتا آیا ہے۔
2018 میں سعودی عرب نے 6 ارب ڈالر کی پیکج دی تھی، پھر 2023-24 میں رول اوور اور نئی سہولیات کا سلسلہ چلا۔ اب 2026 میں، جب علاقائی تناؤ (امریکہ-اسرائیل-ایران تنازع) کی وجہ سے عالمی معیشت اور تیل کی سپلائی پر دباؤ بڑھ رہا ہے، پاکستان کے لیے یہ امداد نہ صرف معاشی بلکہ جغرافیائی سیاسی اہمیت بھی رکھتی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ امداد پاکستان کی معاشی بیماری کا علاج ہے، یا صرف عارضی درد کش؟
سعودی عرب نے ماضی میں کئی بار امداد دی، مگر ہر بار اس کے ساتھ اصلاحات کی شرطیں بھی منسلک ہوتی رہی ہیں۔ اب جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان "وژن 2030" کے تحت اپنی معیشت کو تیل سے آزاد کرنے اور سرمایہ کاری کو کمرشل بنیادوں پر کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں، تو پاکستان کی درخواستوں کا جواب شاید اتنا سادہ نہ ہو۔
سعودی عرب اب "گرنٹس" اور "سستے قرضوں" کی بجائے "بینک ایبل" منصوبوں، جوائنٹ وینچرز، اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر زور دے رہا ہے۔
10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی خواہش کا اعلان ہو چکا ہے، مگر اس کے لیے پاکستان کو قابل اعتماد معاشی اصلاحات، شفافیت، اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال تشویشناک ہے۔ ذخائر کم ہیں، بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، آئی ایم ایف کے پروگرام کی تیسری جائزہ کا انتظار ہے، اور علاقائی جنگ کی وجہ سے تیل کی سپلائی لائنیں متاثر ہو سکتی ہیں (جیسے ہرمز آبنائے کی بندش کے بعد یانبو پورٹ سے متبادل راستہ مانگنا)۔
ایسے میں سعودی عرب سے طویل مدتی سہولیات حاصل کرنا ایک سانس لینے کا موقع فراہم کر سکتا ہے، مگر یہ موقع بھی ضائع ہو سکتا ہے اگر اسے ساختی اصلاحات کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا "اسٹریٹجک پارٹنر" ہے، نہ کہ "بینک"۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تاریخی، اور دفاعی رابطے مضبوط ہیں (حالیہ میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ اس کی تازہ مثال ہے)۔
لیکن سعودی قیادت اب اپنے مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔
اگر پاکستان اصلاحات میں سنجیدہ نہ ہوا، تو امداد ملنے میں تاخیر یا شرائط سخت ہو سکتی ہیں۔
آخر میں، یہ 15 ارب ڈالر کی درخواست صرف ایک مالی معاملہ نہیں، بلکہ پاکستان کی خارجہ اور معاشی پالیسی کا امتحان ہے۔
کیا ہم خلیجی ممالک پر انحصار جاری رکھیں گے، یا خود کفیل معیشت کی طرف قدم بڑھائیں گے؟ جواب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ سعودی عرب شاید مدد کرے، مگر حقیقی نجات پاکستان کی اپنی کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔

Comments